
ساٹھ کی دہائی میں میاں نواز شریف کا خاندان ایک مڈل کلاس تھا یا امیر؟یہ میاں نواز شریف ہیں جن کے خاندان کے متعلق ایک عام تاثر یہ ہے کہ وہ جنرل ضیاء الحق کے دور میں اچانک امیر ہوئے۔ لیکن تاریخی ریکارڈ ایک مختلف کہانی سناتا ہے۔ نواز شریف کے والد میاں محمد شریف نے قیامِ پاکستان کے بعد لاہور میں لوہے کا کاروبار شروع کیا اور اپنی محنت سے اسے ایک بڑی صنعت میں تبدیل کردیا۔ 1962 میں لاہور کے علاقے کوٹ لکھپت میں اتفاق فاؤنڈری کا بڑا صنعتی یونٹ قائم ہوچکا تھا۔ ساٹھ کی دہائی گزرتے گزرتے شریف خاندان لاہور کے خوشحال صنعتی گھرانوں میں شمار ہونے لگا تھا۔ ستر کی دہائی کے آغاز تک اتفاق فاؤنڈری میں تقریباً دو ہزار ملازمین کام کرتے تھے، جہاں لوہے کی مصنوعات کے علاوہ ڈیزل انجن اور زرعی مشینری بھی بنتی تھی۔ پھر 1972 میں ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت نے اتفاق فاؤنڈری قومی تحویل میں لے لی۔ یوں حقیقت یہ ہے کہ نواز شریف کا خاندان سیاست میں آنے سے پہلے ہی صاحبِ ثروت تھا، اگرچہ بعد کے برسوں میں اُس کے کاروبار اور سیاسی اثرورسوخ میں مزید اضافہ ہوا۔