گرگٹ کے رنگ اور مگرمچھ کے آنسو، ڈیوری بوائے رئیس کے بھائی کے انکشافات۔۔۔

رئیس : وہ کتے کا بچہ گھر سے چلا گیا ہے ، جلدی سے آجاؤ ۔۔۔گرگٹ کے رنگ اور مگر مچھ کے آنسو ۔۔ ڈیلیوری بوائے ق۔ت۔ل کیس کے مق۔تول رئیس کے بھائی کے انکشافات : وقوعہ سے ایک ہفتہ قبل کیا واقعہ پیش آیا تھا ؟ 2023 میں پیش آئے ڈیلیوری بوائے ق۔ت۔ل کیس کے حوالے سے رئیس کے بھائی نے بتایا کہ ہمارا بھائی نو بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹا تھا ، وہ پارٹ ٹائم کے طور پر ڈیلیوری بوائے کا کام کرتا تھا اس دوران شاطر آمنہ نے ہمارے 23 سالہ بھائی کو اپنے دام میں پھنسا لیا ، اسکے جتنے بھی انٹرویوز موجود ہیں وہ سب میں سفید جھوٹ بولتی رہی ، حقیقت یہ ہے کہ جو شواہد بعد میں دوران تفتیش پتہ چلے انکے مطابق رئیس اور آمنہ کے وقوعہ سے 7 ماہ قبل سے تعلقات تھے ، سب ملاقاتیں آمنہ کے گھر پر ہوئیں تو ظاہر ہے آمنہ خود اسے بلاتی تھی اور ہمارا بھائی کم عقلی میں اسکے جھانسے میں رہا ، غلطی اسکی بھی تھی ۔ وقوعہ سے ایک ہفتہ قبل جب رئیس اسے ملنے اسکے گھر گیا تو وہ اسکے ساتھ بیڈروم میں موجود تھی کہ اسکا سسر کہیں سے آگیا اس نے دروازہ کھٹکھٹایا تو آمنہ نے دروازہ نہیں کھولا بلکہ رئیس کو بالکونی کے راستے بھگا دیا ، جلدی میں رئیس کے موبائل اور دیگر چیزیں وہاں رہ گئیں اور وہ کھڑکی سے چھلانگ لگا کر اس گھر سے نکل بھاگا ۔ آمنہ کے سسر نے ایک لڑکے کو بالکونی سے بھاگتے دیکھا اور اپنے بیٹے فرحان کو کال کرکے ساری بات بتائی وہ گھر آیا اور آمنہ کو مارا پیٹا تلاشی لی تو رئیس کے موبائل اور سامان برآمد ہو گئے ، فرحان آمنہ کو میکے چھوڑ آیا بچے بھی اس سے چھین لیے پھر اگلا ایک ہفتہ فرحان پلاننگ کرتا رہا ، چند روز بعد وہ بیوی کو گھر لے آیا اور اسے آفر دی کہ بچوں کی خاطر میں تمہاری غلطی معاف کرتا ہوں لیکن تم رئیس کو سزا دلانے میں میری مدد کرو ، میں اسے ایسی سزا دونگا کہ وہ زندگی بھر یاد رکھے گا ۔ اسکے بعد آمنہ نے ایک آرڈر کیا اور اسکا آرڈر رئیس کے علاوہ کوئی نہیں لاتا تھا ، رئیس آیا تو فرحان نے اسے پکڑ لیا وہ اسے ایک کمرے میں لے گیا اور آمنہ سے رسی منگوا کر اسکے پیر باندھے پھر ڈ۔کیتی کے ڈرامے والی ویڈیو بنائی اور اسکے بعد وہ اسے ڈنڈوں سے پیٹتا رہا ۔ اس نے رئیس کو سینے پر ڈنڈے مارے جس سے وہ شدید زخمی ہو گیا اور بعد ازاں دم توڑ گیا ۔۔ جب فرحان کا غصہ ٹھنڈا ہوا تو اسے فکر لاحق ہو گئی کہ اس سے ق۔ت۔ل ہوا ہے اب لا۔ش کا کیا کریں ، تو وہ بیوی کو ساتھ لے کر فرحان کی لا۔ش ایک کار میں ڈال کر مانگا منڈی میں ایک بھٹے پر لے گیا رات کے ایک بجے رئیس کی لا۔ش کو ایک ویران جگہ پھینکا اور پٹرول چھڑک کر آ۔گ لگا دی ۔ جسکے بعد میاں بیوی گھر آگئے ، اگلے روز مانگا منڈی پولیس کو جلی ہوئی لا۔ش کی اطلاع ملی اور رئیس کے اہل خانہ نے اسکی گمشدگی کی اطلاع فیصل ٹاؤن پولیس کو دی ، پوچھ گچھ پر رئیس کے دوستوں نے بتایا کہ وہ آخری بار آمنہ کے گھر پارسل دینے گیا تھا اور یہ کہ وہ ساتھی ڈیلیوری بوائز کو بتاتا تھا کہ اسکے آمنہ سے تعلقات ہیں ۔۔۔ آمنہ اور فرحان کے گھر ریڈ کرکے انہیں گرفتار کر لیا گیا ۔ پہلے انہوں نے لاعلمی ظاہر کی اور کہا کہ رئیس پارسل دے کر چلا گیا تھا لیکن پولیس نے انکے کال ریکارڈز اور ڈیٹا کی مدد سے جلد جرم کا پتہ چلا لیا مگر آمنہ اور فرحان کو قا۔تل ثابت کرنے اور سزا دلوانے میں سب سے اہم کردار ان آڈیوز اور ویڈیوز نے ادا کیا جو آمنہ رئیس کو بھیجتی تھی یا اس سے بات کرکے اسے بلاتی تھی ، پی ایف ایس اے کی رپورٹ اور مدعی کے وکیل کی محنت سے تمام ثبوت عدالت میں پیش کیے گئے ، جس روز ملزمان کی موجودگی میں آمنہ کی آڈیوز اور ویڈیوز عدالت میں چلائی گئیں اور اس نے اپنے شوہر بارے رئیس کو کہا کہ وہ کتے کا بچہ گھر میں نہیں ہے تم آجاؤ ۔۔۔ تو اپنے پول کھلتے دیکھ کر آمنہ دھاڑیں مار مار کر روئی تھی ۔۔۔ رئیس کے بھائی مدعی مقدمہ کا کہنا ہے کہ اللہ کے شکر گزار ہیں عدالتوں اور اداروں کے مشکور ہیں کہ ہمیں 4 سال بعد ہی سہی مگر مکمل اور بھرپور انصاف ملا ۔
Disclaimer: This post is based on media reports and is for informational purposes only. Details may change as more information becomes available.

Leave a Comment