
ایک بھائی کے لیے اپنے چھوٹے بھائی کی کھلتی ہوئی آنکھیں کتنی قیمتی ہو سکتی ہیں، اس کا اندازہ ہسپتال کے اس منظر سے ہوتا ہے… جہاں آکاش اپنے بھائی ارون کو بار بار ہوش میں رکھنے کی کوشش کر رہا تھا۔ اس لمحے اپنے بھائی کا جواب دینا، آنکھیں کھولنا اور اس کے پاس موجود رہنا ہی اس کی پوری دنیا بن گیا تھا۔
بھارت کی ریاست اتر پردیش کے ضلع ہردوئی میں 21 سالہ ارون اپنے بڑے بھائی آکاش کے لیے کھیت میں پانی لے کر گیا تھا۔ وہاں گھاس کی بوری اٹھاتے ہوئے اندر چھپے سانپ نے اسے ڈس لیا اور اس کی حالت بگڑنے لگی۔ آکاش فوراً اپنے بھائی کو طبی مدد دلانے کے لیے نکلا۔ اسی دوران میڈیکل اسٹور چلانے والے شِوم شرما نے مدد کی، دونوں بھائیوں کو اپنی موٹر سائیکل پر بٹھایا اور میڈیکل کالج پہنچا دیا۔
خبروں کے مطابق ہسپتال میں ڈاکٹر شیر سنگھ اور ان کی ٹیم نے فوری علاج شروع کیا اور گھر والوں کو ارون کو بیدار رکھنے کا کہا۔ آکاش اس کے چہرے پر پانی کے چھینٹے مارتا رہا اور تقریباً ایک گھنٹے میں اس کے گالوں پر 150 سے زیادہ تھپڑ مارے، تاکہ اسے ہوش میں رکھنے کی کوشش جاری رہے۔ اسی دوران ڈاکٹروں نے دو گھنٹوں کے اندر اینٹی وینم کی 15 خوراکیں دیں، جس کے بعد ارون کی حالت بہتر ہوئی۔
ذرا اس ایک گھنٹے کو ایک بھائی کے دل سے محسوس کیجیے… سامنے اپنا بھائی زندگی کی جنگ لڑ رہا ہو، اس کی آنکھیں بند ہونے لگیں، اور آپ اس کے چہرے پر ہاتھ مار کر اس سے جواب پانے کی کوشش کرتے رہیں۔ آکاش کی ہر تھپکی جیسے ایک خاموش التجا تھی کہ میرے بھائی کی زندگی کی ڈور سلامت رہے۔ اس کے ہاتھ کی ہر حرکت میں اپنے بھائی کو اپنے پاس رکھنے کی بےقراری محسوس ہوتی ہے۔ ایسے لمحوں میں انسان کو کسی دولت، کسی کامیابی، کسی بڑی خوش خبری کی ضرورت نہیں ہوتی… اپنے بھائی کا دوبارہ آنکھیں کھول دینا ہی دنیا کی سب سے بڑی خوش خبری بن جاتا ہے۔