
بے شک زندگی اور موت اللہ کے اختیار میں ہے۔۔۔ مردہ قرار دیے جانے کے بعد اداکار حسن مراد زندہ کیسے ہوئے؟ منہ پر سفید کپڑا ڈال دیا گیا تھا ، تمام آلات ہٹا لیے گئے تھے مگر پھر ایک ڈاکٹر نے موت کی آنکھوں میں آنکھ ڈال کر انہیں بچا لیا ۔۔۔ ایک سچا اور ناقابل یقین واقعہ ۔۔۔۔ کچھ عرصہ قبل اداکار حسن مراد کو ہارٹ اٹیک ہوا انہیں ہپستال لے جایا گیا ، یہ ایک پرائیویٹ ہسپتال تھا ، ڈاکٹروں نے سر توڑ کوشش کی دل کو پمپ کیا الیکٹرک شاک لگائے لیکن آخر حسن مراد کو ایکسپائر قرار دے دیا گیا ، انکے منہ پر سفید کپڑا ڈال دیا گیا اور تمام میڈٰیکل آلات ہٹا لیے گئے اسی اثناء میں ایک نوجوان ڈاکٹر وہاں آیا جو شاید انکا مداح تھا اس نے الیکٹرک شاک والے آلات اٹھائے اور حسن مراد کو شاک دیا ، کوئی اثر نہ ہوا پھر اس نے دوبارہ شاک دیا تو ساتھی ڈاکٹروں نے اسے پکڑ لیا اور کہا پاگلوں والی حرکتیں نہ کرو مریض مر چکا ہے ، اگر تم نے شاک دیے تو مریض کا جسم پھٹ جائے گا ہم سب پر کیس ہو گا اور ہسپتال بھی سیل ہو جائے گا مگر ٌاس ڈاکٹر نے کہا کیس ہوتا ہے تو ہونے دو ، میں خود الزام قبول کر لونگا ۔۔ پیچھے ہٹ جاؤ تم سب یہ کہ کر اس نے حسن مراد کو اوپر تلے دو شاک اور دیے اور اللہ کی کرنی کہ حسن مراد کا دل کام کرنا شروع ہو گیا اور وہ فوری طور پر بیڈ پر اٹھ بیٹھے ۔۔۔چند لمحے ادھر ادھر دیکھتے رہے اور پھر بیڈ پر لیٹ گئے اور کوما میں چلے گئے ، انہیں تمام آلات سانس کی نالی ، دل کی دھڑکن اور ای سی جی کے آلات دوبارہ لگا دیے گئے اور انکا علاج شروع ہوا تو دو دن کوما میں رہنے کے بعد انہیں ہوش آ گئی ۔۔۔۔ بے شک جسے اللہ رکھے اسے کون چکھے ، اگر وہ ڈاکٹر نہ آتا تو شاید وہ نہ بچ پاتے ۔۔۔۔۔۔ کیونکہ ڈاکٹر تو انہیں سفید چادر کے نیچے چھپا چکے تھے ۔۔۔۔۔ حسن مراد کو آج جب بھی یہ واقعہ یاد آتا ہے وہ اس ڈاکٹر کو دعائیں دیتے ہیں ۔۔۔۔۔