
نام اس کا قسمت تھا، مگر بخت میں ایسی سیاہی لکھی تھی کہ درد بھی کانپ اٹھے۔ حنا بیگ، جو اسٹیج پر قدم رکھتے ہی قسمت بیگ بن گئی، سال 2006 سے محنت اور لگن کا کشکول لیے اسٹیج ڈراموں میں رقص کر رہی تھی۔ ایک طلاق یافتہ عورت، جس کے نازک کندھوں پر اپنی بوڑھی ماں، بہن اور معصوم بچوں کی پرورش کا بھاری بوجھ تھا۔ وہ اپنے ہی خون کا پیٹ پالنے کے لیے ہر شب اپنے غموں پر مسکراہٹ کا نقاب اوڑھ کر محفلیں سجاتی تھی۔ رفتہ رفتہ اس کی محنت رنگ لائی، شہر شہر اس کے فن کا ڈنکا بجا اور 2016 کے قریب وہ پنجاب ٹھیڑ انڈسٹری کی سب سے مہنگی اور مقبول پرفارمر بن گئی۔
مگر قسمت کی تقدیر کا اندھیرا لاہور سے فیصل آباد تک پھیلا ہوا تھا۔ فیصل آباد کا ایک اثر و رسوخ والا ڈرامہ پروموٹر اس کا پیچھا کر رہا تھا۔ کوئی کہتا تھا وہ اس سے شادی کا خواہاں تھا اور کوئی کہتا تھا وہ اسے زبردستی اپنے ڈراموں میں نچانا چاہتا تھا۔ ہمارے معاشرے کے فرعون صفت مردوں کی ایک تلخ حقیقت یہ ہے کہ ان کے لیے ایک عورت کا “انکار” ان کی انا پر ایسا تازیانہ ہوتا ہے جسے وہ برداشت نہیں کر پاتے، اور اس شخص کی انا بھی اس ایک انکار سے زخمی ہو گئی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ بھی کہا جاتا ہے کہ قسمت بیگ کی اس پروموٹر کے ساتھ ہیلو ہائے تھی اور کافی عرصے تک یہ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ رابطے میں بھی رہے۔ لیکن تلخی اس وقت بڑھی جب ان ‘رابطوں’ میں کمی آنے لگی اور کہیں اور ‘رابطے’ بڑھنے لگے۔ معروف ڈیجیٹل کرائم رپورٹر فرقان شاہ اس پر کچھ یوں تبصرہ کرتے ہیں کہ اسٹیج کی اداکاراوں اور فرنٹ لائن کے مداحوں کے درمیان رابطے بڑھنا ایک معمولی بات ہے، فرنٹ لائن میں بیٹھنے والے زیادہ تر سوکھے ہوتے ہیں اور ڈانسرز کو یہ سوٹ کرتا ہے کہ وہ اسٹیج کی کمائی کے علاوہ ان کے دوسرے خرچوں یعنی سوٹس، کپڑے، میک اپ کا دوسرا سورس بن جائے اور سب سے بڑھ کر انہیں سیکیورٹی بھی مل جائے۔ لیکن فرقان شاہ کہتے ہیں کہ وہ شخص یہ سہولیات تو دیتا ہی ہے لیکن بدلے میں سروسز کے علاوہ اس لڑکی کو اپنی پراپرٹی سمجھنا شروع کردیتا ہے۔ اصل مسئلہ یہاں سے ہی شروع ہوجاتا ہے۔ اب وہ شخص دنیا میں اکیلا تو نہیں ہوتا جو یہ خرچے اٹھا سکے اس سے کئی زیادہ امیر بھی ہوتے ہیں اور جب زیادہ امیر کی انٹری ہوتی ہے تو اس کا پتہ کٹ جاتا ہے جو اس سے برداشت نہیں ہوتا، کیوں کہ پراپرٹی کوئی نہیں چھوڑتا۔
پھر اسی انا کی وجہ سے وہ شخص نے پانچ لاکھ روپے کے عوض کرائے کے ق۔ا۔ت۔ل خریدے اور انہیں قسمت بیگ کے ق۔ت۔ل کا ٹارگٹ دیا۔ رات کے تین بجے، جب وہ دن بھر کی تھکن چہرے پر سجائے ڈرامہ ختم کر کے گھر لوٹ رہی تھی، ظالموں نے اس کی گاڑی کو گھیر لیا۔ حملہ آوروں نے اس کے جسم پر ت۔ش۔د۔د کرتے ہوئے گ۔و۔ل۔ی۔ا۔ں برسا دیں اور سفاکی سے بولے کہ “اب تم کبھی ناچ نہیں سکو گی۔” ان درندوں نے اس کے وجود پر دس سے بارہ گ۔و۔ل۔ی۔ا۔ں ماریں اور شدید ف۔ا۔ئ۔ر۔ن۔گ کی، جن میں سے چھ اس کے جسم کے نازک حصوں پر ماری گئیں۔ یوں محض 30 سال کی عمر میں، ایک خوبصورت، محنتی اور باہمت عورت، ایک مرد کی کھوکھلی اور سفاک انا کی بھینٹ چڑھ گئی۔
قسمت بیگ تو اس رات اسی ت۔ش۔د۔د اور ف۔ا۔ئ۔ر۔ن۔گ کے نتیجے میں ہمیشہ کے لیے سو گئی، پولیس نے ملزمان کو پکڑا بھی، مگر قصہ یہاں ختم نہیں ہوا۔ اس کی لاچار، مجبور اور بے بس ماں اور بہن نے ساٹھ لاکھ روپے کے خون بہا کے عوض ق۔ا۔ت۔ل۔و۔ں سے صلح کر لی۔ قانون کی گرفت ڈھیلی پڑ گئی اور تمام مجرم سرفراز ہو کر آزاد گھومنے لگے۔ قسمت بیگ کے ل ہو کا سودا ہو گیا اور وہ خاموشی سے منوں مٹی تلے جا سوئی۔ یعنی وہ بندہ آج بھی زندہ ہے، قسمت بیگ کے لواحقین بھی زندہ ہیں اور معاملہ ختم ہوچکا ہے
ڈسکلیمر:
یہ معلومات آن لائن یوٹیوب فیس بک ذرائع سے حاصل کی گئی ہیں اور صرف اور صرف آگاہی و معلوماتی مقاصد کے لیے پیش کی جا رہی ہیں۔ اس پوسٹ کا مقصد کسی فرد، ادارے، نظریے یا واقعے کے بارے میں حتمی رائے قائم کرنا یا کسی مخصوص نقطۂ نظر کی تائید کرنا نہیں۔ قارئین و سامعین سے گزارش ہے کہ وہ اس مواد کو اپنی صوابدید اور فہم کے مطابق دیکھیں۔ ناشر پر اس پوسٹ سے قارئین کی جانب سے کسی بھی قسم کی کوئی قانونی و اخلاقی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی