فرزانہ شعیب نے پہلے ایک بے سہارہ بزرگ خاتون کو گھر میں پناہ دی بعدازاں پورا ادارہ ہی قائم کرلیا۔۔۔

2007 میں کراچی کے علاقے کلفٹن میں 73 سالہ فاطمہ نامی بزرگ خاتون اپنے فلیٹ کے غسل خانے میں کولہے کی ہڈی ٹوٹ جانے کے باعث چار دن تک بے بسی کی حالت میں پڑی رہیں۔

ان کا کوئی سہارا نہیں تھا۔ انہیں کسی فلاحی ادارے بھیجنے کے بجائے، اسی عمارت میں رہنے والی فرزانہ شعیب نے اپنے گھر میں جگہ دی، اسپتال میں سرجری کروائی اور ایک سال تک ان کی دیکھ بھال کی۔

اس دل کو چھو لینے والے واقعے کے بعد فرزانہ کو احساس ہوا کہ شہر میں ایسی کئی بے سہارا بزرگ خواتین ہیں جنہیں دوا کے ساتھ ساتھ اپنائیت اور خاندان کی ضرورت ہے۔ اسی عزم کے ساتھ 2011 میں “بنتِ فاطمہ اولڈ ہوم” کے نام سے ایک ادارہ قائم ہوا،
جس کا دائرہ کار کراچی سے بڑھ کر اسلام آباد اور لاہور تک پھیل چکا ہے۔ فرزانہ اور ان کا خاندان اب تک 200 سے زائد بزرگ ماؤں کو چھت، محبت اور ایک حقیقی خاندان فراہم کر چکا ہے۔

Leave a Comment