
سندھ کے علاقے گولاڑچی کے رہائشی چاچا عارب نوہڑیو کے لیے بینک کا قرض ایک بڑی پریشانی بن چکا تھا۔ روشن عظیم ملاح کے بیان کے مطابق، ان کی اصل واجب الادا رقم تقریباً 4 لاکھ 11 ہزار 228 روپے تھی، جو سود سمیت 2023 تک بڑھ کر تقریباً 6 لاکھ 38 ہزار 116 روپے ہوگئی تھی۔ عدم ادائیگی کے باعث ان کے وارنٹ بھی جاری ہوئے۔
زندگی کے اُس حصے میں، جب انسان کو اپنوں کے سہارے اور اطمینان کی ضرورت ہوتی ہے، قرض اور قانونی کارروائی کا سامنا کرنا کتنا مشکل ہوگا۔ ایک بزرگ کے لیے یہ سوچ ہی کتنی بھاری ہوسکتی ہے کہ ادائیگی کا بندوبست کیسے ہوگا اور یہ معاملہ کب ختم ہوگا۔ چاچا عارب کا معاملہ سوشل میڈیا پر سامنے آیا تو سعد الرحمٰن عرف ڈکی بھائی نے ان کی مدد کے لیے قدم بڑھایا۔ انہوں نے بزرگ کی معلومات مانگیں اور قرض ادا کرنے کی ذمہ داری لینے کا اعلان کیا۔ اب روشن عظیم ملاح کے بیان کے مطابق، ڈکی بھائی نے تقریباً 6 لاکھ 38 ہزار 116 روپے ادا کردیے ہیں۔
کسی مشکل میں پھنسے انسان کے لیے وہ لمحہ بہت قیمتی ہوتا ہے، جب کوئی اس کی بات سنتا ہے، اس کے مسئلے کو سمجھتا ہے اور اسے حل کرنے کے لیے عملی کوشش کرتا ہے۔ ایسی مدد اُس کے دل میں یہ اُمید جگاتی ہے کہ اس دنیا میں اس کا درد محسوس کرنے والے لوگ موجود ہیں۔ اس معاملے میں رابطوں اور قانونی کارروائی میں مدد دینے والے وکلا کی کوششیں بھی قابلِ قدر ہیں۔ ایک بزرگ کی مشکل آسان کرنے کے لیے مختلف لوگوں کا مل کر کام کرنا انسانیت کی خوبصورت مثال ہے۔
تازہ رپورٹ کے مطابق، ڈکی بھائی نے ادائیگی ہونے اور بزرگ کے گھر واپس پہنچنے کی اطلاع دی ہے، تاہم کچھ قانونی اور کاغذی کارروائی ابھی باقی ہے۔ دعا ہے کہ یہ مرحلہ بھی جلد مکمل ہو اور چاچا عارب اپنے خاندان کے ساتھ اطمینان کی زندگی گزار سکیں۔ اللہ تعالیٰ چاچا عارب اور ان کے اہلِ خانہ کی مشکلات آسان فرمائے، اور اس مدد میں حصہ لینے والے ہر شخص کو اس نیکی کا بہترین اجر عطا کرے۔