بارہ سال 90 ڈگری تک جھکی ہوئی گردن والی پاکستانی بچی افشین کا فری آپریشن کرنیوالے بھارتی ڈاکٹر۔۔۔

سندھ کے شہر مٹھی سے تعلق رکھنے والی افشین گل صرف دس ماہ کی تھی جب وہ اپنی بہن کے ہاتھوں سے گر گئی۔ اس حادثے کے بعد اس کی گردن ایک طرف جھکتے جھکتے تقریباً 90 ڈگری کے زاویے پر جم گئی۔ والدین اسے مقامی ڈاکٹر کے پاس لے گئے، جہاں دوائیں اور گردن کو سہارا دینے کے لیے بیلٹ دی گئی، لیکن اس کی حالت بہتر ہونے کے بجائے مزید بگڑتی چلی گئی۔

افشین کو دماغی فالج بھی تھا۔ وہ چھ سال کی عمر میں چلنا اور آٹھ سال کی عمر میں بولنا سیکھ سکی، مگر گردن کی شدید خرابی کے باعث چلنے، کھانے اور بات کرنے جیسے معمولی کاموں کے لیے بھی گھر والوں کی مدد کی محتاج تھی۔ وہ نہ اسکول جاسکی، نہ دوسرے بچوں کے ساتھ کھیل سکی۔ غریب خاندان مہنگا علاج برداشت نہیں کرسکتا تھا، اس لیے افشین نے اپنی زندگی کے تقریباً بارہ سال اسی تکلیف دہ حالت میں گھر تک محدود گزار دیے۔

2019 میں برطانوی صحافی الیگزینڈریا تھامس نے افشین کی حالت پر رپورٹ بنائی اور اس کے خاندان کا رابطہ دہلی کے انڈراپرستھا اپولو ہسپتال کے ماہر ریڑھ کی ہڈی ڈاکٹر راجاگوپالن کرشنن سے کروایا۔ رپورٹس کے مطابق ڈاکٹر کرشنن نے افشین کا پیچیدہ علاج اپنی جراحی فیس لیے بغیر کرنے کی پیشکش کردی۔ خاندان کے سفر اور دیگر اخراجات ایک آن لائن مہم سے پورے کیے گئے۔

معائنے میں معلوم ہوا کہ افشین کی گردن کے اوپری مہروں میں شدید بے ترتیبی، حرام مغز پر دباؤ اور سانس کی کمزوری پیدا ہوچکی تھی۔ ڈاکٹر کے مطابق علاج میں مزید تاخیر اسے گردن سے نیچے مفلوج کرسکتی تھی یا سانس بند ہونے سے اس کی جان بھی جاسکتی تھی۔ سرجری اتنی خطرناک تھی کہ خاندان کو پہلے ہی بتا دیا گیا تھا کہ آپریشن کے دوران افشین کا دل یا پھیپھڑے کام کرنا بند کرسکتے ہیں۔

افشین کے مجموعی طور پر چار بڑے آپریشن کیے گئے—مرکزی سرجری سے پہلے دو، پھر چھ گھنٹے طویل مرکزی آپریشن اور اس کے بعد ایک اور بڑا آپریشن۔ مرکزی سرجری میں اس کی کھوپڑی اور گردن کے مہروں کو درست حالت میں لاکر راڈز اور پیچوں کی مدد سے مضبوط کیا گیا۔

تمام خطرات کے باوجود آپریشن کامیاب رہا۔ چند ماہ بعد افشین کی گردن سیدھی ہوچکی تھی، زخم بھر گئے تھے اور وہ خود چلنے، کھانے اور بات کرنے کے قابل ہوگئی تھی۔ ڈاکٹر کرشنن بھارت واپس جانے کے بعد بھی ہر ہفتے ویڈیو کال کے ذریعے اس کی صحت اور بحالی کی نگرانی کرتے رہے۔

جس پاکستانی بچی نے بارہ سال دنیا کو جھکی ہوئی گردن سے دیکھا، سرحد پار ایک بھارتی ڈاکٹر کی مہربانی اور مہارت نے اسے پہلی مرتبہ سر اٹھا کر زندگی جینے کا موقع دے دیا۔

Leave a Comment