زمین پر لگنے سے پہلے 12ویں منزل سے گرتی ہوئی بچی کو کیچ کرنے والے ڈیلیوری رائیڈر نگوین۔۔۔

چیخیں سن کر اس نے اوپر دیکھا تو ایک ننھی بچی بلند عمارت کی بالکونی کے باہر لٹک رہی تھی… اور اس کی گرفت کسی بھی لمحے چھوٹ سکتی تھی۔

یہ 28 فروری 2021 کی شام تھی۔ ویتنام کے دارالحکومت ہنوئی میں 31 سالہ ڈیلیوری ڈرائیور نگوین نگوک مانہ اپنی گاڑی میں بیٹھا سامان پہنچانے کا انتظار کر رہا تھا۔ اسی دوران اسے ایک بچے کے رونے اور لوگوں کے چیخنے کی آوازیں سنائی دیں۔ اس نے باہر جھانک کر اوپر دیکھا تو عمارت کی بارہویں منزل کی بالکونی کے باہر ایک کم سن بچی لٹکی ہوئی تھی۔ نیچے موجود لوگوں کی چیخیں اسی بچی کو دیکھ کر نکل رہی تھیں۔

مانہ فوراً گاڑی سے نکلا اور عمارت کی طرف دوڑ پڑا۔ راستے میں دیوار تھی؛ وہ اسے پھلانگ کر اس جگہ پہنچا جہاں بچی کے گرنے کا امکان تھا۔ وہاں جنریٹر رکھنے کی ایک چھوٹی عمارت پر دھاتی شیڈ موجود تھا۔ مانہ تیزی سے اس کی چھت پر چڑھ گیا، لیکن ڈھلوان ہونے کی وجہ سے وہاں قدم جما کر کھڑا ہونا مشکل تھا۔ پھر وہ لمحہ آ گیا جس کا سب کو خوف تھا۔ بچی کی گرفت چھوٹ گئی اور وہ نیچے گرنے لگی۔ اسی دوران مانہ کا توازن بھی بگڑا، لیکن اس نے آگے کی طرف جھک کر ہاتھ بڑھا دیے۔ اس کے ہاتھ بچی تک پہنچ گئے اور دونوں شیڈ کی چھت پر گرے۔ ضرب اتنی شدید تھی کہ دھاتی چھت میں گڑھا پڑ گیا۔

مانہ نے بعد میں بتایا کہ اس کے ہاتھوں نے بچی کے گرنے کی ضرب کچھ کم کی، جبکہ شیڈ کی چھت نے بھی انہیں سہارا دیا۔ اس نے فوراً بچی کو اپنے ساتھ لگائے رکھا تاکہ وہ اچھل کر چھت سے نیچے نہ گر جائے۔ بچی زندہ تھی۔ اسے فوری طور پر ہسپتال پہنچایا گیا، جہاں معلوم ہوا کہ اس کے کولہے کا جوڑ اتر گیا تھا۔ علاج کے بعد اس کی حالت بہتر ہونے لگی۔ 4 مارچ کو ویتنام کے سرکاری خبررساں ادارے نے ڈاکٹروں کے حوالے سے بتایا کہ بچی ہوش میں تھی، اس کی حالت مستحکم تھی اور اگلے روز اسے ہسپتال سے فارغ کرنے کی تیاری کی جا رہی تھی۔

مانہ کے بازو میں بھی موچ آئی تھی۔ اس نے بتایا کہ بچی کو دیکھ کر اسے اپنے گھر کے بچے یاد آ گئے تھے۔ واقعے کے بعد بھی وہ اس لمحے کو یاد کرکے کانپ رہا تھا۔ بچی کو مدد کے حوالے کرنے کے بعد وہ اپنا فون نمبر دیے بغیر وہاں سے چلا گیا تھا، لیکن خاندان نے اسے تلاش کرکے بچی کی خیریت بتائی۔ جب لوگ اسے ہیرو کہنے لگے تو اس کا کہنا تھا کہ وہ بس اچھا کام کرنا چاہتا تھا۔

اس بہادری پر ویتنام کے اُس وقت کے وزیراعظم نے مانہ کی تعریف کی اور اسے تعریفی سند دینے کا فیصلہ کیا۔ ہنوئی کی انتظامیہ نے بھی اس کے اقدام کو سراہا۔ سامان پہنچا کر روزی کمانے والا یہ شخص اس روز ایک اجنبی بچی کے لیے زندگی کا سہارا بن گیا۔ اس کی بہادری ان چند لمحوں میں تھی، جب اس نے خطرہ دیکھا، دوڑ لگائی اور ایک گرتی ہوئی زندگی کی طرف اپنے ہاتھ بڑھا دیے۔

Leave a Comment