
مظہر شاہ ۔۔۔۔
بڑھکوں کے بادشاہ، منفرد انداز کے قابل فخر اداکار ۔۔۔
(مظہر شاہ مرحوم کی 37 ویں برسی کے حوالے سے خصوصی تحریر)
اردو اور پنجابی فلموں میں حقیقت سے قریب تر اداکاری سے فن کا لوہا منوانے والے ایک مکمل فنکار مظہر شاہ کا اصل نام سید منور علی شاہ تھا، وہ 31 جنوری 1923 کو لاہور کے علاقے گوالمنڈی میں پیدا ہوئے، انہوں نے پنجابی فلموں میں بطور ولن ایک نیا انداز متعارف کرایا، مظہر شاہ نے کیرئیر کا آغاز اردو فلموں سے کیا اور 1958 میں پہلی فلم ”بے گناہ“ میں جلوہ گر ہوئے لیکن 1960 میں فلم بہروپیا اور رانی خان نے مظہر شاہ کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا۔
1963 میں ”موج میلہ“ ان کی اداکاری کی بڑی فلموں میں سے ایک تھی۔ وہ پاکستان کی پہلی پنجابی پلاٹینم جوبلی فلم ”جیدار“ میں مرکزی ولن تھے۔ چوڑیاں، ہتھ جوڑی، ملنگی (1965) اور جگری یار (1967) اکمل کے ساتھ ، ڈاچی، فرنگی، پگڑی سنبھال جٹا اور ماں پتر (1970) سدھیر کے ساتھ۔ پھنے خان، دل دا جانی، علاؤالدین کے ساتھ یار مار، موج میلہ، حبیب کے ساتھ مکھڑا چن ورگا، مرزا جٹ، اعجاز کے ساتھ انورا، بھٹی برادران کے ساتھ سجن پیارا اور جند جان بڑی فلمیں تھیں۔
مظہر شاہ نے چند فلموں میں مثبت کردار بھی ادا کیے جیسے ملنگی ، بابل دا وہیڑہ، دلاں دے سودے وغیرہ۔
ایک دور تھا جب پنجابی فلموں میں اکمل اور مظہر شاہ کی مشہور جوڑی نے شائقین کو اپنی گرفت میں لے رکھا تھا۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ مظہر شاہ وہ اداکار تھے جنہوں نے پنجابی فلموں میں بڑھک کی بنیاد رکھی۔ ان کی پہلی بڑھک جس نے زبردست شہرت حاصل کی فلم ”موج میلہ‘‘ کے حوالے سے تھی۔اس بڑھک کے الفاظ تھے۔ ”تیری لاش نوں مچھیاں ای کھان گیاں‘‘(تیر ی نعش کو مچھلیاں ہی کھائیں گی)۔
اور پھر ایک اور بڑھک ”جنہیں ساڈے نال متھا لایا، اوہدی ماں نے وین ای پائے نیں‘‘(جس نے ہمارے ساتھ ٹکر لی، اس کی ماں نے بین ہی کئے ہیں)۔ان کی مختلف فلموں دیگر مشہور بڑھکیں ۔۔۔۔
”اوئے میں نتھ پادیاں گا‘‘(میں ناک میں نکیل ڈال دوں گا)، فلم ”مکھڑا چن ورگا‘‘
”اوئے میں پٹھیاں پن دیا ں گا‘‘(میں لکڑیاں توڑ دوں گا)
”میں سانواں وچ ساں پاکے روح کھچ لا ں گا‘‘( میں سانسوں میں سانسیں ڈال کر روح نکال لوں گا) فلم ”جند جان‘‘ ”اوئے میں پھوڑیاں پا دیاں گا‘‘(میں صف ماتم بچھا دوں گا) فلم”شیراں دی جوڑی‘‘
”بندہ بنا دیساں‘‘(بندہ بنا دوں گا) فلم ”لنگوٹیا‘‘
” اوئے میں ٹبر کھا جاواں تے ڈکار نہ ماراں‘‘(میں خاندان کا خاندان کھاجائوں اور ڈکار نہ لوں)
مظہر شاہ کی فلموں میں مظلوم، خاندان، ماں پتر، غدار، فرنگی، ڈاچی، وارث شاہ، چوڑیاں، سسی پنوں سمیت دیگر نمایاں فلمیں ہیں، رن مرید، پنجاب دا شیر، ہتھ جوڑی، سر دا سائیں، ڈولی، جگری یار، پنڈ دی کُڑی، ملنگی اور دل دا جانی جیسی فلموں نے بھی خوب شہرت سمیٹی۔
اداکار مظہر شاہ 70 کی دہائی میں اپنی ذاتی فلم ’’محرم دل دا‘‘ میں اداکارہ رانی کے مدمقابل بطور ہیرو آئے مگر فلمی شائقین نے انہیں ولن کے روپ میں ہی دیکھنا چاہا، مظہر شاہ نے اپنی جاندار اداکاری کی بدولت متعدد ایوارڈز بھی اپنے نام کیے، باکمال اداکار 11 اکتوبر 1989 کو اپنے چاہنے والوں کو سوگوار چھوڑ کر اس دار فانی سے کوچ کر گئے۔
اللہ پاک ان کے درجات بلند فرمائے ۔ آمین
{مقبول احمد برفت}