
پاکستان ڈرامہ انڈسٹری کا ایک معتبر نام: سویرا ندیم
جب بات ہو جاندار اداکاری، پُرکشش شخصیت اور سنجیدہ کرداروں کو اسکرین پر زندہ کرنے کی، تو سویرا ندیم کا نام سب سے نمایاں نظر آتا ہے۔ وہ نہ صرف ایک بہترین اداکارہ ہیں، بلکہ ایک قابل پروڈیوسر اور ڈائریکٹر بھی ہیں سویرا ندیم چہرے پر ایک معصومیت اور سنجیدگی کا امتزاج نظر آتا ہے جو انہیں ایک پرکشش اور باوقار شخصیت عطا کرتا ہے ان کی آنکھیں گہری اور پر معنی ہیں جو ہر کردار کے جذبات کو بخوبی بیان کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں ان کی مسکراہٹ میں ایک ایسی دلکشی ہے جو دیکھنے والوں کو اپنا گرویدہ بنا لیتی ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان کے حسن میں ایک پختگی اور نکھار آیا ہے جو ان کی شخصیت کو مزید جاذب نظر بناتا ہے
سویرا ندیم پاکستانی ٹیلی ویژن اور فلم انڈسٹری کی ایک ایسی باصلاحیت اداکارہ ہیں جنہوں نے اپنی منفرد اداکاری، دلکش شخصیت اور نفاست کے ذریعے ایک خاص مقام حاصل کیا ہے۔ ان کا فن نہ صرف ناظرین کو محظوظ کرتا ہے بلکہ ان کی شخصیت کا وقار اور خوبصورتی بھی انہیں دیگر فنکاروں سے ممتاز کرتی ہے۔ سویرا ندیم کے والدین بھی بہت بڑے فنکار تھے ۔ اور فریال گوہر انکی خالہ تھیں ان کے مشہور ڈراموں میں شامل ہیں
جنجال پورہ خالی ہاتھ تیری راہ ساون روپ بڑی آپا ڈرامہ جس کے لیے انہیں بہترین اداکارہ کا ایوارڈ بھی ملا
سویرا ندیم پاکستان کی ان اداکاراؤں میں شامل ہیں جو خود تو خوبصورت ہیں ہی فنکارہ بھی بہت اچھی ہیں ۔۔۔
پاکستان شوبز انڈسٹری کی نامور اداکارہ سویرا ندیم 1974ء میں ایک فنکارانہ اور علمی گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد شاہد ندیم ڈراما نگاری اور ہدایت کاری کے شعبے میں ایک نمایاں نام رکھتے ہیں۔ جب سویرا ندیم کی عمر بمشکل بارہ برس تھی، تو ان کے والدین کے درمیان علیحدگی ہو گئی، جس کے بعد ان کے والد نے اس دور کی ممتاز اداکارہ مدیحہ گوہر سے دوسری شادی کر لی۔ اس رشتے سے مدیحہ گوہر ان کی سوتیلی والدہ بنیں اور معروف فنکارہ فریال گوہر ان کی خالہ ٹھہریں۔
فن و ادب سے گہرے لگاؤ کے ساتھ ساتھ سویرا ندیم نے اپنی تعلیم پر بھی پوری توجہ مرکوز رکھی۔ انہوں نے لاہور کے تاریخی کنیئرڈ کالج سے انگریزی ادب میں بی اے کرنے کے بعد پنجاب یونیورسٹی سے اسی مضمون میں ایم اے کی ڈگری حاصل کی۔ دوسری جانب محض 15 سال کی چھوٹی عمر میں انہوں نے اداکاری کی دنیا میں قدم رکھ دیا تھا اور ان کا پہلا ڈراما “کرن” 1989ء میں پاکستان ٹیلی ویژن سے نشر ہوا۔ اس کے بعد ڈراما “انکار” میں اہم کردار نبھا کر انہوں نے ناظرین کی توجہ اپنی جانب مبذول کروائی۔
سال 1995ء میں پی ٹی وی سے پیش کی جانے والی مشہور ڈراما سیریل “اڑان” ان کے کیریئر میں ایک خاص اہمیت رکھتی ہے۔ اس سیریل کو ان کے والد شاہد ندیم نے خود تحریر اور ڈائریکٹ کیا تھا، جبکہ اس میں سویرا ندیم نے ایک قومی ایئرلائن کی ایئر ہوسٹس کا مرکزی روپ دھارا۔ اس ڈرامے کی خاص بات یہ تھی کہ اس میں ان کی سوتیلی والدہ مدیحہ گوہر اور خالہ فریال گوہر نے بھی یکجا ہو کر کام کیا، یوں ایک طرح سے اس ڈرامے کی کاسٹ میں ان کا پورا خاندان ہی جلوہ گر تھا۔
سویرا ندیم کو اگر “اداکاروں کی اداکارہ” کہا جائے تو یہ بے جا نہ ہوگا، کیونکہ ان کی اصل طاقت ہر پیچیدہ اور سنجیدہ کردار میں اس طرح ڈھل جانا ہے کہ دیکھنے والا ان کے سحر میں جکڑ جاتا ہے۔ ڈراما “بڑی آپا” میں ان کا رعب دار اور دمدار روپ اس کی روشن مثال ہے، اس ڈرامے نے سرحد پار بھی بے پناہ مقبولیت حاصل کی اور انڈیا کے “زی زندگی” چینل پر بھی دکھایا گیا، جبکہ اسی بہترین کارکردگی پر انہیں بہترین اداکارہ کا ایوارڈ بھی ملا۔ اسی طرح ڈراما “جنجال پورہ” میں انہوں نے ایک ایسی لیڈی ڈاکٹر کا کردار نبھایا جو ایک قصبے میں جا کر خاندانی منصوبہ بندی اور صحت کے حوالے سے خواتین میں شعور بیدار کرنے اور ان کے مسائل حل کرنے کی کوشش کرتی ہے۔
سپر ہٹ ڈرامے “میرے پاس تم ہو” میں انہوں نے شہوار کی اہلیہ کا ایک مختصر مگر انتہائی جاندار کردار ادا کیا۔ اس ڈرامے میں ان کا پہلا منظر ایسا شاندار اور اثر انگیز تھا جیسے کشتی کے میدان میں کسی طاقتور پہلوان کی اچانک آمد ہوتی ہے۔ ڈرامے کے ایک ڈرامائی منظر میں ان کا عائزہ خان کے کردار کو تھپڑ مارنا اس قدر وائرل ہوا کہ شائقین نے اپنے گھروں میں بیٹھ کر تالیاں بجائیں۔ اس مختصر سے رول سے انہوں نے ثابت کر دیا کہ سکرین پر صرف ان کی موجودگی ہی ڈرامے کے معیار اور وزن کو کئی گنا بڑھا دیتی ہے۔
ان کے دیگر یادگار ڈراموں میں “خالی ہاتھ”، “تیری راہ”، “ساون روپ”، “قیدِ تنہائی”، “میرا سائیں”، “وہم”، “جانِ جہاں”، “مراسم”، “من وسلویٰ”، “خدا میرا بھی ہے” اور منفرد کہانیوں پر مبنی سیریز “کتنی گرہیں باقی ہیں” شامل ہیں۔ سویرا ندیم کا شمار پاکستان کی ان گنتی کی فنکاروں میں ہوتا ہے جو ظاہری خوبصورتی کے ساتھ ساتھ لاجواب اور پختہ اداکاری کی صلاحیت سے مالا مال ہیں۔
ڈسکلیمر:
یہ معلومات آن لائن یوٹیوب فیس بک ذرائع سے حاصل کی گئی ہیں اور صرف اور صرف آگاہی و معلوماتی مقاصد کے لیے پیش کی جا رہی ہیں۔ اس پوسٹ کا مقصد کسی فرد، ادارے، نظریے یا واقعے کے بارے میں حتمی رائے قائم کرنا یا کسی مخصوص نقطۂ نظر کی تائید کرنا نہیں۔ قارئین و سامعین سے گزارش ہے کہ وہ اس مواد کو اپنی صوابدید اور فہم کے مطابق دیکھیں