وہ وقت کہ جب میڈم نورجہاں پر الزام لگا کہ انہوں کے لیجنڈ اداکارہ فردوس کا کیرئیر تباہ کیا۔۔۔

حقیقی زندگی میں تو کبھی بلند و بالا برج ٹکراتے شائد ہی کسی نے دیکھیں ہوں لیکن کچھ فیلڈز ایسی ضرور ہوتیں جہاں پر ایک ایک فرد پورے برج کی حیثیت اختیار کرجاتا ہے اور جب وہ کسی دوسرے ایسی ہی حیثیت والے فرد کا سامنا کرتا ہے اور مفادات خطرے میں پڑجائیں تو یہ برج آپس میں ٹکرا جاتے ہیں۔

یہاں مقصد کسی بھی طرح کی کوئی فلسفیانہ گفتگو کرنا نہیں 😂 یہاں بات ہورہی پاکستانی فلم انڈسٹری میں بروج کی حیثیت رکھنے والی دو بڑی فنکاراوں کی۔ نور جہاں اور فردوس بیگم۔

کہا جاتا ہے کہ فردوس بیگم کی انڈسٹری میں پہلے پہل ابتدائی 3 سے چار فلمیں لگاتار فلاپ ہوئیں جس میں فلم فانوس بھی شامل تھی۔ ان فلاپ فلموں کے بعد ایک ایسی فلم آئی جس میں فردوس بیگم کی قسمت کا ستارہ چمک اٹھا۔ وہ فلم تھی ملنگی۔ وہی ملنگی والا ڈائیلاگ۔ دن نوں راج فرنگی دا، تے رات نوں راج ملنگی دا
فلم میں ہیرو کا کردار ادا کرنے والے اکمل صاحب تھے جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ پہلے میک اپ آرٹسٹ تھے۔ یہ فلم سپر ڈپر ہٹ ثابت ہوئی اور فردوس بیگم کو بطور ہٹ اداکارہ تسلیم کرلیا گیا۔ اس شہرت کی ایک بڑی وجہ ان کی آن سکرین جوڑی تھی جو اکمل صاحب کے ساتھ تھی۔ جس کی وجہ سے کہا جاتا ہے کہ دونوں فنکار ایک دوسرے کے قریب آگئے۔ بعض لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ دونوں نے شادی بھی کی۔ اکمل بلکل منور ظریف ہی کی طرح اپنی شہرت کے کمال پر بالید عمر سے پہلے ہی انتقال کر گئے جس کا سب سے زیادہ صدمہ فردوس بیگم کو ہوا۔

پھر انٹری ہوتی ہے ایک اور جوڑی دار کی۔ اور یہ تھے فلمسٹار اعجاز۔ بہت سی فلمیں کیں۔ لیکن 1967 میں فلم مرزا جٹ نمائش کے لیے پیش ہوئی اور اس فلم نے بلکل ملنگی کی طرح بلکہ اس سے بھی بڑھ بزنس کیا۔ جہاں فردوس اور اعجاز کی جوڑی کامیاب رہی وہیں فردوس کی ایک جوڑی بھی تخلیق میں تھی اور وہ تھی ایک آواز۔ میڈم نور جہاں کی آواز اور اس آواز پر فردوس کی پرفارمنس۔

ان دونوں جوڑیوں کو امر کرنے والا سال آیا اور وہ تھا 1970 کا سال جب گولڈن ایوارڈ یافتہ فلم ہیر رانجھا ریلیز ہوئی۔ اس فلم نے بہت ہی ہیوی بزنس اور کامیابی حاصل کی۔ اس کے بعد فردوس بیگم کی اعجاز کے ساتھ جوڑی اور بیک وقت میڈم نور جہاں کے ساتھ جوڑی بھی فلم کی کامیابی کی ضمانت سمجھے جانے لگے۔ کہا جاتا ہے کہ اس بار بھی بلکل ویسا ہی ہوا جیسے اکمل صاحب کے ساتھ ہوا یعنی اعجاز اور فردوس قریب آنے لگے۔ یہ بھی کہا جانے لگا کہ دونوں فنکار کئی جگہ ایک ساتھ گھومنے پھرنے بھی جاتے تھے۔

کہانی کا ٹوسٹ یہاں آتا ہے کہ اس وقت اعجاز صاحب شادی شدہ تھے اور ان کی اہلیہ کوئی اور نہیں بلکہ میڈم نور جہاں تھیں۔ اس شادی سے ان کی تین بیٹیاں بھی ہوئیں۔ کہا جاتا ہے یہ شادی 1959 میں ہوئی تھی لیکن طلاق 1971 میں ہوئی۔ بلکل اسی عرصہ میں جب فردوس اور اعجاز کے بارے میں افواہیں سرگرم ہوچکی تھیں۔ اس طلاق نے ان افواہیں کو مزید جلا بخشی اور اس وقت یہ باتیں مزید جڑ پکڑ گئیں جب نور جہاں کی جانب سے ہر اس فلم سے انکار سامنے آنے لگا جس میں فردوس بیگم بطور ہیروئن کاسٹ ہوا کرتی تھیں۔

اسی طرح پرڈیوسرز ڈائریکٹرز کی جانب سے نور جہاں کے حکم نما فیصلے کی زیر اثر فردوس کی کاسٹنگ کے حوالے سے تحفظات سامنے آنے لگے اور یوں اداکارہ کو فلموں میں سائیڈ لائن کیا جانے لگا۔

یہ وہی دور تھا جب فیلڈ میں دیگر ہیروئنز جیسے آسیہ، ممتاز میں آچکی تھیں اور میڈم نور کے گانے ان پر پکچرائز بھی ہو رہے تھے اور ہٹ بھی ہو رہے تھے ۔
حالات اس نہج تک پہنچ گئے کہ وہی ہیروئن جس نے ہیر رانجھا جیسی فلم دی ہو کچھ عرصے بعد وہی ہیروئن فلم آنسو میں ماں کے کردار میں نظر آئی۔ فلم تو سپر ڈپر ہٹ رہی لیکن فردوس بیگم پر ماں کے رول کی چھاپ لگ گئی۔ کہا جاتا ہے کہ فلم انڈسٹری میں اسی واقعے کے بعد ایک محاورہ بن گیا کہ یہاں ہیروئن یا ہیرو اگر باپ یا ماں کا رول کرلے تو کیرئیر ختم شد۔

لیکن کمال کی بات یہ ہے کہ آج کے روز اگر دیکھا جائے تو نہ تو فردوس بیگم نہ اعجاز نہ ہی نور جہاں باقی رہے۔ تینوں مٹی تلے چلے گئے۔ ساری شہرت، ساری خوہشات ساری انا سارا پیسہ یہاں ہی رہ گیا۔ صرف مٹی کی ڈھیری کی نشانی باقی ہے جو بتاتی ہے کہ ہاں کوئی بہت بڑے نام تھے اب یہاں دفن ہیں۔

ڈسکلیمر:
یہ معلومات آن لائن ذرائع سے حاصل کی گئی ہیں اور صرف اور صرف تفریحی و معلوماتی مقاصد کے لیے پیش کی جا رہی ہیں۔ اس پوسٹ کا مقصد کسی فرد، ادارے، نظریے یا واقعے کے بارے میں حتمی رائے قائم کرنا یا کسی مخصوص نقطۂ نظر کی تائید کرنا نہیں۔ قارئین و سامعین سے گزارش ہے کہ وہ اس مواد کو اپنی صوابدید اور فہم کے مطابق دیکھیں

Leave a Comment