جب یوسف خان ڈٹ گئے، میں کسی انڈین اداکار سے نہیں ملوں گا۔۔۔

یوسف خان ماضی کے وہ واحد ہیرو و اداکار تھے جنہوں نے 50 سال سے زیادہ انڈسٹری میں بطور اداکار کام کیا۔ یہ اعزاز نہ سلطان راہی نہ اکمل نہ اعجاز کے حصے آیا۔ بارڈر کے اس پار فیروزپور گاوں میں ایک پٹھان فیملی میں پیدا ہونے والے یوسف خان نے 1954 میں فلم اڑان کے ساتھ انٹری کی تھی۔ لیکن اوائل میں انہیں وہ شہرت نہ ملی جس کے وہ طلبگار تھے۔ فلم ضدی اور فلم ملنگی جو کہ لاہور کے ایک مشہور ڈ۔ا۔ن اچھا شوکر والا کی پروڈکشن تھی، وہاں سے یوسف خان کا نام بننا شروع ہوا۔ اور فلمیں سپر ڈپر ہٹ ہوئی۔ فلم ملنگی کا یہ دلچسپ کمال تھا کہ یہ فلم 4 بار ریلیز ہوئی اور چاروں بار ایک ہی سنیما میں 75 ہفتوں سے زائد چلی تھی۔

اس کے بعد ایک اور وقت آیا جب فلم وحشی جٹ اور فلم شریف ب۔دمع۔اش کا ٹاکرا ہوا۔ یعنی دونوں فلمیں بیک وقت ریلیز ہونا تھی۔ لیکن پھر پروڈیوسرز کے بیچ بچاو کے بعد ڈیٹ تبدیل ہوئی اور شریف بد۔مع۔اش جس میں سلطان راہی اور یوسف خان شامل تھے، ریلیز ہوئی۔ اور اس قدر ہٹ ہوئی کہ بقول ناصر ادیب کہ ہمیں ڈر پیدا ہوگیا کہ اب وحشی جٹ چلے گی کہ نہیں لیکن خیر وحشی جٹ بھی چلی اور ایسی چلی کہ کہتے ہیں کہ انڈسٹری الٹ کر رکھ دی۔

جس مخصوص واقعے کا ذکر ہورہا ہے کہ وہ کچھ یوں ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یوسف خان بہت ضدی، اصولوں کے پکے، جلد غصہ کرنے والے فنکار تھے اور انتہاء کے محب وطن تھے۔ یہ عالم تھا کہ جس جس فنکار نے سرحد پار جا کر کام کیا اس سے تعلق ہی توڑ دیا جس میں محمد علی صاحب بھی شامل تھے۔ مطلب دوبارہ بلایا ہی نہیں۔

جب لیجنڈ دلیپ کمار اور ان کی اہلیہ سائرہ بانو لاہور آئے اور ان کا لاہور ایورنیو سٹیوڈیو کا وزٹ تھا تو انڈسٹری کا ہر چھوٹا بڑا فنکار ایکٹر ڈائریکٹر رائٹر بن بلائے پہنچا ہوا تھا۔ دلیپ صاحب آئے پورا اسٹیوڈیو گھوم رہے ہیں لیکن اسٹیوڈیو کے بائیں جانب جہاں سنگیتا کا آفس تھا اس کے بعد باہر ایک کرسی پر ایسے رعب اور چوڑے ہو کر ایک کرسی پر ایک فنکار تشریف فرما تھے۔ ان کے ساتھ ایک اور فنکار زاہد شاہ بھی موجود تھے۔ بقول ناصر ادیب، میں نے انہیں دیکھا تو مجھ سے رہا نہ گیا اور بجائے دلیپ صاحب کے طرف جانے کے، میں یوسف بھائی کی طرف چلے گیا کیوں کہ میں ان سے ڈرتا بھی تھا، ان کی شخصیت بہت بارعب تھی اور کچھ ایسی عادت تھی کہ وہ اگر چڑ کھا جاتے تو زبان سے کچھ بھی بول سکتے تھے مطلب ایسی کی تیسی پھیر دیتے تھے۔ جب میں ان کے پاس جا کر بیٹھ گیا اور دلیپ کمار کا قافلہ اسٹیوڈیو آیا اور پھر رخصت ہوگیا ہم وہیں بیٹھے منہ تکتے رہے۔ جب وہ گئے تو یوسف خان نے مجھے کہا کہ آج تو وہ شخص ہے جس کے بارے میں میں کہہ سکتا ہوں کہ جس کی میں بہت عزت کرتا ہوں۔

Leave a Comment