مرحومہ انجمن شہزادی کے بیٹےکو کیوں اپنی ماں کی قبر کا کتبہ تبدیل کروانا پڑا؟

انسان زندگی جیسی بھی گزارے، اس کا حساب اور اس کا معاملہ صرف اس کے اور اس کے خالق کے درمیان ہے۔ کسی بشر کو یہ اختیار نہیں بخشا گیا کہ وہ عدالت لگا کر یہ فیصلہ کرے کہ کون جنت کی ہوا پائے گا اور کس کے حصے میں جہنم آئے گی۔

انجمن شہزادی جب اس دنیا سے رخصت ہوئیں، تو ان کے جانے کے بعد بھی دنیا نے انہیں سکون سے سونے نہیں دیا۔ سوشل میڈیا کے درندے الگورتھمز اور چند سستے ویوز کے بھوکے تماشائیوں نے ایسی گھناؤنی ویڈیوز کا بازار گرم کر دیا کہ اس فنکارہ کی قبر پر عذاب آ گیا ہے، وہاں عذاب کے مناظر ہیں۔

میڈیا کے ان بے لگام نمائندوں کی حرکتوں سے بالخصوص اداکارہ عظمیٰ نعیم المعروف انجمن شہزادی مرحومہ کی فیملی سب سے زیادہ متاثر ہوئی جو باقاعدگی سے قبر پر فاتحہ خوانی کے لیے آتے رہتے تھے۔ بالآخر تھک ہار کر وہ دن بھی آگیا کہ مرحومہ کے سگے بیٹے نے اپنی ماں کی قبر کا کتبہ تبدیل کروانے کا فیصلہ کیا تاکہ کوئی ویوز کا بھوکا قبر ڈھونڈ ہی نہ سکے۔

ذرا اس بیٹے کی دل کی حالت کا اندازہ لگائیے جو اپنی ماں کی قبر پر باقاعدگی سے حاضری دیتا ہے۔ وہ بیٹا جس کی ماں کی عزت کا موت کے بعد تماشہ بنا ڈالا، اس کی اذیت اتنی بڑھ گئی کہ اسے مجبور ہو کر اپنی ماں کی قبر کا کتبہ ہی تبدیل کروانا پڑا تاکہ لوگ پہچان نہ سکیں کہ یہاں کس کی آرام گاہ ہے۔ ایک اولاد کے لیے اس سے بڑھ کر کرب ناک اور کیا ہو گا کہ وہ دنیا کی درندگی سے اپنی ماں کی قبر کو بچانے کے لیے اس کے نام اور کتبے کے نشان مٹا دینے پر مجبور ہو جائے۔ ماں تو ماں ہوتی ہے، وہ دنیا کی کسی بھی تنقید یا طنز سے بالاتر ہو کر اولاد کے لیے کائنات کا سب سے محفوظ سایہ ہوتی ہے

تمام قبروں کی مٹی ایک جیسی ہوتی ہے، اور ایک نہ ایک دن اس مٹی نے بڑے بڑے محلات اور ناموں کو مٹا دینا ہے۔ باقی صرف اس ذات کا نام رہ جاتا ہے جو ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گی۔

جب کوئی انسان اس دنیا فانی سے کوچ کر جائے، تو کم از کم اتنا تو فرض بنتا ہے کہ اس کے جانے کے بعد اس کے پس منظر پر کیچڑ نہ اچھالا جائے۔ زبان سے یا تو اچھے الفاظ نکلیں یا پھر خاموشی کا پہرا ہو

ڈسکلیمر:
اس پوسٹ کا مقصد کسی فرد، ادارے، نظریے یا واقعے کے بارے میں حتمی رائے قائم کرنا یا کسی مخصوص نقطۂ نظر کی تائید کرنا نہیں۔ قارئین و سامعین سے گزارش ہے کہ وہ اس مواد کو اپنی صوابدید اور فہم کے مطابق دیکھیں۔ یہ پوسٹ صرف اور صرف معلوماتی اور آگاہی مقاصد کے لیے ہے

Leave a Comment