
ایک وائرل ویڈیو میں ایک شخص اپنا واقعہ بیان کرتے ہوئے بتاتا ہے کہ وہ ایک جگہ سے گوشت خریدنے گیا۔ وہاں ایک کتا موجود تھا جو اسے حسرت بھری نگاہوں سے دیکھ رہا تھا۔ اس شخص کو یوں محسوس ہوا جیسے وہ بے زبان اس امید میں اسے دیکھ رہا ہو کہ شاید یہ انسان اسے بھی گوشت کا کوئی ٹکڑا ڈال دے، شاید اس کی بھوک مٹانے کا سبب بن جائے۔
اس نے گوشت خریدا اور وہاں سے چلا گیا، لیکن اس کتے کی نگاہیں اس کے ذہن میں رہ گئیں۔ رات گزرتی رہی اور اسے بار بار وہی کتا یاد آتا رہا۔ ایک بے زبان کی بھوک کا خیال اسے اس قدر بے چین کرتا رہا کہ وہ سو نہ سکا۔
اگلے دن وہ دوبارہ اس کتے کو ڈھونڈنے گیا۔ اسے تلاش کیا، وہاں سے تازہ گوشت خریدا اور اسے کھلایا۔ اس شخص کے مطابق، تب جا کر اس کے دل کو سکون آیا۔ یہ واقعہ خوفِ خدا اور نرم دلی کے ایک خوبصورت احساس کی طرف توجہ دلاتا ہے۔ انسان کے اندر اپنے رب کے سامنے جواب دہ ہونے کا احساس ہو تو ایک بے زبان کی بھوک بھی اس کے دل پر اتنا گہرا اثر ڈال سکتی ہے کہ وہ واپس جا کر اس کے لیے کچھ کرنے پر آمادہ ہو جائے۔
جانور اپنی بھوک ہماری زبان میں بیان نہیں کر سکتے۔ وہ یہ نہیں بتا سکتے کہ انہیں کب سے کھانا نہیں ملا، اور نہ ہی اپنی ضرورت سمجھانے کے لیے ہمارے جیسے الفاظ رکھتے ہیں۔ ان کی نگاہیں اور ہمارے آس پاس ان کی موجودگی ہمیں موقع دیتی ہے کہ ہم ان کی ضرورت محسوس کریں، اپنی استطاعت دیکھیں اور ان کے لیے آسانی پیدا کریں۔
اس واقعے کا سب سے دل کو چھو لینے والا پہلو اس شخص کا اگلے دن واپس جانا ہے۔ اسے رات بھر ایک بھوکے جانور کا خیال آتا رہا، پھر اس نے اٹھ کر اسے تلاش کیا اور اس کی بھوک مٹائی۔ اس نے اپنے دل میں پیدا ہونے والے احساس کو ایک عملی نیکی میں بدل دیا۔
ہم بھی اپنی روزمرہ زندگی میں ایسے کتنے ہی مواقع سے گزرتے ہیں۔ کہیں کوئی جانور بھوکا ہوتا ہے، کہیں پیاسا۔ تھوڑا سا مناسب کھانا، صاف پانی کا ایک برتن اور چند لمحوں کی توجہ کسی بے زبان کے لیے بڑی راحت بن سکتے ہیں۔
اللہ ہمیں ایسا نرم دل عطا فرمائے جو اس کی مخلوق کی تکلیف محسوس کرے، اور ایسی توفیق دے کہ جب کسی کی مدد کا موقع ملے تو ہم قدم آگے بڑھا سکیں۔