
ڈولی توں ہتھ چُک لا جُھوٹیا چوہدریا ۔۔۔
پنجابی فلم “بشیرا”
1956 سے شروع ہوئی ایسی جدوجہد جسے سلطان راہی نے بحثیت ایکسٹرا اداکار اپنے خون پسینے سے سینچا تھا۔ سخت سے سخت بھوک کاٹتے ہوئے جوانمردی سے تعبیر کیا تھا اس جدوجہد کو منزل اس وقت ملی جب 1972 میں اداکار ساون نے فلم “بشیرا” کو ٹھکرایا، معاوضہ 70 ہزار طلب کیا اور سلطان راہی نے یہ کردار محض 7 ہزار میں قبول کیا۔ اور پھر چشم فلک نے دیکھا کہ فلم “بشیرا” کی بیمثال کامیابی نے کروڑوں روپے کے خزانے اور لازوال کامیابیوں کے دروازے سلطان راہی پر کھول دئیے اور وہی اداکار ساون دن بدن ناکامیوں کے گڑھوں میں گرتے ہوئے ایک دن اسی سلطان راہی کے کندھے کے پیچھے بطور ایکسٹرا کے طور پر نظر آنے لگ گئے جن کے کندھے کے پیچھے کبھی سلطان راہی بطور ایکسٹرا نظر آتے تھے۔
1972 سے پہلے کے واقعات ملاحظہ فرماتے جائیں۔ پاکستان میں سلطان راہی نامی یہ معمولی فائیٹر فلموں میں ایک دو سین کرتے تھے۔ فلم “چاچا جی” میں یادگار مرڈر سین پکچرائز کروایا تو فلمی پنڈتوں کی آنکھیں کھلیں کہ یہ کون ہے؟ کہاں سے آیا ہے۔؟ یہ سین اس قدر یادگار کس نے بنا دیا ہے۔؟ یہاں سے سلطان راہی ایک دو سین سے تھوڑے بہتر کرداروں میں نظر آنے لگے۔ وہ ہیرو کے کردار کی خواہش کرتے تو انکا مذاق اڑایا جاتا۔ پیٹ بھر کر کھانے کو دل چاہتا تو روٹی نہ ملتی۔ اسٹوڈیو کے گرد کھیتوں سے کچی گاجریں کھا کر پیٹ بھرتے۔ اور پھر رفتہ رفتہ جان لڑا دینے کی حد تک پرفارمنس دینے والے اس فائٹر سلطان راہی کو منفی کرداروں میں کاسٹ کیا جانے لگا۔ وہ اس پر بھی خوش تھے لیکن جانتے تھے کہ ایک دن بڑا بریک تھرو ضرور ملے گا۔ پنجابی فلموں کے لئے بنے بنائے اس اداکار سلطان راہی کی بجائے حبیب سدھیر اور ساون جیسے اداکار پنجابی سینماؤں پر چھائے ہوئے تھے جبکہ سلطان راہی تھے ایک معمولی ولن۔
ایسی ہی ایک فلم “خان چاچا” میں سلطان راہی ولن تھے اور اداکار ساون ٹائٹل رول میں۔ فلم کے ایک جیل سین میں
سلطان راہی اور ساون کے مابین ایک فائیٹ سیکوئنس تھا۔ اداکار ساون نے کیمرہ مین کو مشورہ دیا کہ اگر گول ٹریک لگا کر کیمرہ لو اینگل پر رکھ کر شارٹ لو تو بہت جچے گا۔ خدا کی قدرت کہ اس دن وہ کیمرہ سلطان راہی پر عاشق ہو گیا اور اس شارٹ میں سلطان راہی نے ایسی پرفارمنس دی کہ ساون کہتے ہیں میں سمجھ گیا تھا کہ میں نے خود ہی اپنے پاؤں پر کلہاڑی مار لی ہے۔ فلم “خان چاچا” ریلیز ہوئی تو بلاک بسٹر کامیابی سے ہمکنار ہوئی۔ اداکار ساون کے چرچے مزید ہر سو ہوئے تو ہدایتکار اسلم ڈار نے ساون کو اپنی ذاتی پروڈکشن فلم “بشیرا” میں سائن کرنا چاہا۔ لیکن خان چاچا کی فقیدالمثال کامیابی نے اداکار ساون کے دماغ کو ساتویں آسمان پر پہنچا دیا تھا اور انہوں نے 70 ہزار معاوضہ مانگ لیا جو ہدایتکار اسلم ڈار کے لئے ناقابل قبول تھا۔ فلم “خان چاچا” میں ساون کے علاؤہ اگر کسی دوسرے اداکار کی اہم پرفارمنس تھی تو وہ اس فلم کے ولن سلطان راہی کی تھی۔ اسلم ڈار نے سلطان راہی کی طرف رجوع کیا جنہوں نے اونے پونے یہ کردار قبول کیا اور یوں “بشیرا” سیٹ کی زینت بنی جو سلطان راہی کے کیرئیر کا سب سے بڑا بریک تھرو ثابت ہوئی۔ یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ فلم “بشیرا” سے پہلے اگرچہ سلطان راہی فلم “بابل” میں جبرو کے کردار میں اور فلم “سلطان” میں سلطان کے کردار میں سامنے آ چکے تھے لیکن ان دونوں فلموں کی کامیابی کے باوجود سلطان راہی کو شہرت اور معاوضے کے اعتبار سے اسی کیٹیگری میں رکھا جاتا تھا جس میں وہ آلریڈی پہلے سے تھے۔ ان دونوں فلموں کی کامیابیوں نے پروڈیوسرز کی جیبیں تو بھر دیں تھیں لیکن سلطان راہی وہیں کے وہیں تھے۔ سلطان راہی کی زندگی کا سب سے پہلا بریک تھرو فلم “بشیرا” کو اس لئے بھی کہا جاتا ہے کہ اسی فلم کے بعد سلطان راہی کو تسلیم کیا گیا اور اس فلم کے بعد کی سلطان راہی نے پہلی مرتبہ اپنا معاوضہ بڑھا کر 40 ہزار روپے کر دیا تھا۔
فلم “بشیرا” ایک ایسے کرائے کے ڈاکو (سلطان راہی) کی کہانی ہے جس کے سامنے لوگوں ، غریب دیہاتیوں کی عزت جان مال کی کوئی حیثیت نہیں تھی۔ وہ لوٹ مار کرتا اور اپنے مالک (الیاس کشمیری) کے سامنے ڈھیر کر دیتا تھا۔ بشیرا ڈاکو کی لالچی بیوی (نمو) اس امر سے بہت خوش تھی لیکن اسکی معصوم بہن (عالیہ) ہر وقت اپنے بھائی کو نیکی کی تلقین کرتی ہے۔ اس وجہ سے ڈاکو کی بیوی اور بہن کی ہر وقت لڑائی رہتی ہے۔ ایسی ہی ایک لڑائی میں جب گھر میں آگ لگ جاتی ہے تو سب کچھ جل کر راکھ ہو جاتا ہے۔ بشیرا کو بتایا جاتا ہے کہ اسکی بہن بھی جل کر راکھ ہو گئی ہے۔ اس قدرتی آفت کے باوجود بشیرا ڈاکو اپنے کرتوتوں سے باز نہیں آتا اور مزید خطرناک ڈاکو بن جاتا ہے۔
فلم میں ٹرننگ پوائنٹ تب آتا ہے جب بشیرا ڈاکو بے خبری میں اپنی ہی بہن کو اٹھا کر اپنے مالک کے بیڈ پر پیش کرتا ہے۔ باہر سے کنڈی لگا کر شراب پینے لگتا ہے تو اندر سے آنے والی چیخ و پکار اسے اپنی بہن کی آواز لگتی ہے۔ لیکن وہ سر جھٹلا کر جب دوبارہ شراب پینے لگتا ہے تو وہی آوازیں اسکو جھنجھوڑ کر رکھ دیتی ہیں۔ وہ دروازہ توڑتا ہے اور سامنے اپنی بہن کو دیکھ کر اسکے پاؤں سے زمین نکل جاتی ہے اور سر پر آسمان آن گرتا ہے۔ یہی وہ لمحہ تھا جب ایک ڈاکو کی زندگی میں انقلاب آتا ہے اور یہی وہ سین ہے جس میں سلطان راہی پرفارمنس ایسی بلندیوں پر نظر آئے جو ناقابل بیاں ہے۔ یہ وہ پرفارمنس تھی جو وہ دہائیوں سے دکھانے کے لئے بے تاب تھے اور موقع اب ملا تھا۔
فلم کا دوسرا ہاف ایک ڈاکو سے ایک نیک انسان بن جانے والے انسان کی زندگی میں آنے والے طوفانوں پر مبنی ہے۔ وہ لوگوں کی منت سماجت کرتا ہے۔ خدا سے رو رو کر معافی مانگتا ہے لیکن سماج اسے قبول کرنے پر راضی نہ تھا۔ سیکنڈ ہاف کے سینز سلطان راہی کی بے مثال اداکاری سے مزین ہیں۔ مسجد میں سینز ، گاؤں کے چوہدریوں کے سامنے گڑگڑانے والے سینز اور پھر سونے پر سہاگہ مشیر کاظمی کی لکھی ہوئی دل آویز رباعی “کاہنوں کڈناں ایں نک ناں لکیراں” اور اس پر سلطان راہی کی آل ٹائم فیورٹ پرفارمنس ۔ اور پھر فلم کا وائنڈ اپ۔ وائنڈ اپ مین سلطان راہی کی انٹری ۔ “ڈولی توں ہتھ چک لا جھوٹیا چوہدریا” گرجتا برستا سلطان راہی پاکستانی سینماؤں کو ٹیک اوور کر رہا تھا۔ یہاں سے پنجابی فلموں کے بقیہ تمام اداکاروں کا قلع قمع کر رہا تھا۔ ایک نئی دنیا متعارف کروا رہا تھا ۔ سینما کا ایک نیا رخ متعین کر رہا تھا۔ پاکستان سے اردو اور رومانوی پنجابی فلموں کا تختہ الٹ رہا تھا۔ فلم “بشیرا” تو اڑھائی گھنٹے بعد ختم ہو گئی لیکن یہاں سے سلطان راہی کا وہ عروج شروع ہو چکا تھا جسے مرتے دم تک زوال نہیں آیا۔
فلم “بشیرا” کے پہلے ہاف میں سلطان راہی کے کردار کا جتنا بڑا بلڈاپ بنایا گیا دوسرے ہاف میں وہ کردار پہلے ہاف سے بھی زیادہ بڑا نظر آیا۔ سلطان راہی کے ساتھ اداکارہ عالیہ اور الیاس کشمیری نے بھی شاندار پرفارمنس پیش کی۔ اداکار حبیب بھی مختصر کردار میں خوب جچے عزیز میرٹھی کی لکھی ہوئی بہترین کہانی اور اسلم ڈار کی مضبوط ڈائریکشن اور جاندار اسکرین پلے نے بلیک اینڈ وائٹ فلم “بشیرا” نے لاہور کے صنوبر سینما میں ریلیز ہو کر ایک نئی تاریخ رقم کر دی تھی۔ پاکستان کی عوام خاص طور پر پنجاب کی عوام جس انداز میں فلم “بشیرا” پر ٹوٹ پڑی تھی جس انداز میں سلطان راہی کو سر آنکھوں پر بٹھایا تھا اسکی مثال دوبارہ پھر کبھی قائم نہ ہو سکی۔ سلطان راہی جیسا عوامی اداکار پھر کبھی پاکستان میں پیدا نہیں ہو سکا جسکو اس قدر عوامی پذیرائی حاصل ہوئی ہو۔ یہ کوئی چمتکار تھا یا معجزہ ، ٹھاٹھیں مارتا عوامی سمندر تھا یا انتہا کو چھوتی محبت یا عقیدت ، یہ آج تک انسانی دماغ سمجھ نہیں سکا۔ کہ “بشیرا” ایک فلم تھی یا ایک انقلاب ، ایک طوفان تھا یا سیلاب کا ریلا ، جو اردو ایکشن فلموں، اردو رومانوی فلموں اور سوشل رومانوی پنجابی فلموں کو اس قدر بے دردی سے بہا لیا گیا جسکی مثال رہتی دنیا تک دی جاتی رہے گی ۔
تحریر:محترم ساجد آرائیں