
یہ آخری آرام گاہ جو آپ دیکھ رہے ہیں، یہ پاکستان فلم، ٹی وی اور ریڈیو کے معروف گلوکار مسعود رانا کی آخری آرام گاہ ہے۔
مسعود رانا کو گلوکارِ اعظم اور پاکستانی محمد رفیع بھی کہا جاتا ہے۔ مسعود رانا 6 اگست 1941ء کو میرپور خاص میں پیدا ہوئے اور 4 اکتوبر 1995ء کو ٹرین میں سفر کرتے ہوئے انتقال کر گئے۔ ان کی آخری آرام گاہ لاہور میں ہے۔
گلوکار مسعود رانا نے بے شمار مقبول فلمی گیت گائے اور اپنی آواز کا جادو جگایا۔ ان کی آواز میں گائے گئے مشہور گیتوں میں “سجنا نے بوہے اگّے چِک تان لئی”، “تانگے والا ہیر منگدا”، “یاراں نال بہاراں”، “دل دیاں لگیاں جانے نہ”، “ملت کا پاسباں ہے محمد علی جناح”، “جاگ اٹھا ہے سارا وطن”، “کیا کہوں اے دنیا والو، کیا ہوا ہوں میں”، “تیری یاد آ گئی، غم خوشی میں ڈھل گئے”، “جھوم اے دل، وہ میرا جانِ بہار آئے گا”، “کھلے دل آج ہم گائیں گے” اور دیگر لاتعداد گیت خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔
مسعود رانا کی آواز میں جن مشہور فلموں کے گیت شامل ہوئے، ان فلموں میں دامن، چنگاری، بھرا میلا، احساس، دلاں دے سودے، عشق نچاوے گلی گلی، دل لگی، مرزا جٹ، دھی رانی، مکھڑا چن ورگا، بہاروں پھول برساؤ، دل میرا دھڑکن تیری، شرارت اور دیگر فلمیں شامل ہیں۔
مسعود رانا نے پاکستانی فلمی موسیقی کے سنہری دور میں اپنی منفرد آواز کے ذریعے ایک نمایاں مقام بنایا۔ ان کی آواز اور ان کے لازوال گیت آج بھی پاکستانی موسیقی کے شائقین کے دلوں میں زندہ ہیں۔
ہم گلوکارِ اعظم مسعود رانا کو ان کی بے مثال فنّی خدمات پر خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں۔ ان کی آواز اور لازوال گیت آنے والی نسلوں تک انہیں زندہ رکھی
پاکستانی فلمی موسیقی کا ذکر ہو اور مسعود رانا کا نام نہ آئے یہ ممکن نہیں۔ 9 جون 1938 کو میرپور خاص میں پیدا ہونے والا یہ بچہ جب بڑا ہوا تو اس کی آواز نے پورے پاکستان کو اپنا دیوانہ بنا لیا۔ انہوں نے 1955 میں ریڈیو پاکستان حیدرآباد سے آغاز کیا اور 1962 میں فلم انقلاب سے فلمی دنیا میں قدم رکھا۔
اصل شہرت انہیں فلم ڈاچی کے اس گیت سے ملی جس کا پہلا مصرعہ تھا
“ٹانگے والا خیر منگدا، ٹانگہ لہوری اے”
یہ گانا ایسا ہٹ ہوا کہ گلی گلی گونجنے لگا۔
1964 میں لاہور آنے کے بعد انہوں نے تین دہائیوں تک راج کیا۔ انہیں پاکستان کا محمد رفیع کہا جاتا تھا۔ ان کے چند امر گیت اور ان کے پہلے شعر آج بھی زبان پر ہیں۔
فلم آئینہ کا وہ لازوال گیت:
“تم ہی ہو محبوب میرے، میں کیوں نہ تمہیں پیار کروں”
فلم ہمراہی کی وہ نعت جو آج بھی دلوں کو جھنجھوڑتی ہے:
“کرم کی اک نظر ہم پر خدارا یا رسول اللہ”
فلم چاند اور چاندنی کا وہ رومانوی شاہکار:
“تیری یاد آ گئی، غم خوشی میں ڈھل گئے”
فلم دل میرا دھڑکن تیری کا یہ گیت:
“جھوم اے دل وہ میرا جانِ بہار آئے گا”
اور ان کا پنجابی سدا بہار گیت:
“سجناں نے بوہے اگے چک تان لئی، میں نئیں بولدی”
انہوں نے 550 سے زائد فلموں کے لیے 5000 سے زائد گیت گائے۔ 4 اکتوبر 1995 کو عارضہ قلب سے یہ عظیم گلوکار ہم سے جدا ہو گیا اور لاہور میں کریم بلاک قبرستان میں آسودہ خاک ہے۔ آواز خاموش ہو گئی لیکن یہ پہلے مصرعے آج بھی ہماری یادوں میں زندہ ہیں۔
اللہ پاک درجات بلند فرمائیں۔۔۔