
اعجاز درانی — پاکستانی فلم انڈسٹری کا لازوال ہیرو
اعجاز درانی پاکستان کی فلمی تاریخ کے اُن چند اداکاروں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے 1960ء اور 1970ء کی دہائی میں شہرت کی نئی بلندیوں کو چھوا۔ وہ اپنی وجیہہ شخصیت، رومانوی کرداروں اور پنجابی لوک داستانوں کے ہیروز کی بہترین عکاسی کے باعث بے حد مقبول ہوئے۔ انہیں خاص طور پر فلم “ہیر رانجھا” میں رانجھے کے کردار کے لیے یاد کیا جاتا ہے۔
پیدائش اور ابتدائی زندگی
اعجاز درانی 18 اپریل 1935ء کو جلال پور جٹاں، ضلع گجرات میں پیدا ہوئے۔ نوجوانی میں ہی انہوں نے فلمی دنیا میں قدم رکھا اور اپنی خوبصورتی اور منفرد انداز کی بدولت جلد ہی فلم سازوں کی توجہ حاصل کر لی۔
فلمی کیریئر
اعجاز درانی نے 1956ء میں اپنی پہلی فلم “حمیدہ” سے فلمی سفر کا آغاز کیا۔ اس کے بعد انہوں نے اردو، پنجابی اور پشتو زبانوں کی تقریباً 150 فلموں میں کام کیا۔ ان کی مشہور فلموں میں شامل ہیں:
ہیر رانجھا (1970)
دوستی (1971)
مرزا جٹ
زیدی
شولے
مولا بخش
وہ پاکستان کے پہلے “ڈائمنڈ جوبلی” ہیرو بھی کہلائے، جن کی فلموں نے غیر معمولی کامیابی حاصل کی۔
نور جہاں سے شادی
اعجاز درانی کی شادی برصغیر کی عظیم گلوکارہ اور اداکارہ نور جہاں سے 1959ء میں ہوئی۔ اس شادی سے ان کی تین بیٹیاں پیدا ہوئیں۔ بعد ازاں دونوں کے درمیان علیحدگی ہوگئی۔ بعد میں انہوں نے معروف اداکارہ فردوس سے شادی کی، جو فلم “ہیر رانجھا” میں ان کی ہیروئن بھی تھیں۔
بطور پروڈیوسر
اداکاری کے ساتھ ساتھ اعجاز درانی نے فلم پروڈکشن کے میدان میں بھی کامیابیاں حاصل کیں۔ انہوں نے کئی کامیاب فلمیں پروڈیوس کیں جن میں “ہیر رانجھا” اور “دوستی” نمایاں ہیں۔
وفات
اعجاز درانی یکم مارچ 2021ء کو لاہور میں 85 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔ ان کی وفات سے پاکستانی فلم انڈسٹری ایک عظیم فنکار سے محروم ہوگئی۔
اعزازات اور خدمات
پاکستانی فلم انڈسٹری کے مقبول ترین رومانوی ہیروز میں شمار
تقریباً چار دہائیوں پر محیط کامیاب فلمی کیریئر
پنجابی لوک داستانوں کے کرداروں کو امر کرنے والے اداکار
نگار ایوارڈ یافتہ فلمی شخصیت
خراجِ عقیدت
“اعجاز درانی صرف ایک اداکار نہیں تھے بلکہ پاکستانی فلمی تاریخ کا ایک سنہری باب تھے۔ رانجھے کے روپ میں ان کی اداکاری آج بھی شائقینِ فلم کے دلوں میں زندہ ہے۔”
قیامِ پاکستان کے بعد کئی باکمال اور باصلاحیت فن کاروں کی بدولت پاکستانی فلم انڈسٹری کو پھلنے پھولنے کا موقع ملا اور اپنی محنت اور لگن سے انڈسٹری کو کئی بے مثال اور یادگار فلمیں دیں اعجاز درانی انہی میں سے ایک تھے جو اداکار ہی نہیں ایک بہترین فلم ساز بھی تھے کہا جاتا ہے کہ اعجاز درانی کبھی شہرت اور دولت کے پیچھے نہیں بھاگے بلکہ ہمیشہ اپنے کام کو اہمیت دی۔ یکم مارچ 2021ء کو اعجاز درانی انتقال کرگئے تھے۔
اعجاز درانی فلم انڈسٹری میں خوش اخلاق اور ملنسار شخصیت کے طور پر شہرت رکھتے تھے۔ انھوں نے ملکہ ترنم میڈم نور جہاں سے شادی کی تھی مگر یہ تعلق برقرار نہیں رہ سکا تھا۔ 1960ء اور 1970ء کی دہائی میں اعجاز درانی ایک معروف فلمی اداکار تھے اور پھر انھیں بطور فلم ساز بھی کام یاب دیکھا گیا۔ اعجاز درانی نے ڈیڑھ سو کے قریب اردو اور پنجابی فلموں میں بطور اداکار کام کرنے کے علاوہ ہدایت کار کی حیثیت سے بھی خوب کام کیا۔ پنجابی زبان کی سپر ہٹ فلم ‘ہیر رانجھا’ اس کی ایک مثال ہے۔
اعجاز درانی 18 اپریل 1935 کو جلال پور جٹاں کے قریب ایک ضلع کے نواحی گاؤں میں پیدا ہوئے تھے۔ ابتدائی تعلیم مکمل کرنے کے بعد انھوں نے جہلم سے بی اے پاس کیا اور لاہور آ گئے جو برطانوی دور میں بھی فلم سازی کا ایک مرکز تھا۔ یہاں 21 سالہ اعجاز نے فلم ‘حمیدہ’ سے اداکاری کا آغاز کیا۔ اعجاز درانی وجیہ صورت اور جاذبِ نظر شخصیت کے مالک تھے۔ جلد ہی وہ فلم بینوں کی توجہ کا مرکز بن گئے اور ان کی مقبولیت وقت کے ساتھ ساتھ بڑھنے لگی۔ 1960ء کی دہائی میں ان کی کئی فلمیں کام یاب ہوئیں جن میں ‘شہید’، ‘بدنام’، ‘لاکھوں میں ایک’، ‘بہن بھائی’ اور ‘زرقا’ شامل ہیں۔ اسی زمانہ میں اعجاز درانی نے نور جہاں سے شادی کی تھی۔
70 کی دہائی میں اعجاز درانی کو فلمی دنیا میں کام یابیاں ملتی رہیں۔ پنجابی فلم ‘انورہ’ اور پھر ‘ہیر رانجھا’ نے انھیں شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا۔ اعجاز اس فلم رانجھا بنے تھے اور ان کی ہیروئن اداکارہ فردوس تھیں۔ دونوں کی جوڑی بہت پسند کی گئی۔ اعجاز اس فلم کے پروڈیوسر بھی تھے۔ ہیر رانجھا کے بعد اعجاز کی ایک کام یاب فلم ‘دوستی’ تھی جس کا گانا ‘چٹھی زرا سیاں جی کے نام لکھ دے’ آج بھی سماعتوں میں رس گھول رہا ہے۔ اعجاز نے دوسری شادی فلم ‘دوستی’ کے ہدایت کار کی بیٹی سے کی تھی۔
اعجاز درانی لاہور اور راولپنڈی میں سنگیت سنیما کے مالک بھی تھے۔ انھوں نے بطور فلم ساز پنجابی فلم ‘شعلے’ اور ‘مولا بخش’ بھی فلمی صنعت کو دیں جو باکس آفس پر نہایت کام یاب رہیں۔ بطور اداکار ان کی آخری فلم ‘جھومر چور’ تھی جو 1986ء میں ریلیز ہوئی۔