
ایک روز شاہ نور اسٹوڈیو میں ایک عجیب اور دلچسپ منظر نے سب کی توجہ کھینچ لی۔ وہاں دو عربی مہمان آئے ہوئے تھے جو آپس میں کسی بات پر الجھ پڑے اور ان کی بحث دیکھتے ہی دیکھتے گرما گرم جھگڑے میں تبدیل ہو گئی۔ دونوں اونچی آواز میں ایک دوسرے پر غصہ نکال رہے تھے اور آس پاس موجود لوگ خاموشی سے یہ تماشا دیکھ رہے تھے۔ اسی دوران وہاں پاکستان فلم انڈسٹری کے بے تاج بادشاہ اور لیجنڈ اداکار منور ظریف بھی موجود تھے، جو پوری توجہ اور سنجیدگی کے ساتھ اس لڑائی کو دیکھ رہے تھے۔ جب وہ غصے سے بھرپور اور طویل بحث تھمنے کا نام نہیں لے رہی تھی، تو منور ظریف سے رہا نہ گیا اور انہوں نے ایک ایسا جملہ کسا کہ وہاں کھڑا ہر شخص ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہو گیا۔ انہوں نے بے ساختہ کہا، “ادھر آؤ، ایناں کول کھلو کے آمین آمین کہندے رہو” ان کے اس برجستہ اور اچانک طنز پر ماحول کی ساری کشیدگی ایک لمحے میں قہقہوں میں بدل گئی، اور یہ صرف منور ظریف کا ہی انداز تھا جو سنجیدہ سے سنجیدہ ماحول کو بھی اپنی حاضر دماغی سے ہنسی میں بدل دیتے تھے۔
انسان یا تو لوگوں کو رلاتا ہے یا پھر اپنی زندگی کے اعمال اور گفتگو سے انہیں ہنساتا ہے۔ دنیا میں کسی کو رلانا سب سے آسان کام ہے کیونکہ اس کے لیے کسی خاص محنت یا عمل کی ضرورت نہیں ہوتی، بس منہ سے نکلا ہوا ایک غلط جملہ کسی کی عزت کو اچھال سکتا ہے، کسی کی روح کو زخمی کر سکتا ہے اور دل کو ٹکڑے ٹکڑے کر سکتا ہے۔ لیکن اس کے برعکس، لوگوں کے چہروں پر مسکان سجانا اور انہیں کھلکھلا کر ہنسانا صرف کسی باصلاحیت اور خدا داد صلاحیتوں کے مالک فنکار کا ہی کام ہوتا ہے۔ بہت کم ایسے لوگ ہوتے ہیں جو اپنی پہلی ہی فلم یا پہلے مقابلے سے دنیا بھر میں شہرت کی بلندیوں کو چھو لیتے ہیں، اور منور ظریف بھی انہی چند نابغہ روزگار ہستیوں میں سے ایک تھے۔
منور ظریف 25 دسمبر 1940 کو پیدا ہوئے۔ تاریخ گواہ ہے کہ دنیا میں جتنے بھی عظیم اور نامور لوگ گزرے ہیں، ان کی اکثریت کی پیدائش کا مہینہ دسمبر یا جنوری ہی رہا ہے۔ خاص طور پر دسمبر کا آخری عشرہ یعنی 20 سے 31 دسمبر کے درمیان تاریخ کے وہ درخشاں ستارے پیدا ہوئے جنہوں نے دنیا کا نقشہ بدل کر رکھ دیا۔ اسی 25 دسمبر کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش ہوئی، اسی مبارک دن بانیِ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح اس دنیا میں آئے، تین بار ملک کے وزیراعظم بننے والے نواز شریف بھی اسی تاریخ کو پیدا ہوئے، اور ٹھیک اسی دن 1940 میں منور ظریف کی پیدائش ہوئی۔ کائنات میں لاکھوں اور کروڑوں انسان پیدا ہوتے ہیں، لیکن قدرت خود ان میں سے کچھ چنیدہ لوگوں کو ایسے سازگار حالات اور مقامات عطا کرتی ہے جو انہیں امر کر دیتے ہیں۔
اگر انٹرنیٹ یا عام تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو یہ ذکر ملتا ہے کہ وہ چار بھائی تھے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ چار نہیں بلکہ پانچ بھائی تھے۔ ان کے سب سے بڑے بھائی محمد صدیق تھے جو فلم انڈسٹری میں ‘ظریف’ کے نام سے جانے جاتے تھے اور جن کی لاجواب جوڑی اداکارہ نظر کے ساتھ بہت مشہور تھی۔ وہ جوانی میں ہی اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔ ان کے بعد دوسرے نمبر پر منور ظریف تھے جن کا اصل نام محمد منور تھا۔ ان کے علاوہ تین چھوٹے بھائی رشید ظریف، مجید ظریف اور منیر ظریف تھے۔ ان کے والد ایک سرکاری افسر تھے اور گھر کے حالات اتنے زیادہ اچھے یا آسودہ نہیں تھے۔ بڑے بھائی کی ناگہانی موت کے بعد جب حالات نے پلٹا کھایا تو منور ظریف نے فلمی دنیا میں قدم رکھا اور محمد منور سے سفر شروع کرتے ہوئے ‘منور ظریف’ بن گئے۔ انہوں نے اپنے فنی سفر کا باقاعدہ آغاز صرف 21 سال کی عمر میں 1961 میں بننے والی فلم “ڈنڈیاں” سے کیا۔ ابتدا میں انہوں نے اپنے بڑے بھائی ظریف کے انداز، ان کی چال ڈھال اور مکالمہ بولنے کے اسلوب کی نقل کی، لیکن جلد ہی انہیں احساس ہو گیا کہ ایک فنکار کو اپنی الگ شناخت بنانی چاہیے۔ ان کی زندگی کا اصل اور تاریخی موڑ اس وقت آیا جب انہوں نے پنجابی فلموں کے مایہ ناز قلمکار اور شیکسپیئر کہلانے والے حسی قادری کے لکھے ہوئے مکالموں کے ساتھ فلم “ہاتھ جوڑی” میں کام کیا۔ اس فلم نے انہیں ایسا شاندار بریک تھرو دیا کہ وہ دیکھتے ہی دیکھتے فلم انڈسٹری کے صف اول کے اداکار بن گئے اور پھر کبھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔
اس کے بعد فلمی پردے پر ایک ایسی جوڑی نے جنم لیا جس نے تاریخ رقم کر دی؛ وہ تھی منور ظریف اور رنگیلا کی جوڑی۔ رنگیلا کی طبعی خد و خال اور منفرد شکل و صورت دیکھ کر ہی لوگوں کے چہروں پر ہنسی آ جاتی تھی، جبکہ اس کے مقابلے میں منور ظریف ایک نہایت خوبصورت، سمارٹ اور عام نوجوان تھے۔ لیکن جب یہ دونوں سکرین پر آتے اور منور ظریف اپنے اچانک اور برجستہ مکالموں سے وار کرتے تو سینما ہال میں بیٹھے تماشائی ہنسی سے پاگل ہو جاتے۔ حسی قادری کا قلم ان کے لیے مسلسل لکھتا رہا۔ ایک طرف فلم میں ہیرو اور ہیروئن کی روایتی جوڑی ہوتی تھی، تو دوسری طرف رنگیلا اور منور ظریف کی وہ لاجواب جوڑی ہوتی تھی جن کے درمیان اکثر ایک مستانی سی لڑکی ہوتی تھی (جس کا کردار زیادہ تر رضیہ نامی اداکارہ نبھاتی تھی)۔ یہ دونوں اس سے محبت کا ڈھونگ رچاتے، کبھی وہ دونوں کو بیوقوف بناتی، اور یہ سلسلہ ناظرین کے لیے تفریح کا طوفان لاتا رہا۔
منور ظریف صرف مزاحیہ کرداروں تک محدود نہیں رہے، بلکہ انہوں نے فلم “جیرا بلیڈ” میں باقاعدہ ٹائٹل ہیرو کے طور پر کام کر کے سب کو حیران کر دیا۔ ان کی فلم “بنارسی ٹھگ” نے کامیابی کے ایسے جھنڈے گاڑے کہ باکس آفس کے تمام ریکارڈ توڑ دیے۔ اس فلم کا ایک مشہور گانا اور اس میں منور ظریف کی لاجواب اداکاری آج بھی لوگوں کے ذہنوں میں محفوظ ہے۔ اسی طرح ان کی فلم “خوشیاں” ان کی اپنی اصل نجی زندگی کی عکاسی کرتی دکھائی دیتی ہے۔ فلم “نوکر وٹیڈا” ان کے کیریئر کی ایک اور ڈائمنڈ جوبلی فلم ثابت ہوئی جس کے ہدایت کار حیدر چوہدری تھے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ شروع میں ہدایت کار کو یہ ایک عام سی فلم لگی تھی اور انہوں نے اس کی سائیڈ یا حقوق معمولی منافع پر بیچ دیے تھے، لیکن جب یہ فلم سینما گھروں میں ریلیز ہوئی تو اس نے تاریخ کے تمام ریکارڈ توڑ دیے اور تقریباً 25 ہفتے تک کامیابی کے ساتھ چلتی رہی۔
1961 سے لے کر 1976 تک کے صرف 16 سال کے مختصر ترین عرصے میں منور ظریف نے تقریباً 300 فلموں میں کام کیا۔ ان کی مشہور فلموں کی طویل فہرست میں دامن اور چنگاری، شوکن میلے، بندے دا پتر، موج میلہ، چکر باز، بدتمیز اور جاں و نثار جیسی شاہکار فلمیں شامل ہیں۔ فلم “جانو کی پتی” میں انہوں نے ایک عورت کا ایسا کمال کا کردار نبھایا اور ایسا دلکش رقص کیا کہ وہ پاکستان فلم انڈسٹری کے پہلے ایسے ہیرو بن گئے جنہوں نے ڈانس میں بھی اپنی دھاک بٹھائی۔ اس فلم کی کامیابی کے بعد وہ کئی فلموں میں خواتین کے روپ میں نظر آئے، جن کا میک اپ، ملبوسات اور ہیئر اسٹائل وہ خود اپنے ہاتھ سے تیار کرتے تھے۔ یہاں تک کہ ان کی ایک تصویر کے نیچے ان کا یہ جملہ تاریخ کا حصہ بن گیا کہ “میں ڈرتا ہوں، میں اتنی بار عورت بنا ہوں کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ میری جنس ہی تبدیل ہو جائے!”
مگر افسوس کہ جو ستارہ آسمان پر جتنا زیادہ چمکتا ہے، وہ اتنی ہی جلدی غروب بھی ہو جاتا ہے۔ 29 اپریل 1976 کا وہ سیاہ دن تھا جب اس ہنستے مسکراتے اور کروڑوں دلوں کی دھڑکان منور ظریف کو اچانک دل کا شدید دورہ پڑا اور وہ صرف 36 سال کی جوانی میں اس فانی دنیا کو ہمیشہ کے لیے الوداع کہہ گئے۔ قدرت کا یہ کیسا انوکھا انصاف تھا کہ ان کے پانچوں بھائیوں میں سے کسی نے بھی بڑھاپا نہیں دیکھا اور سب جوانی کی دہلیز پر ہی اس دنیا سے کوچ کر گئے۔ ایورنیو سٹیوڈیو سے وابستہ ایک گمنام ڈائریکٹر ایک واقعہ سناتے ہیں کہ جب فلم جیرا بلیڈ بہت زیادہ ہٹ ہوئی تو منور صاحب اکثر اسٹیوڈیو آتے تھے لیکن اس فلم کے بعد ان کے گرد لوگوں کا ہجوم زیادہ ہونے لگ گیا۔ اس ہجوم میں میں بھی شامل تھا، لوگ مبارکباد دے رہے تھے، ان میں سے ایک دوست نے کہا کہ منور اب تیری پرواز اونچی جائے گی، تو اپنے بھائی کا نام بھی خوب روشن کرے گا۔ پتہ نہیں وقت کی نزاکت کہیں یا فی البدیع جملہ کہیں منور صاحب نے فوراً بے ساختہ کہا کہ نہیں مینوں لگدا اے کتھے میں وی پائی جی دی طرح جوانی اچ ای نہ چلے جاواں۔۔
ڈسکلیمر:
یہ معلومات آن لائن ذرائع سے حاصل کی گئی ہیں اور صرف اور صرف معلوماتی مقاصد کے لیے پیش کی جا رہی ہیں۔ اس پوسٹ کا مقصد کسی فرد، ادارے، نظریے یا واقعے کے بارے میں حتمی رائے قائم کرنا یا کسی مخصوص نقطۂ نظر کی تائید کرنا نہیں۔ قارئین و سامعین سے گزارش ہے کہ وہ اس مواد کو اپنی صوابدید اور فہم کے مطابق دیکھیں