
ایک ایسے دور کی بات ہے جب پاکستان کے موسیقی اور فلمی گگن پر ایک نئے ستارے نے چمکنا شروع کیا تھا، جس کی آواز میں ایک ایسی جادوئی کشش تھی جو دلوں میں اترتی چلی گئی۔ ملتان کی گلیاں جہاں صوفی اور سروں کی خوشبو بستی ہے، وہیں سے تعلق رکھنے والی ناہید اختر نے اپنے فنی سفر کا آغاز ریڈیو پاکستان سے کیا تھا۔ بچپن اور جوانی کی اس دہلیز پر وہ اور ان کی بہن حمیدہ اختر ریڈیو کے مائیک کے سامنے بیٹھ کر جب سر بکھیرتیں، تو سننے والے دنگ رہ جاتے۔ پھر وہ وقت بھی آیا جب پاکستان ٹیلی ویژن کے مقبول ترین پروگرام ’’لوک تماشا‘‘ نے اس ہیرے کو دنیا کے سامنے لاکر چمکایا۔
اُسی پروگرام میں ناہید اختر کی جادو بھری آواز جب نامور موسیقار ایم اشرف کے کانوں میں پڑی، تو وہ دنگ رہ گئے۔ انہوں نے فوراً پہچان لیا کہ یہ آواز صرف ریڈیو یا ٹی وی تک محدود رہنے کے لیے نہیں بنی، بلکہ اسے تو فلمی سکرین کے بڑے کینوس پر راج کرنا ہے۔ اور یوں اٹھارہ اکتوبر سنہ انیس سو چوہتر کو عید کے بابرکت موقع پر ان کی پہلی فلم ریلیز ہوئی۔ گو کہ وہ فلم باکس آفس پر کامیابی کا کوئی بڑا جادو نہ جگا سکی، لیکن اس فلم کا ایک نغمہ ’’دل دل دیوانہ‘‘ ایسا جادو کر گیا کہ اس گیت نے ناہید اختر کے لیے لالی ووڈ کے دروازے ہمیشہ کے لیے کھول دیے۔
اس کے بعد کامیابیوں کا ایک ایسا طوفان آیا جس نے سب کو دنگ کر دیا۔ اسی سال فلم ’’شمع‘‘ کے لیے گایا گیا لازوال گیت ’’کسی مہرباں نے آکر میری زندگی سجا دی‘‘ اور اس سے اگلے برس کا وہ دل کو چھو لینے والا کلام ’’اللہ ہی اللہ کیا کرو‘‘ ناہید اختر کو پاکستانی فلمی صنعت کی ناگزیر ضرورت بنا گیا۔ اب ہر موسیقار اور ہدایت کار کی یہ خواہش ہوتی تھی کہ اس کی فلم میں ناہید اختر کی آواز کا جادو ضرور شامل ہو۔
ان کے گائے ہوئے گیت صرف نغمے نہیں تھے بلکہ روح کی تسکین بن گئے۔ فلم ’’فیصلہ‘‘ میں اخلاق احمد کے ساتھ ان کا سدا بہار دوگانا ’’آنکھوں میں پیار تمہارا‘‘، فلم ’’دلہن ایک رات کی‘‘ میں احمد رشدی کے ساتھ مدہوش کر دینے والی آواز میں ’’کہتی ہے رات بھیگی بھیگی‘‘، فلم ’’آواز‘‘ کا لازوال گیت ’’سجناں رے دکھا دے ہنس کے‘‘ اور فلم ’’شبانہ‘‘ میں ’’او جیٹھ جی آج میں‘‘ زبانِ زدِ عام ہو گئے۔ فلم ’’ناراض‘‘ میں محمد علی شہکی کے ساتھ وہ درد میں ڈوبا ہوا دوگانا ’’اپنوں بیگانوں سے ناراض ہوں‘‘، فلم ’’ان داتا‘‘ کا گیت ’’پیار کریں ہم آجا آجا‘‘ اور نامور ہدایت کار حسن طارق کی شاہکار فلموں ’’ثریا بھوپالی‘‘ اور ’’بیگم جان‘‘ کے بالترتیب سحر انگیز نغمے ’’تھا یقین آئیں گی یہ راتاں کبھی‘‘ اور ’’بیگم جان بھلا کیا جانے‘‘ نے تو سننے والوں کے دل جیت لیے۔
ان کے لازوال نغمات کی فہرست بہت طویل ہے؛ ’’یہ رنگینیٔ نوبہار‘‘، ’’میں ہوگئی دلدار کی‘‘، اور وطن کی محبت سے سرشار نغمہ ’’ہمارا پرچم‘‘ آج بھی کانوں میں رس گھولتے ہیں۔ لیکن ان کے تمام گیتوں میں جو شہرت اور مقبولیت کی انتہا تھی، وہ ان کا وہ سپر ہٹ گیت بنا جو بچہ بچہ کی زبان پر چڑھ گیا—’’تت تت تارا تارا‘‘۔
جب ان کا فن بلندیوں کو چھو رہا تھا اور ہر طرف ان کے ہی چرچے تھے، انہوں نے زندگی کا ایک اور بڑا فیصلہ کیا۔ معروف صحافی آصف علی پوتا کے ساتھ رشتۂ ازدواج میں منسلک ہونے کے بعد انہوں نے دنیائے شو بز کو خیرباد کہہ دیا اور اپنی گھریلو زندگی میں رچ بس گئیں۔ محبت اور رفاقت کا یہ سفر اس وقت ایک گہرے صدمے سے دوچار ہوا جب نو جولائی سنہ دو ہزار ستر کو آصف علی پوتا اس دارِ فانی سے کوچ کر گئے، اور ناہید اختر کی زندگی میں ایک خاموشی اتر آئی۔
پھر تیرہ فروری سنہ دو ہزار اٹھارہ کا وہ دن بھی آیا جب حکومتِ وقت، بالخصوص اس وقت کے وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے اس لیجنڈ فنکارہ کی لازوال فنی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے انہیں ایک کروڑ روپے کا اعزاز بخشا۔ ناہید اختر کی یہ کہانی صرف گیتوں اور فلموں کی کہانی نہیں ہے، بلکہ یہ اس آواز کی داستان ہے جو آج بھی لاکھوں دلوں میں زندہ اور ت و تازہ ہے۔
ڈسکلیمر:
یہ معلومات آن لائن ذرائع سے حاصل کی گئی ہیں اور صرف اور صرف تفریحی و معلوماتی مقاصد کے لیے پیش کی جا رہی ہیں۔ اس پوسٹ کا مقصد کسی فرد، ادارے، نظریے یا واقعے کے بارے میں حتمی رائے قائم کرنا یا کسی مخصوص نقطۂ نظر کی تائید کرنا نہیں۔ قارئین و سامعین سے گزارش ہے کہ وہ اس مواد کو اپنی صوابدید اور فہم کے مطابق دیکھیں