
نوے کی دہائی کے بعد ٹیکنالوجی نے جہاں ہر چیز کو ہلا کر رکھ دیا وہاں موسیقی بھی اس تبدیلی سے محفوظ نہ رہ سکی۔ موسیقی کا سفر کیسٹ سے لے کر ڈی وی ڈی، پھر یو ٹیوب سے ہوتا ہوا ٹک ٹاک ، انسٹا اور سپوٹی فائی کی دنیا تک پہنچ گیا۔
نوے کی دہائی اور اس سے پہلے کے بہت سارے سریلے سنگرز، مشہور پاپ سنگرز، اور میوزک بینڈز گمنامی اور زمانے کی تیزی میں ایسے گم ہوئے کہ آج کی جین زی ان سریلے لوگوں کے نام تک نہیں جانتی اور نہ ہی ان کے سریلے میوزک کا پتا ہے ان کو۔
لیکن حیرت انگیز طور پر ایک آواز ایسی رہی جو جنون بینڈ کے دور میں بھی گونجتی رہی، عاطف کے دور میں بھی مقبول رہی، ہنی سنگھ اور سدھو موسے والے کے دور میں اور آج کے جین زی کے عاصم اظہر کے دور میں بھی یہ آواز سوشل میڈیا پر وائرل ہوتی رہتی ہے۔
اس آواز نے ٹھیک ہی گایا تھا کہ “گائے گی دنیا گیت میرے”۔ اب نورجہاں کی گائیکی کی اس دور میں بھی وائرل ہوتے رہنے کی وجہ کیا ہے ۔ اس کی کچھ وجوہات کا پچھلے کچھ سال کو ذہن میں رکھ کر جائزہ لیتے ہیں۔ ۔۔۔
پچھلے کچھ سالوں سے غزل گائیکی آج کی نسل میں ایک بار پھر مقبول ہو رہی ہے۔ نورجہاں کی غزلیں جو ماسٹر نذر حسین نے بنائی تھیں وہ اتنی مسحور کن اور زمانے سے آگے کی ہیں کہ آج کی نسل کو بھی پسند آتی ہیں۔ان غزلوں میں سے ایک کی مثال لیتے ہیں۔
“نیت شوق بھر نہ جائے کہیں” یہ غزل کبھی آج کل کے دور کی سریلی آواز سنیہا شنکر نے گنگنائی تو کبھی انڈیا کی میلوڈی کوئین شریا گوشال نے گائی۔ اسی طرح پاکستان میں شائی گل، علی سیٹھی، اور سجل علی بھی اس کو گاتی نظر آتی رہیں۔ اس طرح ان لوگوں کے فینز بھی اس غزل سے متعارف ہوتے چلے گئے۔ اب انسٹا ہو یا ٹک ٹاک ، آج کل کے بے شمار نوجوان گٹار پکڑے اپنے سٹوڈیوز میں بیٹھےاس غزل کو گا کر نورجہاں کو ٹریبیوٹ دینے کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں۔۔
نورجہاں کی موسیقی کے وائرل ہونے کی ایک اور وجہ ان کے پنجابی گیت ہیں۔ ان گیتوں میں ورائٹی ہی اتنی ہے کہ ہر مزاج کے بندے کو اس کی پسند کا گیت مل جاتا ہے۔ مثلاً “نہر والے پل تے بلا کے” اس گیت کو پاکستان اور انڈیا کے بہت سارے لوگوں نے گایا ہے۔ کبھی نوراں سسٹرز نے تو کبھی ستندر سرتاج نے، کبھی روش رباب نے توکبھی میشا شفیع نے ، یہ گیت کبھی پرانا نہیں ہوا۔
اسی طرح “اکھ لڑی بدو بدی” گانے پر چاہت فتح علی پر بہت تنقید ہوئی مگر اس کی وجہ سے اوریجنل گیت کی ریٹنگ چار ملین سے بڑھ کر سولہ ملین تک پہنچ گئی۔ ایسے ہی کچھ ماہ پہلے لاہور میں گاڑی میں نورجہاں کا گیت “جھانجر دی پاواں جھنکار” لگانے پر ایف آئی آر ہو گئی جس کی وجہ سے یہ گیت جین زی میں ایسا وائرل ہوا کہ کئی دن تک ریلز میں یہی گیت گونجتا رہا اور لوگ اس پر ویڈیوز بناتے رہے۔
جین زی نے ایک اور تجربہ کیا نورجہاں کی گائیکی پر۔ نورجہاں کے گیت “ہولی جئی لینا میرا ناں” اور سدھو موسے والے کے گیت “جدوں خبراں تے آندا تیرا ناں” کو ری مکس کر اپ لوڈ کر دیا۔ یہ چیز اتنی پسند کی گئی کہ نورجہاں کے بہت سے گیتوں کو سدھو اور بوہیمیاں کے گانوں کے ساتھ ری مکس کیا جارہا ہے اور ان کے ویوز ملینز تک ہوتے ہیں اس کی ایک وجہ نورجہاں کی آواز کی مخصوص کھنک ہے جو ماضی کی یا موجودہ کسی آواز میں نہیں محسوس ہوتی۔
اسی طرح انڈیا کا موسیقی کا پروگرام وائس آف پنجاب ہو یا پاکستان کا پروگرام پاکستان آئیڈل، ان میں ہر قسط میں نورجہاں کا گیت ضرور گایا جاتا رہا ہے۔ نورجہاں کی گائیکی کا موازنہ کسی دوسری پلے بیک سنگرز سے نہیں بنتا کیوں کہ ان کی گائیکی میں ورائٹی اور تنوع بہت ہے۔ اردو فلمی گیت پسند کرنے والوں کے لئے بھی نورجہاں کے فلمی کلاسیک گیت موجود ہیں، اور عوامی مزاج کے پنجابی اور اردو گیت بھی، اساتذہ کی کلاسیک غزلیں بھی، اور ملی نغمے اور جنگی ترانے بھی ، قلندری دھمالیں بھی اور سیمی کلاسیکل ٹھمریاں بھی ۔ اور موازنہ کرنا بھی ہو تو پھر یہ بات بھی ذہن میں رکھنی چاہیے (اور اس بات کو موازنہ کرنے والے بھول جاتے ہیں )کہ نورجہاں صرف سنگر نہیں تھیں وہ چائلڈ سٹار کے طور پر اور پھر ہیروئن کے طور پر بطور اداکارہ بھی ایک لمبی اننگز کھیل چکی ہیں۔
ان کی کلاس الگ تھی اور اس کلاس میں چند لوگ ہی ہیں جیسے بیگم اختر، کانن دیوی، مختار بیگم، ثریا جمال، خورشید بانو اور نورجہاں۔
نورجہاں کے سو سال:
ملکہ ترنم نورجہاں کی سوویں سال گرہ گزری ۔ اگرچہ ان کی تاریخ پیدائش 23 ستمبر بھی ملتی ہے مگر ان دنوں تاریخ پیدائش کے ایسے گڑبڑ گھٹالے عام تھے۔ ان کی سوویں سال گرہ اگر تین دن منائی جاتی رہے تو بھی حرج نہیں۔
بچپن میں ہمارے گھر میں ایک کیسٹ ہوتی تھی جس میں سیک طرف “انمول گھڑی” اور دوسری طرف “جگنو” فلم کے گانے تھے۔ ان میں سریندر اور ثریا کے گیت بھی تھے۔ جادو کا وہ ڈبہ بھی عجیب لگتا تھا جس سے یہ آوازیں برامد ہوتی تھیں۔ کیسٹ بدلنے اور کیسٹ پھنس جانے پر اس کی ٹیپ ٹھیک کر کے پنسل یا چیچی انگلی ٹیپ لپیٹی جاتی تھی۔
پھر ٹی وی پر پروگرام ترنم آتا تھا۔ میں نے اپنے بچپن میں دو گلوکار اپنے لیے پسند کر لیے تھے: عالمگیر اور ناہید اختر۔ انھیں دنوں چھوٹے چچا ہمارے گھر رہنے آئے۔ وہ نورجہاں کے حتمی قسم کے فین تھے۔ انھوں نے نورجہاں کے شوخ پنجابی گانوں کی کیسٹیں بجانا شروع کیں۔ یوں میں بھی نورجہاں کا مداح ہو گیا۔
نورجہاں کے ساتھ اب ایک عمر بتائی ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ ان کی آواز خراب ہو گئی تھی۔ مجھ سے تو کوئی ہوچھے کہ “صدا ہوں اپنے پیار کی” اور “سونے دی تویتڑی” میں سے زیادہ رسیلا گیت کون سا ہے تو میں فیصلہ نہیں کر پاوں گا۔ ذرا “جواں ہے محبت” کی آواز یاد کیجیے۔ تب سے چالیس سال بعد ترنم میں ماسٹر نذر حسین کی کمپوزیشن میں ناصر کاظمی لی دو غزلوں تک آئیے تو آواز میں آپ کو تبدیلی تو ملے گی لیکن رس میں اضافہ ہی ملے گا۔ غزل یا گیت مئں جب وہ تان لگاتی ہیں تو حد کمال تک پہنچ جاتی ہیں۔
ایک اور چیز جو ان کے ہاں ملتی ہے وہ آشا کے علاوہ کسی میں نہیں اور وہ ہے زندگی کے ہر رنگ، ہر موڈ کا گانا۔ مسرت اور غم کو وہ یک ساں مہارت سے صدابند کرتی تھیں۔ میری چیچی دا چھلا ماہی لاہ لیا کہ شوخی دیکھیے اور “میں نے پیار کیا دکھ پایا” کی اداس تان دیکھیے۔ ایک عظیم پلے بیک سنگر اور کیا ہوتا ہے؟ یہی تنوع، یہی ورائٹی تو چاہیے ہوتی ہے اس کے ہاں۔ جو لوگ پنجابی نہیں سمجھتے وہ نورجہاں کے سنگیت کا پورا لطف اٹھانے سے اسی طرح محروم ہیں جیسے غالب و اقبال کی صرف اردو شاعری کا لطف لینے والے ان کی فارسی شاعری سے محروم ہیں۔
اور پھر غزل۔ علیم کی تیرے پیار میں رسوا ہو کر، غالب کی “میں ہوں مشتاق جفا” (جو میں نے پہلی بار آرٹس کاونسل میں خلیق ابراہیم خلیق کی غالب پر ڈاکیومینٹری میں دیکھی اور سنی تھی)۔ ناصر کاظمی کی دو غزلیں، نیت شوق اور دل دھڑکنے کا سبب تو میں نے سیکڑوں بار سنی ہوں گی۔ دونوں غزلوں کی دھن نذر حسین نے مختلف بنائی ہے اور نورجہاں نے کمال کر دیا ہے۔
ایک اور خصوصیت ایسی ہے جو آشا میں تو دور برصغیر کی کسی اور گلوکارہ میں نہیں۔ یا اگر ہے بھی تو اس کے گائے ہوئے ہر گیت میں نہیں ہو گی اور وہ یہ ہے کہ نورجہاں گاتے ہوئے جتنی حسین لگتی تھیں، جیسا ان کے چہرے پر نور اور سرور آ جاتا تھا ویسی حسین کوئی گلوکارہ نہیں لگی اور یہ حسن تب اور بھی زیادہ ہو گیا جب ان کی عمر پچاس برس سے متجاوز ہو چکی تھی۔