
جس نے ماں باپ کو رلایا ، اس کے ہاتھ سوائے ذلت کچھ نہ آیا ۔۔۔۔۔ گجرات کے ایک نوجوان کی اپنی بیوی اور سسرالیوں کے ہاتھوں بربادی کی کہانی ، سگی بہن کی زبانی ۔۔۔۔ نوٹ : دونوں تصویریں بہن بھائی کی ہیں ۔۔۔۔۔ ولید رضا گجرات کا رہائشی ہے 13 سال قبل اسے ماں باپ نے بمشکل دو لاکھ روپے اکٹھے کر کے دبئی کا ویزہ لگوا دیا اور 18 سال کی عمر میں ولید کمائیاں کرنے بیرون ملک چلا گیا ۔ اس سے قبل یہ اپنی ایک دور پار کی رشتہ دار لڑکی کی محبت میں گرفتار تھا مگر گھر والے رشتے پر راضی نہ تھے والدین کا خیال تھا کہ ولید کے لیے اس گھر کا رشتہ ٹھیک نہیں ، خیر ولید باہر چلا گیا ایک سال بعد واپس چھٹی آیا تو گھر والوں کو کہہ کر اپنی من پسند جگہ رشتہ طے کروایا اور اسکی محبوبہ مریم دلہن بن کر انکے گھر آگئی ، ایک دو ماہ گزرے کہ مریم نے ولید پر دباؤ ڈالا مجھے بے شک کرائے کے مکان میں رکھو مگر یہاں تمہارے والدین اور بہن بھائیوں کے ساتھ میرا رہنا مشکل ہے یہاں میرا دم گھٹ جائے گا ۔ حالانکہ ولید کی ماں ایک مزدور قسم کی عورت تھی وہ ایک سکول میں نان ٹکی کی ریڑھی لگاتی ، ولید کا والد ایک آنکھ سے نابینا ہونے کے باوجود کسی کوٹھی پر چوکیدار یا گیٹ مین کی نوکری کرتا تھا ، آخر کار حسین جمیل بیوی کی خواہش پر ولید نے ایک مکان کرائے پر لیا اور بیوی سمیت وہاں منتقل ہو گیا ، چند ماہ بعد جب ولید واپس دبئی جانے لگا تو مریم کی ماں اور سالی اسکے پاس آکر رہنے لگیں ۔ یوں ولید بے فکر ہو کر دبئی آگیا ، روانگی کے وقت بیوی نے گلے لگ کرشوہر کو نصیحت کی اپنے گھر والوں ماں باپ اور بہن بھائیوں سے کبھی کوئی رابطہ نہیں کرنا ، انہیں ایک روپیہ بھی بھیجا تو میرا مری کا منہ دیکھو گے ۔ آج کے بعد تمہارے منہ سے تمہارے ماں باپ کا تو میں نام بھی نہ سنوں ۔۔۔ یوں یہ گدھا ۔۔۔ معاف کیجیے ولید رضا واپس دبئی آگیا اور کمائی میں مصروف ہوگیا یہ ایک ریسٹورنٹ پر بطور ویٹر کام کرتا تھا تنخواہ اچھی تھی ٹپ بھی ملتی تھی کھانا وہیں ہوٹل میں مل جاتا ، رہائش بھی تقریبا فری تھی لہذا نری بچت تھی اور معمولی خرچ اپنے پاس رکھ کر ولید سب کچھ اپنی بیوی کے اکاؤنٹ میں بھیج کر خوشی سے نہال رہتا ۔۔۔ عقل کی کمی یا پھر عقل پر پردہ کہ اس کو کبھی اپنے غریب والدین 5 بہن بھائیوں کا خیال نہ آیا جو بھائی کے دبئی میں ہونے کے باوجود غربت میں پستے رہے ، ماں سکول میں انڈہ ٹکی کی ریڑھی لگاتی رہی باپ چوکیدارہ کرتا رہا مگر جوان بیٹا اپنی کمائی بیوی کو بھیجتا رہا یہ سلسلہ 12 سال چلا ۔ 12 سالوں میں بیوی صاحبہ نے اپنے نام ایک پلاٹ اور ایک مکان ، اپنی ماں کے نام ایک پلاٹ جبکہ اپنی بہن کے نام بھی ایک مکان خرید لیا ، اس نے بہترین زیور بھی بنوا لیا اور اسکے اکاؤنٹ میں کروڑوں روپے جمع تھے ، اگرچہ ولید ہر سال دو سال بعد گھر چکر لگاتا مگر گھر وہ جس میں اسکی بیوی اور ساس رہتی تھیں ، وہ کبھی اپنے ماں باپ کے پاس نہ گیا کیونکہ بیوی نے پابندی لگا رکھی تھی ۔ اور یہ اپنا گھر بچانا چاہتا تھا ۔ ماں باپ کے پاس تو اور بیٹے بیٹیاں تھے اس غریب کے پاس تو بیوی کے سوا کچھ نہ تھا ۔۔۔۔۔آئیے اب قصہ مختصر کریں ۔۔۔۔۔ 13 سال تک پردیس میں کام کرنے کے بعد ولید کو خیال آیا کہ اب جوانی ڈھلنے لگی ہے کافی مال بنا لیا کوٹھیاں پلاٹ اور بنک بیلنس سب کچھ ہے کیوں نہ آرام سے واپس اپنے دیس میں زندگی گزاری جائے ، موصوف نے واپس گجرات پہنچے بیوی کو خوشخبری سنائی اب تمہیں چھوڑ کر واپس نہیں جاؤنگا ،مگر بیوی کے لیے تو گویا یہ زندگی کی ایک بری خبر تھی بولی ، آپ پاگل ہو گئے ہیں ، اتنی اچھی کمائی چھوڑ کر یہاں کیا کریں گے آپ ۔۔۔۔ بات آئی گئی ہو گئی ، کچھ دنوں بعد ولید کی ملاقات راہ چلتے اپنی ماں سے ہو گئی اور ماں نے اسے روک لیا ، شومئی قسمت ولید کی بیوی نے اسے ماں سے گلی میں بات کرتے دیکھ لیا ، وہ دوڑی آئی اور ولید کو ایسی ایسی گا۔لی دی کہ اسکا سر شرم سے جھک گیا ۔۔۔ ولید کی ماں رونے لگی مگر ولید اسے چھوڑکر بیوی کے پیچھے بھاگا ، گھر پہنچا تو بیوی اور سالی نے اسے گا۔لیوں سے نوازا اور پھر اسے زمین پر گرا کر نہ صرف کپڑے پھاڑ دیے بلکہ اسکا چہرہ بھی نوچ ڈالا ، بیوی اور سالی نے اسے گھر سے دفع ہونے کو کہا تو ولید منہ لٹکائے اپنے والدین والے گھر آیا اور ساری کہانی بیان کردی ۔۔۔ کچھ رشتہ دار بزرگ اور محلے کے معززین اکٹھے ہوئے ولید کی بیوی اور ساس کو سمجھانے اور صلح کی پیشکش کی گئی مگر انہوں نے انکار کردیا کہ اب اپنے ماں باپ کے گھر بیٹھا رہے ہمیں اسکی ضرورت نہیں ۔۔۔۔ چنانچہ مجبورا معاملہ تھانے لے جایا گیا ۔ ایس ایچ او صاحب نےسارا معاملہ جان کر ولید کی بیوی کو سمجھایا اور کہا جس نے سب کچھ کمایا ہے اس کا حق پہلے ہے ، بہتر ہے صلح کر لو ، اگر ایک دوسرے کو ذلیل کرنا ہے تو ایسا نہ کرو اور بات چیت کرکے کچھ لے دے کر معاملہ رفع دفع کرو ۔۔۔ کچھ جائیداد زیورات اور کیش تم رکھ لو باقی شوہر کے حوالے کرو کیونکہ اصل مالک یہی ہے ۔۔ بیوی نے رضامندی ظاہر کی اور چار دن کا وقت مانگا کہ حساب کتاب کرکے جو ولید کا حق ہے اسے دے گی ۔ لیکن رات کو ہی اصل گیم سامنے آگئی ۔۔۔ ولید کی دبئی میں ملازمت کے دوران اسکی بیوی نے ایک عاشق پال لیا تھا ۔ عامر عرف شاکا نامی یہ نوجوان اصل میں پولیس ملازم تھا ۔ ولید کی بیوی اور ساس گھر گئیں اور شاکا سے مشورہ کیا تو اس نے اپنی محبوبہ کی کمر تھپکی اور کہا میرے ہوتے ہوئے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں اس ولید کو تو میں ایک روپیہ یا ایک انچ زمین کا مالک بھی نہ بننے دوں ۔۔۔ اسی رات شاکا اپنی معشوقہ اور اسکی ماں و بہن کو لے کر غائب ہو گیا اور دو دن بعد ولید کو خلع کے نوٹس مل گئے ۔۔۔ اس وقت حالات یہ ہیں کہ پانچ کروڑ روپے سے زائد کا ٹیکہ لگوا کر ولید رضا خالی ہاتھ اپنے ماں باپ کے گھر بیٹھا ہے اور کسی ایسے مسیحا کی راہ تک رہا ہے جو اسے اسکا حق دلا دے ، بیوی بھی گئی ، 13 سال کی کمائی پلاٹ مکان جائیداد اور بنک بیلنس سب سے ہاتھ دھو بیٹھا ، ولید اب منتظر ہے کہ اللہ کا کوئی بندہ اسکی 13 سال کی خون پیسنے کی کمائی اسے واپس لوٹا دے جو اسکی بیوی ہڑپ کر گئی ۔ اب وہی والدین اور بہن بھائی اسے تسلی دلاسے دے رہے ہیں جنہیں یہ بیوی کے کہنے پر 13 سال بھولا رہا ۔ گجرات میں حکام بالا اور معززین علاقہ سے گزارش ہے کہ ولید کی مدد کریں ۔ اسکی عقل پر پڑا پردہ اب اٹھ چکا ہے ۔ مکار عورت کو اسکے کیے کی سزا دلوائیں یا کم از کم اسے یوں سب کچھ ہڑپ تو نہ کرنے دیں ، خاص طور پر شاکا بدمعاش کی بدمعاشی کا بھوت اتارنے کی بھی درخواست ہے ۔۔۔۔
Disclaimer: This post is based on media reports and is for informational purposes only. Details may change as more information becomes available.