
گھر چھوڑتے وقت انسان کو یہ تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ کہاں سے جا رہا ہے، مگر یہ معلوم نہیں ہوتا کہ پیچھے رہ جانے والوں سے دوبارہ ملاقات کب ہوگی… یہ کہانی دو ایسے جگری دوستوں کی ہے جن کی جوانی امرتسر کی تحصیل اجنالہ کے قریب ایک گاؤں میں گزری۔ ایک کی عمر تقریباً چودہ پندرہ سال اور دوسرے کی سترہ اٹھارہ سال تھی۔ پھر 1947ء آیا اور ان کی زندگی کا رخ بدل گیا۔ فسادات، خوف اور قریبی علاقوں سے حملوں کے خدشے نے انہیں اپنے خاندانوں سمیت آبائی گھر چھوڑنے پر مجبور کر دیا۔ جن جگہوں پر ان کا بچپن گزرا تھا، جہاں دوستیاں بنی تھیں اور جوانی کے دن شروع ہوئے تھے، وہاں سے اب جان بچا کر نکلنا ضروری ہو گیا تھا۔
ہجرت کے اس سفر کو یاد کرتے ہوئے ایک بزرگ بتاتے ہیں کہ مقامی لوگوں سے مدد مانگی گئی اور چون گاؤں کے لوگوں پر مشتمل ایک بڑا قافلہ پاکستان کی طرف روانہ ہوا۔ سرحد عبور کرنے کے بعد ان کا پہلا پڑاؤ ضلع شیخوپورہ کے علاقے مکھیاں اور اس کے آس پاس کے دیہات میں ہوا۔ وہاں کچھ عرصہ قیام کیا، پھر میاں چنوں کا رخ کیا کیونکہ وہاں ان کے کچھ رشتہ دار پہلے سے آباد تھے۔ اس کے بعد مڈھیاں والا میں اپنی سگی بہن کے پاس بھی پناہ لی۔ یہ مسلسل سفر اور ٹھکانے بدلنے کا زمانہ تھا؛ ایک جگہ پہنچتے تو اگلے پڑاؤ کی فکر سامنے ہوتی۔ اسی ہجرت اور افراتفری کے دوران دونوں دوستوں کا ساتھ چھوٹ گیا اور ایک دوسرے سے رابطہ ختم ہو گیا۔
یہ جدائی قیامِ پاکستان کے وقت ہونے والے فسادات، نقل مکانی اور بکھرتی ہوئی زندگیوں کے درمیان پیش آئی تھی۔ دونوں پاکستان پہنچ کر اپنی اپنی زندگی میں آگے بڑھتے رہے، لیکن ان کی مشترکہ جوانی اب ماضی کی ایک یاد بن چکی تھی۔ ایک بزرگ کے بیان کے مطابق، اس مشکل سفر میں ان کے خاندان کا کوئی فرد جان سے نہیں گیا اور والدین، بہن بھائی محفوظ رہے۔ بعد میں حکومت کی جانب سے زرعی زمین الاٹ ہوئی تو مستقل آباد ہونے کا موقع ملا۔ اپنا گھر اور روزگار دوبارہ قائم کرنے کے لیے کھیتی باڑی اور محنت کا سہارا لیا۔ یوں ہجرت کے بعد زندگی تو سنبھل گئی، مگر بچھڑے ہوئے دوست سے ملاقات کا سلسلہ بحال نہ ہو سکا۔
برسوں پر برس گزرتے گئے اور دونوں دوست الگ الگ اپنی محنت سے زندگی گزارتے رہے۔ گفتگو میں ایک بزرگ اپنی سادہ زندگی کا ذکر کرتے ہیں؛ کھیتی باڑی، خالص دودھ اور دیسی گھی جیسی خوراک ان کے معمول کا حصہ رہی۔ وہ اپنی اچھی صحت کو اسی سادہ رہن سہن اور خوراک سے جوڑتے ہیں۔ قائداعظم اور محترمہ فاطمہ جناح سے اپنی وابستگی کا بھی ذکر کرتے ہیں۔ ان کی باتوں میں ایک ایسے شخص کی زندگی سامنے آتی ہے جس نے ہجرت بھی دیکھی، اپنا گھر دوبارہ بسایا اور محنت کرتے ہوئے بڑھاپے تک پہنچا۔ اتنا طویل عرصہ گزرنے کے باوجود جوانی کے واقعات انہیں اب بھی یاد تھے۔
پھر قریب آٹھ دہائیوں کی جدائی کے بعد دونوں دوست دوبارہ ایک دوسرے کے سامنے آ گئے۔ اب وہ نوجوان نہیں رہے تھے، مگر باتیں شروع ہوئیں تو وہی پرانا گاؤں اور جوانی کے دن یاد آنے لگے۔ ملاقات کے دوران ایک دوست اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکا اور زار و قطار رونے لگا۔ اسی گفتگو میں انہوں نے جوانی کا ایک واقعہ یاد کیا، جب دونوں نے مل کر تقریباً بیس سے پچیس منٹ تک ایک جنگلی سور کا مقابلہ کیا تھا۔ کبھی جس واقعے میں وہ ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے تھے، آج بڑھاپے میں اسی کی یاد انہیں دوبارہ جوڑ رہی تھی۔ برسوں پہلے کا ساتھی سامنے بیٹھا تھا اور وہ دن، جو مدت سے صرف یادوں میں باقی تھے، دونوں کی گفتگو کا حصہ بن گئے تھے۔
اس ملاقات کو دیکھ کر ہجرت کے دکھ کا ایک اور پہلو سمجھ آتا ہے: گھر اور زمین کے ساتھ انسان اپنے دوستوں، پڑوسیوں اور روزمرہ کے ساتھیوں سے بھی بچھڑ جاتا ہے۔ نئی جگہ زندگی شروع ہو جاتی ہے، مگر پرانے تعلق کی جگہ باقی رہتی ہے۔ ان دو بزرگوں کی ملاقات میں خوشی کے ساتھ اتنی طویل جدائی کا دکھ بھی تھا۔ جوانی میں بچھڑنے والے دوست بڑھاپے میں ملے تو ایک دوسرے کے سامنے اپنے گزرے ہوئے دن یاد کر سکے۔ ان آنسوؤں میں اسی ساتھ کی قدر تھی جسے وقت اور حالات نے اتنے برس دور رکھا۔