شیخوپورہ کے نواحی علاقے میں ایک ہی گھرکی3 خواتین کے ق، ت، ل کی اصل کہانی سامنے آگئی۔۔۔

میرا گھر نہ بسا تو میں سب کے گھر اجاڑ دونگا ۔۔۔۔۔ ایک ہفتہ قبل شیخوپورہ کے نواحی گاؤں میں ایک ہی گھر کی تین خواتین کا ق۔ت۔ل ۔۔۔۔ واقعہ کی اصل کہانی سامنے آگئی ۔۔۔۔ انتل عباس کی شادی ماریہ بی بی سے لگ بھگ ڈیڑھ سال قبل ہوئی ، دو ماہ تو انتل بالکل ٹھیک رہا مگر اسکے بعد اس کا اصل روپ سامنے آگیا وہ بات بات پر ماریہ کو مارتا پیٹتا ، سوئی ہوئی کو مارنا شروع کردیا ، ٹانگ مار کر بیڈ سے نیچے پھینک دیتا اور باہر کی باتوں کا غصہ گھر آکر بیوی پر نکالتا ۔اس دوران ماریہ نے ایک بیٹے کو بھی جنم دے دیا جو اب 6 ماہ کا ہے ایک دو بار تو ماریہ میکے آئی اور پھر پیچھے سے شوہر کے آنے اور منت سماجت پر اسکے ساتھ واپس چلی گئی لیکن آخری بار 2 ماہ قبل انتل نے ماریہ کو اتنا مارا کہ اسکا 2 ماہ کا حمل بھی ضائع ہو گیا یہ ماں باپ کے پاس آگئی اور واپس جانے سے انکار کردیا ، والد کے پیر پکڑ کر ماریہ نے کہا کہ مجھے واپس نہ بھیجو میں خلع لے لونگی ساری زندگی آپ کی خدمت کرونگی لیکن اگر مجھے اس جانور کے ساتھ واپس بھیجو گے تو وہ مجھے مار دے گا ، اس کے بعد انتل نے ماریہ کو لے جانے کی بہت کوشش کی لیکن ماریہ کے والدین اور بہن بھائیوں نے انکار کردیا ، یہ ہر دو چار روز بعد آتا اور ڈرا د۔ھمکا کر چلا جاتا لیکن ماریہ کو والدین نے حفاظت کی خاطر لاہور میں رشتہ داروں کے گھر بھیج دیا ۔ ملزم انتل عباس کی د۔ھمکیوں پر ماریہ کے والدین اور بھائیوں نے بار بار تھانے درخواست دی مگر پولیس نے روایتی سستی سے کام لیا اور کوئی قدم نہ اٹھایا نتیجتا لگ بھگ ایک ہفتہ قبل ملزم انتل عباس اپنے چھوٹے بھائی ارسلان کے ساتھ مس۔لح ہو کر ماریہ کے والدین کے گھر آیا اور یہاں انہیں جو نظر آیا اسے گو۔لیاں مار دیں اس واقعہ میں ماریہ کی والدہ ، بڑی بہن اور بھابھی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھیں ، تینوں خواتین کو چہروں پر گو۔لیاں ماری گئیں مگر مقام افسوس ہے کہ دونوں خطرناک ملزمان جنہیں اس وقت سی سی ڈی کے حوالے ہو جانا چاہیے تھا ابھی تک آزاد اور دندناتے پھر رہے ہیں ۔ ماریہ کو جان کا خطرہ بدستور موجود ہے کیونکہ اسکا پہلا ہدف ماریہ تھی اور اسے غصے تھا کہ وہ اسکے ساتھ واپس گھر کیوں نہیں آرہی جبکہ ماریہ نہ صرف عدالت کے ذریعہ شوہر سے خلع لے چکی تھی بلکہ چند ماہ کے بیٹے کی حوالگی بھی حاصل کر چکی تھی ، ملزم انتل نے اسے د۔ھمکی دی تھی کہ اگر میرا گھر نہ بسا تو میں سب کے گھر اجاڑ دونگا ۔ اور افسوس وہی ہوا کئی گھر اجڑ گئے ۔ تین شادی شدہ خواتین ناحق ماری گئیں جن میں سے ایک صرف 22 روز کی دلہن تھی ۔۔۔۔۔۔ حکام بالا پولیس سے درخواست ہے کہ اس واقعہ کے ذمہ دار ملزمان بھائیوں کو فوری گرفتار کیا جائے کیونکہ شیخوپورہ کے گاؤں ٹھٹھہ علی کے اس بدقسمت خاندان کو اب بھی ملزموں سے جان کا شدید خطرہ لاحق ہے ۔۔۔۔

Leave a Comment