وہ واقعہ کہ جب قائداعظم کی بیٹی نے پسند کی شادی کی تھی۔۔۔

جب جناح کو اپنی 19 سالہ بیٹی کے ایک مسیحی لڑکے سے محبت کا پتہ چلا تو انہیں دھچکہ لگا اور وہ اپنی بیٹی کو سمجھاتے ہوئے کہنے لگے۔۔۔
” کیا تمہیں لاکھوں مسلمان نوجوانوں میں سے کوئی شادی کے لیے نہیں ملا ؟

جس پر دینا جناح نے جواب دیا۔۔۔
“آپکے لئے بھی لاکھوں مسلمان لڑکیاں تھی لیکن آپ نے شادی پھر بھی ایک پارسی لڑکی سے ہی کی”

محمد علی جناح کی اکلوتی اولاد دینا جناح 15 اگست 1919 کو لندن میں پیدا ہوئی تو اسکو ورثے میں باپ کا گجراتی تجارتی تجربہ اور ماں کی طرف سے بمبئی کے اشرافیہ کا شاہانہ اسلوب ملا اور ابتدائی تعلیم کانونٹ سکول اور پھر لندن سے ہی مکمل کی لیکن دینا جناح کو ابتدائی سالوں میں اس کی ماں رتن بائی نے ہی سنبھالا کیونکہ اس وقت جناح اپنے سیاسی مستقبل میں انتہائی مصروف تھے جس کی وجہ سے ان کی اپنی بیوی سے لڑائی بھی ہونے لگی اور تکنیکی طور پر جناح اور رتن بائی 1927 میں الگ ہوگئے تو رتن بائی اپنی بیٹی کے ساتھ زیادہ تر تاج محل ہوٹل بمبئی میں قیام پذیر رہی اور 1929 میں جب انکا انتقال ہوا تو دینا جناح کی زمہ داری باپ کو ملی تو باپ بدل گیا اور بیٹی کی پرورش میں جت گیا اور جناح پیار سے بیٹی کو ” گرے وولف (خاکی بھیڑیا ) پکارتے تھے۔
سال 1938 میں جب دینا جناح 19 سال کی بمشکل تھی تو انکو نیویل واڈیا نامی امیر ترین صنعت کار سے پیار ہوگیا جو باپ کی طرف سے پارسی اور ماں کی طرف سے مسیحی تھا اور کہا جاتا ہے کہ وہ بعد میں باقاعدہ پارسی مذہب سے مسیحی مذہب میں منتقل ہوا تھا۔
خیر جب جناح کو اپنی بیٹی کی خواہشات کا پتہ چلا تو انہوں نے شدید مخالفت کی اور جناح نے یہ کہا کہ تمہیں لاکھوں مسلمانوں میں سے کوئی شادی کے لیے نہیں ملا ؟
تو بیٹی نے اپنی ماں کی جناح سے پسند کی شادی کو دلیل بناکر ہندوستان کے قابل ترین وکیل کو لاجواب کرتے ہوئے ایک مسیحی نیول واڈیا سے ممبئی کے آل سینٹ چرچ میں شادی کرلی اور اس شادی کا جناح کو سیاسی طور پر خاصہ نقصان بھی پہنچا تھا۔
بعض لوگوں کے خیال میں یہ پارسی اشرافیہ کا جناح کی رتن بائی سے شادی کا ایک بدلہ تھا جو کامیابی سے پورا کیا گیا۔
دینا جناح اب دینا واڈیا بن گئی اور انکے والد سے تعلقات کشیدہ ہوگئے اور انہیں سالوں میں انکے ہاں ایک بیٹے نوسلی واڈیا اور بیٹی ڈیانا واڈیا کی پیدائش ہوئی اور صرف پانچ سال میں ہی 1944 میں دینا واڈیا شوہر سے الگ ہوگئی حلانکہ انکی قانونی طلاق کبھی نہیں ہوئی لیکن یہ پھر کبھی بھی اکھٹے بھی نہیں ہوئے۔
جناح کے اپنے داماد کے ساتھ تعلقات تو کبھی بھی نہ چل سکے لیکن جب بیٹی سے صلاح ہوئی بھی تو تلخی برقرار رہی اور جناح اب اسے مسز واڈیا کہہ کر مخاطب کرتے تھے لیکن کبھی بھی بیٹی کی شادی کو قبول نہیں کیا۔
خیر 1947 میں ملک بنا تو جناح پاکستان کے بانی اور بیٹی انڈین شہری ہی رہی اور جب قائد اعظم محمد علی جناح کا انتقال ہوا تو ایک خصوصی جہاز دینا واڈیا کو ممبئی سے کراچی لایا اور یہاں انہوں نے اپنی پھوپھو کے ساتھ اپنے والد کی اخری رسومات میں شرکت کی۔

کہنے کو دینا واڈیا نے 98 سال کی عمر جی اور 2017 میں انتقال ہوا لیکن پہلی بار باپ کی آخری رسومات اور پھر دوسری مرتبہ 2004 میں پاکستان کا 84 سال کی عمر میں دورہ کیا تو ساتھ بیٹا نوسلی واڈیا اور پوتے جہانگیر واڈیا اور نیس واڈیا(آئی پی ایل کی ٹیم پنجاب گنگز کا مالک) کے ساتھ پاکستان بمقابلہ انڈیا میچ دیکھنے آئی تو باپ کے مزار پر بھی گئی اور مہمانوں کی کتاب میں لکھا۔۔۔۔
” یہ میرے لئے دکھ بھرا اور کمال تجربہ ہے، میری خواہش ہے انکے پاکستان کے لئے خواب اپنی تعبیر پائیں”.

بہت کم لوگ اس بات کو جانتے ہیں کہ جناح تقسیم کے بعد بھی ممبئی میں اپنے گھر ( جناح ہاؤس ) کو اپنی ملکیت میں ہی رکھنا چاہتے تھے اور چھٹیوں میں وہاں ہر سال جانا چاہتے تھے لیکن جب اسکو انڈین حکومت نے اپنے قبضے میں لیا تو اس کی ملکیت کے لیے دینا جناح نے حکومت کے خلاف مقدمہ لڑا اور بطور جناح کی وارث اپنا حق جتایا اور کہا کہ بجائے اسلامی املاک تقسیم طریقہ کار اسے ہندو وراثتی تقسیم کے طور پر حل کرتے ہوئے دینا جناح کے حوالے کیا جانا چاہیے کیونکہ جناح کا خاندانی پس منظر ایک ہندو کھوجا برادری سے تھا۔

مجھے خود یعنی قاسم سلیم کو بہت حیرت ہوتی ہے جب پڑھتا ہوں کہ گاندھی اور جناح دونوں ہی کو اپنی اولاد کی طرف سے دکھ اور صدمے ہی ملے۔
ڈسکلیمر:
یہ معلومات آن لائن ذرائع سے حاصل کی گئی ہیں اور صرف اور صرف معلوماتی مقاصد کے لیے پیش کی جا رہی ہیں۔ اس پوسٹ کا مقصد کسی فرد، ادارے، نظریے یا واقعے کے بارے میں حتمی رائے قائم کرنا یا کسی مخصوص نقطۂ نظر کی تائید کرنا نہیں۔ قارئین و سامعین سے گزارش ہے کہ وہ اس مواد کو اپنی صوابدید اور فہم کے مطابق دیکھیں

Leave a Comment