
یوگنڈا کا آدم خور ۔۔۔ 38 افراد قتل کرکے کھا گیا ۔۔۔۔۔۔ ؟
افریقی ملک یوگنڈا میں ایک ایسا شخص گرفتار ہوا ہے، جس پر 2010ء سے 2025ء کے درمیان 38 افراد کو قتل کرکے ان کی لاشیں کھا جانے کا الزام ہے۔ یوگنڈا کے چیف آف ڈیفنس فورسز جنرل موہوزی کائنیروگابا نے 26 اکتوبر کو سوشل میڈیا پر گرفتاری کا اعلان کرتے ہوئے اس شخص کا نام موجوریزی (Mujurizi) بتایا۔ قتل مختلف اضلاع میں ہوئے۔ تاہم 38 مقتولین کے نام، وارداتوں کی تاریخیں اور آدم خوری کے فرانزک شواہد اعلان میں فراہم نہیں کیے گئے۔ اس دعویٰ ابھی عدالتی طور پر ثبوت باقی ہے۔
یوگنڈا کے اخبار ڈیلی مانیٹر کی رپورٹ کے مطابق اسے 2009ء میں گرفتار کیا گیا تھا اور اس نے17 قتلوں کا اعتراف کیا تھا۔ بعد میں اس کی گرفتاری اور پولیس حراست سے فرار کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے۔ ان مقدمات میں 2012ء اور 2013ء کے دوران متعدد افراد کے قتل کا ذکر ہے۔ بعض وارداتوں میں یہ گھروں میں داخل ہوا اور لوگوں کو تیز دھار ہتھیاروں سے قتل کیا۔ کیوبے کے علاقے میں ایک چرچ سے وابستہ 9 افراد، کیاکالیرا گاؤں میں 52 سالہ یوریتا ناباساگی اور کیاناموکا علاقے میں 2 خاندانوں کے 7 افراد کے قتل کا ذکر بھی ہے۔ ان وارداتوں کو اس شخص سے جوڑا گیا۔
مقدمے میں پولیس حراست سے فرار کے واقعات بھی سامنے آئے۔ ملزم کی ہتھکڑیاں کھولنے کے لیے پولیس اہلکاروں کو رشوت دینے کا الزام لگا۔ بعد میں اسے دوبارہ گرفتار کیا گیا، لیکن منتقلی کے دوران پھر فرار ہوگیا۔ ان واقعات نے پولیس کی نگرانی اور تفتیش پر سوالات اٹھائے۔ تاہم مجموعی طور پر ملزم پر 38 افراد کو قتل کرکے ان کا گوشت کھانے کا الزام لگایا گیا ہے۔
یوگنڈا میں آدم خوری
2014ء میں راکائی ضلع کے گاؤں کیاکیروگو میں 21 سالہ پیس کیاموکا آرینائٹوی اور اس کے نو ماہ کے بچے کے قتل کے الزام میں 13 افراد گرفتار کیے گئے۔ استغاثہ کے مطابق خاتون، اس کے شوہر اور بچے نے سفر کے دوران رات ہونے پر ایک گھر میں پناہ لی تھی۔ خاتون اور بچے کو باہر بلا کر قتل کیا گیا اور لاش کے ٹکڑے ملزمان نے میں تقسیم کیے۔ خاتون کا شوہر حملے میں زخمی ہونے کے باوجود بچ گیا۔ ملزمان گرفتار ہوگئے۔ مئی 2026ء میں کیینجونجو ضلع میں رچرڈ میوسیگے، المعروف ’’بیبی نسولو‘‘ کو اپنی ساتھی لوکیا کارونگی کے قتل میں گرفتار کیا گیا۔ پولیس کے مطابق خاتون ڈیڑھ ماہ سے لاپتا تھی۔ ملزم کے گھر سے انسانی سر، ہڈیاں اور کپڑے برآمد ہوئے، جنہیں لاپتا خاتون کی باقیات قرار دیا گیا۔ رواں برس مزید کئی افراد آدم خوری کے الزام میں گرفتار ہوئے ہیں۔
منقول ۔۔۔