وہ واقعہ جب عارف لوہار نے بیوی کے انتقال کے بعد دوسری شادی نہ کی۔۔۔

جب آواز میں پنجاب کی مٹی کی خوشبو اور قلندرانہ گرج ہو، اور کروڑوں دل اس کی ہر لہر پر جھومتے ہوں، تو دنیا یہی سمجھتی ہے کہ ایسے فنکار کی زندگی صرف رنگینیوں اور قہقہوں سے سجی ہوگی۔ لیکن اس چمک دمک کے پیچھے بعض اوقات ایک ایسا خلوص اور وفا کی ایسی داستان چھپی ہوتی ہے جو انسان کو اندر تک ہلا کر رکھ دیتی ہے۔ یہ قصہ ہے ہمارے عہد کے عظیم اور انرجی سے بھرپور معروف گلوکار عارف لوہار کا، جن کی آواز کے فین پاکستان اور ہندوستان سمیت پوری دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں۔ ایک بار ایک انٹرویو کے دوران جب گفتگو کا رخ ان کی ذاتی زندگی اور ان کی مرحومہ اہلیہ کی طرف مڑا، تو ایک ایسا پردہ اٹھا جس نے محبت اور وفا کا ایک نیا اور لازوال باب رقم کر دیا۔

انٹرویو کے دوران ان سے پوچھا گیا کہ آپ دونوں کا ساتھ سولہ سال کا رہا، ماشاء اللہ تین بیٹے بھی ہیں، پھر آپ کی اہلیہ کا انتقال ہو گیا۔ سوال یہ تھا کہ آج آپ کے پاس دنیا بھر کی دولت ہے، بے پناہ شہرت ہے، کروڑوں لوگوں کی فین فالووننگ ہے، تو پھر آپ نے دوسری شادی کیوں نہیں کی؟ اس سوال کے جواب میں عارف لوہار نے محبت کا جو مفہوم بیان کیا، وہ سننے والوں کے کلیجے چیر گیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنی مرحومہ اہلیہ کے علاوہ دنیا کی کسی اور عورت کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتے۔

انہوں نے اپنے ماضی کے کٹھن دنوں کو یاد کرتے ہوئے بتایا کہ والد کے انتقال کے بعد ان کی زندگی کا صرف ایک ہی ہدف اور مشن تھا—اپنے والد کے عظیم نام کو زندہ رکھنا اور اسے دنیا کے کونے کونے تک پہنچانا۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے دن رات محنت کی، ساری ساری رات جاگ کر گایا، اسٹیج پر پرفارم کیا اور اپنی زندگی کا ایک ایک لمحہ اس فن کے نام کر دیا۔ لیکن اس دوڑ دھوپ بھری دنیا میں ہر کسی نے ان سے صرف محنت ہی طلب کی، کسی نے انہیں محبت نہیں دی۔

وہ روپ بھرے اسیر پن میں صرف ایک ہی ہستی تھی جو ان کے لیے محبت کا پورا سمندر لے کر آئی تھی۔ وہ وہی تھیں جنہوں نے عارف لوہار کو یہ احساس دلایا کہ وہ بھی کسی کی توجہ، اپنائیت اور سچی محبت کے لائق ہیں۔ وہ سولہ سال کا طویل رفاقت کا سفر تھا، مگر عارف لوہار بتاتے ہیں کہ اس پورے سفر میں ایک بار بھی ایسا نہیں ہوا کہ ان کی پیشانی پر کوئی شکن آئی ہو یا انہوں نے کبھی شکوہ کیا ہو۔ وہ ہمیشہ انتہائی احترام کے ساتھ انہیں “عارف صاحب” کہہ کر پکارتی تھیں۔ وہ محبت، وہ احترام اور وہ خلوص ایسا تھا جو روح میں اتر گیا۔

عارف لوہار نے اپنے بیٹوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ میرے بیٹے مجھ پر جان چھڑکتے ہیں، ان کا مجھ پر ایک بہت بڑا مان ہے۔ میری بیوی جاتے ہوئے مجھے اپنے ان بیٹوں کے لیے ماں بنا کر گئی ہے، اس نے مجھے ان کا سہارا بنا دیا۔ اور میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ انسان جب کسی کا مان توڑتا ہے تو اندر سے خود ٹوٹ جاتا ہے۔ جب اعتماد اور مان ٹوٹ جائے تو بندہ سلامت نہیں رہتا۔

ان کا لہجہ اور بھی زیادہ پختہ ہو جاتا ہے جب وہ اپنی اقدار کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ میرے اندر پرانے وقتوں کے بزرگوں اور بڑوں کا خون دوڑتا ہے۔ ہم وعدے نبھانے والے لوگ ہیں، ہم اپنا مان نہیں ٹوٹنے دیتے چاہے حالات کچھ بھی ہو جائیں، دنیا ادھر کی ادھر ہو جائے۔ زندگی کے جس رشتے اور جس کلے کے ساتھ ہمیں باندھ دیا گیا ہے، اب چاہے کچھ بھی ہو جائے وہ کلہ کبھی نہیں ٹوٹے گا۔ ان کی یہ باتیں اس بات کا جیتا جاگتا ثبوت ہیں کہ اصل فنکار وہی ہے جس کا دل بھی اس کے فن کی طرح اتنا ہی سچا اور پکا ہو۔

ڈسکلیمر :
اس تحریر میں شامل تمام تفصیلات اور بیانات مختلف آن لائن ذرائع، انٹرویوز اور دستیاب معلومات پر مبنی ہیں۔ اس مواد کو پیش کرنے کا مقصد محض قارئین تک معلومات اور متعلقہ شخصیت کا نقطہ نظر پہنچانا ہے۔ اس تحریر میں دیے گئے حقائق کی حتمی درستگی یا قانونی و ذاتی نوعیت کے اثرات کی کوئی ذمہ داری ناشر پر عائد نہیں ہوتی

Leave a Comment