پاکستان فلم انڈسٹری کے معاون اداکار اجمل خان کی کہانی۔۔۔

یہ قبر پاکستان فلم انڈسٹری کے نامور اداکار اجمل کی ہے۔

اداکار اجمل نے اپنے فلمی کیریئر میں ایک اندازے کے مطابق دو سو سے زائد فلموں میں کام کیا، تاہم ان کی اصل وجۂ شہرت منفی کردار تھے۔ فلم ’’ہیر رانجھا‘‘ میں کیدو کے کردار سے انہیں بے پناہ شہرت ملی۔

اداکار اجمل، پاکستان فلم انڈسٹری کے نامور اداکار اکمل کے بڑے بھائی تھے
17 مئی اداکار اجمل خان کا 116 واں یوم پیدائش ہے:
محمد اجمل قادری جسے اجمل کے نام سے جانا جاتا ہے) (17 مئی 1910 – 19 جون 1988) کلاسک پاکستانی پنجابی فلم ہیر رانجھا (1970 کی فلم) میں کیدو کے کردار کے لیے مشہور تھے۔ اس فلم کا میوزک ڈائریکٹر خواجہ خورشید انور کا سپر ہٹ میوزک تھا اور فلم کے گانے کے بول احمد راہی کے تھے۔ انہوں نے پاکستان میں اس سے قبل بننے والی فلم ہیر (1955 فلم) میں وہی کردار ادا کیا تھا جس کی ہدایت کاری تجربہ کار فلم ڈائریکٹر نذیر احمد خان نے کی تھی۔ اجمل کو 1947 سے پہلے لاہور میں 1937 میں بننے والی پنجابی فلم سوہنی ماہیوال میں متعارف کرایا گیا۔
اجمل زیادہ تر پاکستانی فلموں میں معاون کرداروں میں نظر آتے تھے۔ ان کی فلموں کی تعداد 212 ہے (77 اردو فلمیں اور 135 پنجابی فلمیں)۔ پاکستان میں ان کی پہلی فلم ہچکولے (1949) تھی۔
اور آخری بابل 1990 میں۔
اجمل کا انتقال 19 جون 1988 کو لاہور میں ہوا۔ وہ پنجابی فلموں کے معروف اداکار اکمل کے بڑے بھائی تھے۔
انہوں نے ایک ولن اداکار کے طور پر شروعات کی اور بڑی فلموں میں نظر آئے۔
ان کی فلموں کی فہرست یہ ہے:
ہچکولے، جہاد، دو آنسو، شمی، گبرو، امانت، ہم وطن، دلبر، غیرت، بھیگی پلکیں، نتھ، غلام، آواز، محبوبہ، رات کی بات، قاتل، محفل، جھیل کنارے، التجا، ہیر، ماہی منڈا، مورنی، صابرہ، پون، باغی ، حاتم، گڈی گڈا، دربار حبیب، سیستاں، یکے والی، انجام، عشق لیلیٰ، نوراں، مراد، شہرت، سردار، کچیاں کلیاں، حسرت، انار کلی، جٹی، گھر جوائی، بودی شاہ، ناجی، بچہ جمہورا، آج کل، کرتار سنگھ ، لکن مٹی، شیرا، گمراہ، مظلوم، بہروپیا، بھابی، نوکری، وطن، خیبر میل، خان بہادر، سوہنی کمہارن، رانی خان، سن آف علی بابا ، منگول، گل بکاولی، ہم ایک ہیں، بے خبر ، مفت بر، عذرا، پہاڑن ، سورج مکھی، جمالو، آواز دے کہاں ہے، آنچل، برسات میں، داماد، ماں کے آنسو، یہودی کی لڑکی، میں نے کیا جرم کیا، چوڑیاں، تیس مار خان، نیلم، مہندی والے ہتھ، ماما جی، باپ کا باپ، شکریہ، ممتا، بھرجائی، لاڈلی، عشرت، ولایت پاس، میرا ماہی، ایک پردیسی ایک مٹیار، واہ بھائی واہ، ہتھ جوڑی، پھنے خان، دیوداس، چھوٹی سی دنیا، تیرے شہر میں، سوکن، ایک سی چور، پلپلی صاحب، ملنگی، جیدار، پیداگیر، میں چپ رہوں گی، امام دین گوہایہ، برما روڈ، بے رحم، ہمراز، میں کہاں منزل کہاں، مہندی، مجھے جینے دو، مراد بلوچ، جمعہ جنج نال، پنج دریا، نکے ہندیا دا پیار ، وساکھی، دور کی آواز، جند جان، ڈھول سپاہی، وغیرہ شامل ہیں ۔۔۔
آج یہ عظیم فنکار ہم میں موجود نہیں، لیکن پاکستانی فلمی تاریخ میں ان کا کردار ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

Leave a Comment