بیٹا چاہے جتنا مرضی بڑا ہو جائے، میں اسکے سر پر پڑتی دھوپ بھی برداشت نہیں کر پاتی۔۔۔

ایک بیٹا اپنی ماں کو موٹر سائیکل پر لے کر جا رہا تھا۔ راستے میں سگنل بند ملا تو دونوں رک گئے۔ سگنل کھلنے میں کچھ دیر لگی، دھوپ پڑ رہی تھی، اور اسی دوران ماں اپنے دوپٹے سے بیٹے کے سر پر سایہ کرنے لگی کہ کہیں میرے لال کو دھوپ نہ لگے۔

دیکھنے میں یہ چند لمحوں کا ایک معمولی سا منظر ہے، مگر ذرا ٹھہر کر دیکھیے تو اس میں ماں کی پوری محبت سمٹی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ بیٹا اب اتنا بڑا ہو چکا ہے کہ ماں کو موٹر سائیکل پر بٹھا کر لے جاتا ہے، لیکن ماں کی فکر اب بھی وہی ہے جو اُس وقت تھی جب وہ اسے گود میں اٹھایا کرتی تھی۔

کبھی یہی ہاتھ اُس کے چہرے سے پسینہ پونچھتے ہوں گے، کبھی سوتے ہوئے اُس پر چادر درست کرتے ہوں گے… آج وہی محبت سڑک کے بیچ ایک دوپٹے کی چھاؤں بن گئی۔ ہم بڑے ہوتے ہوتے اپنی ضرورتیں بتانا کم کر دیتے ہیں، مگر ماں ہماری چھوٹی چھوٹی تکلیفیں محسوس کرنا نہیں چھوڑتی۔ ہمیں شاید دھوپ کا احساس بھی نہ ہو، اُس کا ہاتھ پہلے ہی سایہ کرنے کے لیے اٹھ جاتا ہے۔

جن کی مائیں حیات ہیں، اُن کے پاس بیٹھا کریں، اُن کی بات سنا کریں، اُن کے آرام کا خیال رکھا کریں۔ جن ہاتھوں نے عمر بھر ہمارے لیے چھاؤں کی، اُنہیں بھی ہمارے ساتھ اور ہماری محبت کی ضرورت ہوتی ہے۔ اللہ پاک سب ماؤں کو صحت، سکون اور عزت والی زندگی عطا فرمائے، اور جو مائیں دنیا سے رخصت ہو چکی ہیں، اُن کی مغفرت فرمائے۔

Leave a Comment