جب لاہور کے ایک مشہور اسکول نے اداکارہ صبیحہ خانم کو داخلہ دینے سے انکار کر دیا تھا۔۔۔

صبیحہ کے حسن و جمال اور اداکارانہ صلاحیتوں میں تو کوئی کلام نہ تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ناکام فلموں میں کام کرنے کے باوجود فلم سازوں نے انہیں یاد رکھا اور انہیں اداکاری کا موقع ملتا رہا مگر وقت مہربان نہ تھا۔ ان کی پہلی فلم جسے کامیاب کہا جا سکتا ہے انور کمال پاشا کی ’’غلام‘‘ تھی۔ اتفاق کی بات یہ ہے کہ اس فلم میں تین ہیروئنیں تھیں۔ راگنی‘ صبیحہ اور شمی۔ شمی اور صبیحہ اس زمانے میں ہم پلہ سمجھی جانے لگی تھیں۔ ان کی صورت شکل بھی اچھی تھی مگر ان کی اداکاری میں صبیحہ خانم والی بات نہیں تھی۔ ’’غلام‘‘ نے فلم بینوں اور فلم سازوں کو صبیحہ کی طرف مائل کر دیا۔ انور کمال پاشا نے بھی اس فلم سے شہرت حاصل کی۔ غالباً یہ پہلی اور آخری فلم تھی جس میں صبیحہ اور شمی نے ایک ساتھ کام کیا تھا۔ اس کے بعد وہ ایک دوسرے کی حریف بن گئیں اور چشم شروع ہو گئی۔ شمی تو جلد ہی سدھیر سے شادی کر کے فلمی دنیا سے کنارہ کش ہو گئی مگر صبیحہ اوج ثریا تک پہنچ گئیں۔

لیکن یہ وہ زمانہ تھا جب صبیحہ باقاعدہ اور مقبول ہیروئن بننے کے لئے ہاتھ پیر مار رہی تھیں اور حقیقی معنوں میں ہیروئن کے مقام پر فائز نہیں ہوئی تھیں۔
اس زمانے میں ہمارے ایک صحافی دوست مظہر یوسف زئی ایک فرمائش لے کر ہمارے پاس آئے۔ مظہر یوسف زئی اس زمانے میں کلیم عثمانی کے ساتھ مل کر ایک فلمی ماہنامہ ’’گل و خار ‘‘ شائع کیا کرتے تھے۔ دلچسپ اور سوشل قسم کے آدمی تھے جب کہ ان کے ساتھ کلیم عثمانی سنجیدہ اور ثقہ قسم کے مزاج رکھتے تھے۔ اس کے باوجود دنوں میں دوستی بھی تھی اور حصہ داری بھی۔ مزاجوں کے فرق کا فائدہ یہ تھا کہ ایک کی کمی دوسرا پوری کر دیا کرتا تھا۔ مظہر یوسف زئی آج کل بھی کراچی میں ہیں اور تمباکو کمپنی سے منسلک ہیں۔

مظہر یوسف زئی کی خواہش تھی کہ ہم ’’آفاق‘‘ کی فلمی صفحے پر صبیحہ خانم کا انٹرویو اور تصویر شائع کریں۔ مگر انہوں نے براہ راست مدعا بیان کرنے کے بجائے ہم سے تقاضا شروع کر دیا کہ صبیحہ خانم کے گھر چل کر چائے پیو۔
ہم پہلے تو ٹالتے رہے مگر جب انہوں نے ناراضگی کا اظہار شروع کر دیا تو مجبوراً رضامند ہو گئے۔ انہوں نے دوسرے دن شام کا وقت مقرر کر دیا اور ہمیں لینے کے لئے دفتر میں آ گئے۔

اس زمانے میں صبیحہ خانم و کٹوریہ پارک کے ایک بنگلے میں رہنے لگی تھیں۔ وکٹوریہ پارک مال روڈ کے عقب میں ایک رہائشی علاقہ تھا جہاں پرانی طرز کے بنگلے بنے ہوئے تھے۔ یہاں کسی زمانے میں زیادہ تر اینگلوانڈین رہا کرتے تھے۔ یہ جگہ ہمارے دفتر کے نزدیک ہی تھی۔ ہم پیدل ہی مظہر یوسف زئی کے ساتھ وکٹوریہ پارک چلے گئے۔
ایک پرانے لیکن صاف ستھرے بنگلے میں لے جا کر انہوں نے ہمیں بٹھا دیا اور خود اندر جا کر ہمارے آنے کی اطلاع کر دی۔ ڈرائینگ روم میں معمولی سا صوفہ سیٹ رکھا ہوا تھا۔ پردے بھی لٹکے ہوئے تھے۔ فرش پر قالین نہیں تھا لیکن کمرے میں گلدستے وغیرہ بڑے سلیقے سے سجائے گئے تھے۔ جو مکینوں کی خوش ذوقی کا مظہر تھے۔ ہم مظہر یوسف زئی کے ساتھ بیٹھے گپ شپ کرتے رہے۔ اتنی دیر میں پردہ ہٹا اور صبیحہ خانم گہرے سبز رنگ کی ساڑی میں ملبوس اندر داخل ہوئیں۔ یہ پہلا موقع تھا کہ ہم نے صبیحہ کو قریب سے دیکھا تھا۔ وہ حسن و صحت کا نمونہ نظر آ رہی تھیں۔ فلموں کے مقابلے میں اصل زندگی میں وہ زیاہ دلکش نظر آئیں۔ گورا رنگ‘ خوبصورت ناک نقشہ‘ بات کرنے کا شائستہ انداز اورگہرے سبز رنگ کی ساڑھی میں وہ بہت پرکشش نظر آرہی تھیں۔

ہم نے کھڑے ہو کر ان سے علیک سلیک کی۔ وہ بے تکلفی سے بیٹھ گئیں اور ادھر اُدھر کی باتیں شروع ہو گئیں۔کچھ دیر بعد چائے بھی آ گئی۔ انہوں نے چائے کے ساتھ پیسٹری وغیرہ کا بھی اہتمام کیا تھا۔ چائے کے دوران میں یہ معلوم ہوا کہ انہوں نے پرائیویٹ طور پر میٹرک کا امتحان دینے کی تیاری کی ہے لیکن کوئی اسکول امتحان کے لئے ان کا داخلہ بھیجنے کو تیار نہیں ہے۔ انہوں نے انگریزی پڑھنے کے لئے ایک اینگلو انڈین خاتون کی خدمات بھی حاصل کر رکھی تھیں جن کا نام ہمیں یاد نہیں رہا مگر انہوں نے مارڈن انداز اور طور طریقوں کے ساتھ ساتھ صبیحہ کو انگریزی بولنے کا ڈھنگ بھی سکھا دیا تھا۔ اس بات سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ صبیحہ آغاز ہی سے بہت ڈھنگ سے زندگی بسر کرنے کے منصوبے بنا رہی تھیں اور انہوں نے جو کچھ بھی حاصل کیا محض اپنی ذاتی کوشش اور محنت سے حاصل کیا۔ ان کا شوق دیکھا تو ہمیں بہت تعجب ہوا۔ اس سے پہلے ہم نے کسی ایکٹریس کو پڑھنے یا امتحان دینے کی خواہش میں مبتلا نہیں دیکھا تھا او ر نہ ہی اس کے بعد کوئی ایسی اداکارہ نظر آئی۔

مظہر یوسف زئی نے کہا ’’اگر مدرستہ البنات کی ہیڈ مسٹریس سے سفارش کی جائے تو یہ مسئلہ حل ہو سکتا ہے۔ یار تم تو صحافی ہو‘ تمہاری بات وہ ضرور مانیں گی۔ ‘‘
صبیحہ خانم نے بھی ملتجیانہ نگاہوں سے ہمیں دیکھا اور ہم نے وعدہ کر لیا کہ کوشش ضرور کریں گے۔

اس اثنا میں صبیحہ اٹھ کر اندر گئیں تو مظہر یوسف زئی نے ہم سے کہا ’’یار چائے پی لی‘ پیسٹری کھا لی دنیا بھر کی باتیں کئے جا رہے ہو‘ انٹرویو کیوں نہیں لیتے ؟ ‘‘

ہم نے کہا ’’کیا انٹرویو بھی لینا ہے؟‘‘

بولے ’’اور نہیں تو کیا۔ میں نے صبیحہ خانم سے خاص طور پر کہا تھا کہ تم ان کا انٹرویو ’’آفاق‘‘ میں چھاپوگے۔ دیکھا نہیں وہ انٹرویو کے خیال سے تیار ہو کر بیٹھی ہیں۔‘‘
ہم نے کہا ’’مگر تم نے پہلے تو بتایا نہیں تھا۔ ہم تو انٹرویو کے لئے بالکل تیار نہیں ہیں اور نہ ہی ہمارے پاس کاغذ وغیرہ ہے۔‘‘

بولے ’’بے کار بہانے مت کرو۔ انٹرویو کے لئے تیاری کی کیا ضرورت ہے۔ تم کوئی اناڑی تو ہو نہیں۔ رہا کاغذ تو وہ ہم تمہیں دے دیں گے۔‘‘

ہم نے کہا ’’دیکھو بھائی‘ تم نے چائے پینے کے لئے کہا تھا انٹرویو کی بات نہیں ہوئی تھی۔ اب انٹرویو کسی اور وقت کر لیں گے کافی دیر ہو گئی ہے۔‘‘

ان کے کچھ کہنے سے پہلے ہی صبیحہ خانم دوبارہ کمرے میں داخل ہوئیں اور مظہر یوسف زئی نے ہمیں آنکھوں ہی آنکھوں میں اشارے کرنے شروع کر دیے کہ انٹرویو شروع کر دو۔ ہم انجان بن گئے۔ صبیحہ خانم سے ہم نے اجازت طلب کی اور وعدہ کیا کہ مدرستہ البنات کی ہیڈ مسٹریس سے ان کے بارے میں بات کریں گے۔ وہ منہ سے تو کچھ نہ بولیں مگر چہرے کے تاثرات سے اندازہ ہوا کہ انہیں یہ بات اچھی نہیں لگی کہ ہم نے ان کا انٹرویو نہیں لیا۔ پھر بھی بڑے اخلاق سے مسکرا کر انہوں نے ہمیں رخصت کیا اور بنگلے کے باہر تک رخصت کرنے آئیں۔

ان کے گھر سے کچھ دور پہنچتے ہی مظہر یوسف زئی نے ہم سے جھگڑا شروع کر دیا۔

’’کمال کرتے ہو۔ میری عزت خاک میں ملا دی۔ میں نے دوست سمجھ کر وعدہ کیا تھا اور تم نے ذرا بھی لحاظ نہیں کیا۔‘‘

ہم نے کہا ’’بھائی وعدہ کیا تھا تو ہمیں بھی بتا دیا ہوتا۔ اتنی دیر میں بتایا کہ انٹرویو کے لئے وقت ہی باقی نہیں رہا تھا۔ ان سے پھر کبھی انٹرویو کر لیں گے۔‘‘

مگر مظہر صاحب روٹھے ہی رہے اور کئی دن تک ہم سے نہیں ملے۔

ہم نے دوسرے دن ’’مدرسہ البنات‘‘ میں فون کیا۔ یہ اس زمانے میں لاہور کی بہت بڑی اور مشہور‘ لڑکیوں کی درسگاہ تھی جہاں بڑی مشکل سے داخلہ ملتا تھا۔ ہم نے ہیڈ مسٹریس سے بات کی اور ملاقات کی خواہش ظاہر کی۔ انہوں نے اگلے دن سہ پہر کا وقت طے کر دیا۔

اگلے دن ہم ’’مدرستہ البنات‘‘ پہنچے تو ایک اور حیرت ہماری منتظر تھی۔ ہیڈ مسٹریس صاحبہ نے اس خیال سے کہ ایک صحافی ان کے اسکول میں آرہا ہے‘ خاص اہتمام کیا تھا۔ پہلے تو انہوں نے اپنے کمرے میں ہمارا خیر مقدم کیا۔ پھر اسکول کا معائنہ کرایا۔ خاصے قاعدے قرینے کا اسکول تھا۔ ہمیں خیال بھی نہیں تھا کہ ہمارے ساتھ یہ وہی آئی پی سلوک کیا جا ئے گا مگر ابھی یہ سلسلہ ختم نہیں ہوا تھا۔ وہ معائنہ کرانے کے بعد ہمیں اسکول کے ہال میں لے گئیں جہاں مختلف کلاسوں کی طالبات اور استانیاں خصوصی طور پر اکٹھی کی گئی تھیں۔ انہوں نے ہمارے سامنے تقریر بازی کا مقابلہ پیش کیا۔ نظمیں اور نعتیں پڑھیں۔ اپنے اسکول اور طریقہ تعلیم کے بارے میں بتایا اور ہیڈ مسٹریس صاحبہ نے آخر میں اسکول کے مسائل بھی پیش کر دیے۔ گویا یہ ایک طرح کا سپاسنامہ تھا۔ ہم اس دوران میں نہایت حیران وپریشان بیٹھے رہے۔ جب یہ پروگرام اختتام پذیر ہوا تو ہم دوبارہ ہیڈ مسٹریس کے دفتر میں پہنچ گئے۔ انہوں نے چائے سے ہماری تواضع کی اور امید ظاہر کی کہ ہم ان کے اسکول کے بارے میں اپنے اخبار میں ضرور لکھیں گے۔ ہم نے فوراً وعدہ کر لیا مگر ہماری سمجھ میں نہیںآرہا تھا کہ حرف مدعا کیوں کر زبان پر لائیں۔

آخر ہم نے دل کڑا کر کے ان سے کہا ’’ہم بھی ایک مسئلہ آپ سے حل کرانا چاہتے ہیں۔‘‘
’’ہاں ہاں فرمائیے؟‘‘

ہم نے بتایا کہ ایک فلم ایکٹریس پرائیویٹ طور پر میٹرک کا امتحان دینا چاہتی ہیں۔ ’’کیا یہ ممکن ہے کہ آپ ان کے امتحان کا داخلہ بھیج دیں‘‘۔

وہ تعجب سے ہمیں دیکھنے لگیں پھر بولیں ’’دیکھئے جب تک کوئی لڑکی ہمارے اسکول کی طالبہ نہ ہو اس کا داخلہ نہیں بھیجا جا سکتا۔ ‘‘

ہم نے کہا ’’تو پھر آپ انہیں اپنے اسکول کی طالبہ بنا لیجئے۔ وہ فیس وغیرہ دینے کو تیار ہیں۔‘‘

انہوں نے پریشان ہو کر ہمیں دیکھا اور بولیں ’’یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں۔ ایک فلم ایکٹریس کو اسکول میں داخلہ دے کر میں اپنے اسکول کے نام پر بٹہ لگوا لوں؟ معاف کیجئے یہ نا ممکن ہے۔‘‘

ہم نے انہیں قائل کرنے کی بہت کوشش کی مگر وہ ٹس سے مس نہ ہوئیں بولیں ’’اور کوئی کام ہو تو بتائیے۔ افسوس کہ یہ میرے بس میں نہیں ہے۔ مجھے اوپر والوں کی بھی جواب دینا ہوتا ہے اور دوسرے لڑکیوں کے والدین بھی اعتراض کریں گے وغیرہ وغیرہ۔‘‘

ہم مایوس ہو کر چلے گئے۔ ان کے اسکول کے بارے میں تو ہم نے ایک فیچر بنا کر چھاپ دیا مگر صبیحہ خانم کو میٹرک کے امتحان میں داخلہ نہ دلا سکے۔ ہم نے یہ بات مظہریوسف زئی کو بھی بتا دی تھی۔ خدا جانے انہوں نے صبیحہ خانم کو بتائی یا نہیں۔ خود ہماری بھی ان سے کافی عرصے تک ملاقات نہ ہو سکی۔ اس طرح یہ پہلی ملاقات قصہ پارینہ بن کر رہ گئی۔ خدا جانے صبیحہ خانم کو یہ سب یاد بھی ہے یا نہیں؟
’’ شمی ‘‘ پنجابی فلم تھی جس کے فلم ساز ملکہ پکھراج کے شوہر شبیر حسین شاہ تھے بلکہ خود ملکہ پکھراج ہی سارے انتظامات کرتی تھیں۔ قصہ یہ ہوا کہ ’’ شمی ‘‘ میں زرینہ ریشماں ہیروئن تھیں۔ یہ بھی اس زمانے کی ہیروئن تھیں۔ بعد میں انہوں نے اپنا نام تبدیل کر کے یاسمین رکھ لیا۔ چند فلموں میں کام کرنے کے بعد کیمرہ مین اور فلم ساز جعفر شاہ بخاری سے شادی کر کے مختصرسے عرصے کے لیے غائب ہو گئیں۔ مگر دوبارہ یاسمین کے نام سے نمودار ہو گئیں کچھ عرصے بعد انہوں نے سید شوکت حسین رضوی سے شادی کر لی جعفر شاہ بخاری سے ان کا ایک بیٹا ناصر تھا۔ وہ غالباً لندن میں ہے۔ سید شوکت حسین رضوی کے دو بیٹوں کی والدہ ہیں‘ دونوں بیٹے جوان ہو چکے ہیں اور شوکت صاحب کے حصے کا اسٹوڈیو کا کام سنبھالے ہوئے ہیں۔

جاری ہے.

Leave a Comment