مسلمان سے ہندو مذہب اختیار کر نیوالی نازیہ الہی کون ہیں؟

یہ لڑکی پیدا تو مسلمان گھرانے میں ہوئی لیکن چند روز قبل اسلام چھوڑتے ہوئے ہندو مذہب میں داخل ہوگئی تو ہندو دھرم میں ایک نیا مسئلہ کھڑا ہوگیا کہ اسے کس ذات میں شمار کیا جائے ؟

ایک گجر سیاستدان نند کشور گوجر نے انہیں اپنی منہ بولی بہن بول کر گجر حسب نسب دیا اور ہندو دھرم کی ذات میں داخل کیا کیونکہ اسکے بغیر انکی شمولیت ناممکن تھی اور اسکی وجہ نہایت دلچسپ ہے۔

دنیا کے دو مذاہب یہودی اور ہندو/ سناتن اپنے مذہب کی تبلیغ نہیں کرتے کیونکہ اگر کوئی ان مذاہب میں داخلہ ہونا بھی چاہیے تو انٹری آسان نہیں ہوتی۔ یہودی خاندانوں میں انبیا کی اولادوں کے حساب سے بٹے ہیں تو اسی وجہ سے اگر کوئی یہودی ہونا بھی چاہے تو اسے کسی یہودی خاندان یا قبیلے میں جگہ نہیں مل پائے گی کیونکہ وہ تعلق نسل کا ہے۔
یہی چیز ہندو دھرم میں، یہ جاٹ ، گجر اور راجپوت سمیت لاتعداد قبیلے ہندو دھرم کی درجہ بندی کا حصہ ہیں جو بتاتے ہیں آپکا تعلق کس درجے کی ذات سے ہوگا اور یہی ذاتیں آپکے سوشل سیٹس کا حصہ ہے۔
مثال کے طور پر کوئی یورپی باشندا ہندو دھرم قبول کرنا چاہیے تو اس کا جواب ہندو دھرم کے پاس نہیں ہے کہ اسے کس ذات میں شمار کیا جائے گا۔ ہندو دھرم کی سب سے نچلی ذات شودر تو یہ گورا ہونا پسند نہیں کرے گا اور براہمن اسے اعلیٰ ذات کا حصہ نہیں بنائیں گے اور درمیانی ذاتیں بھی میل ملاپ کو پسند نہیں کرتی اور یہی چیز آپکو ہمارے ہاں پاکستان میں بھی دیکھنے کو ملتی ہے۔
جہاں جاٹ برادری کی جاٹوں میں اور گجر اپنی شادیاں گجروں میں ہی کرتے ہیں۔

خیر اس لڑکی کا تعلق مغربی بنگال کے شہر کولکاتہ سے ہے اور نام نازیہ الہی خان ہے اور یہ اس وقت انڈیا کے مشہور وکیلوں میں شمار کی جاتی ہے جس نے 2017 میں ایک ہی وقت میں تین طلاقیں دینے کے فقہ حنفی فیصلے کو عدالت میں چیلنج کیا اور متاثرہ خاتون عشرت جہاں کا مقدمہ سپریم کورٹ تک لے کر گئی جہاں اعلی ترین عدالت نے بیک وقت تین طلاقوں کو غیر قانونی قرار دے دیا اور اس طرح ایک معمولی وکیل نازیہ الہی خان کو انڈیا بھر میں غیر معمولی شہرت ملی۔

گزشتہ چند دہائیوں سے انڈیا میں” گھر واپسی” کے نام کی مہم چل رہی ہے جس میں مسلمانوں اور مسیحیوں کو دوبارہ ہندو دھرم میں واپس لایا جا رہا ہے جس میں بھارتی جنتا پارٹی پیش پیش ہے اور اس کا موقف ہے یہ تمام لوگ ماضی میں ہندو تھے لیکن ان کے ابا و اجداد نے اسلام/ کرسچین قبول کر لیا تھا۔

نازیہ الہی خان گزشتہ دو سالوں سے اسلام اور مسلمانوں کے متعلق متنازعہ بیان دینے کے باعث لا تعداد ایف ائی ار کا سامنا بھی کر رہی ہیں۔
ان کے پاس بھارتی جنتہ پارٹی کا کوئی حکومتی یا جماعتی عہدہ نہیں البتہ یہ خود کو بھارتی جنتا پارٹی کا اقلیتی مورچے کا بڑا پلر قرار دیتی ہیں۔
مذہب کے انتخاب کا حق ہر شخص کا انفرادی اور ذاتی ہوتا ہے لیکن بعض عالمی تحقیقات کے مطابق خصوصا اقوام متحدہ کی حالیہ رپورٹ میں انڈیا میں مسلمانوں سے روار رکھے جانے والے غیر مناسب سلوک پر خاصی تنقید کی گئی ہے۔

اگر اسان الفاظ میں بتاؤں تو اب انڈیا میں مسلمانوں پر تبدیلی مذہب کا دباؤ تیزی سے بڑھتا جائے گا چاہے جنتا پارٹی کی حکومت رہے یا نہ رہے۔

Leave a Comment