نصیو لعل کو جب اسٹوڈیو میں پہلا گیت ریکارڈ کروانے پر گھر سے مار پڑی تھی۔۔۔

پہلا گانا، بھائی کا غصہ اور ‘موت کے کنویں’ سے واپسی!
یہ اُن دنوں کی بات ہے جب نصیبو لال کوئی نامور گلوکارہ نہیں تھیں، بلکہ شاہدرہ لاہور کے ایک غریب اور روایت پسند خاندان کی سادھ لوک لڑکی تھیں، جن کی ابھی ابھی منگنی ہوئی تھی۔ خاندان میں اصول سخت تھے—گانا بجانا محفلوں تک تو ٹھیک تھا، مگر فلمی دنیا یا اسٹوڈیو جانا شدید بدنامی اور کناگاری سمجھا جاتا تھا۔

ایک دن نصیبو کی ایک سہیلی انہیں چوری چھپے لاہور کے مشہور ‘بھٹی اسٹوڈیو’ لے گئی۔ اسٹوڈیو کا ماحول، بڑے بڑے مائیک اور میوزک ڈائریکٹرز کو دیکھ کر نصیبو کی تو چیخیں نکلنے والی تھیں! وہاں استاد ٹھاکر صاحب موجود تھے۔ انہوں نے جیسے ہی نصیبو سے گانے کی فرمائش کی، نصیبو نے جھرجھری لے کر ہچکچاتے ہوئے بول اٹھائے:
“اکھیاں دے موتی ہار گئے، ٹوٹ گئی مالا…”

بس پھر کیا تھا! جیسے ہی یہ ہائی پچ اور سرِیلی آواز اسٹوڈیو کی دیواروں سے ٹکرائی، اسٹوڈیو میں موجود سارے موسیقی کے استاد اور ڈائریکٹرز کام کاج چھوڑ کر باہر نکل آئے اور دنگ رہ گئے! انہوں نے فوراً کہا: “اس لڑکی کا گانا ابھی ریکارڈ کرو!”

نصیبو کا تو سانپ سونگھ گیا! منگنی ٹوٹنے کا ڈر، خاندان کی رسوائی اور بھائیوں کا خوف! انہوں نے وہاں موجود ایک لڑکے (ندیم) کی منتیں کیں: “خدا کے لیے یہ گانا میرے محلے تک نہ پہنچے، ورنہ میری زندگی تباہ ہو جائے گی!” لیکن سچائی زیادہ دیر کہاں چھپتی ہے۔

نصیبو ابھی ڈرتے ڈرتے گھر پہنچی ہی نہیں تھیں کہ ان سے دو گھنٹے پہلے وہی خبر پورے محلے اور گھر میں آگ کے شعلے کی طرح پھیل چکی تھی۔

جیسے ہی نصیبو نے گھر کا دروازہ کھولا، سامنے بھائی کا غصے سے لال چہرہ تھا! بھائی نے بغیر کچھ سنے جو ہاتھ میں آیا—لوہے کا برتن اور سامان—اٹھا کر سیدھا نصیبو کے منہ پر دے مارا! پورا گھر چیخ و پکار سے گونج اٹھا، نصیبو کا منہ زخمی ہو گیا اور خون بہنے لگا۔ بھائی داڑھا: “تو ہماری عزتاں نیلام کرنے اسٹوڈیو گئی تھی؟”

نصیبو درد سے کراہتی رہی اور سوچتی رہی کہ آج تو میری زندگی کا آخری دن ہے۔ لیکن ٹھہریے! اصل موڑ تو اب آتا ہے۔

جب گھر میں مار دھاڑ کا طوفان تھما، تو ان کی عقلمند ماں نے آگے بڑھ کر نصیبو کو سنبھالا، خون صاف کیا اور غصے میں بھرے بھائی سے بولی:
“اوئے عقل کے اندھو! روکو اپنے ہاتھ! ذرا باہر جا کر دیکھو، کوئی ریڈیو اور ٹی وی پر گانے گائے یا فلموں میں، یہ لڑکی موت کے کنویں سے ہو کر آئی ہے اور تم اس کا گلا گھونٹ رہے ہو؟ یہ آواز اس کی غریبی مٹائے گی!”

ماں کا یہ ایک جملہ تھا جس نے بھائی کے اٹھے ہوئے ہاتھ روک دیے! اور وہی گانا جب مارکیٹ میں آیا تو ایسا ہٹ ہوا کہ اسٹوڈیو کے باہر پروڈیوسروں کی لائنیں لگ گئیں۔ جس آواز پر گھر میں مار پڑی تھی، اسی آواز نے آگے چل کر پورے پاکستان پر حکومت کی!

Leave a Comment