
اُس دور کا تصور کیجیے جب ملک پر مارشل لا کا سخت پہرہ تھا، اور چیف آف آرمی اسٹاف و صدرِ مملکت جنرل ضیاء الحق کا نام سن کر بھی بڑے بڑے سیاسی برج کانپ اٹھتے تھے۔ جنرل صاحب کا اپنا رعب اور سنجیدگی ایسی تھی کہ لوگ ان کے سامنے دبی سانسوں سے بات کرتے تھے۔
ایسے میں ایوانِ صدر یا گورنر ہاؤس میں ایک خاص تقریب سجائی گئی، جہاں ملک کے بڑے بڑے فوجی اور سیاسی عہدیدار، جرنیل اور سفارت کار موجود تھے۔ ماحول پر ایک عجیب سی سنجیدگی اور فوجی ڈسپلن کا تالا لگا ہوا تھا۔ اس محفل کا اصل سرپرائز تھے—امان اللہ خان!
امان اللہ جیسے ہی اسٹیج پر آئے، تو سامنے پہلی صف میں جنرل ضیاء الحق اپنی مخصوص مسکراہٹ مگر سخت گیر تاثرات کے ساتھ تشریف فرما تھے۔ اسٹیج کے پیچھے موجود آرگنائزرز کے ہاتھ پاؤں پھول رہے تھے، انہوں نے امان اللہ کے کان میں بار بار ہدایت دی تھی: “دیکھو امان اللہ! ذرا سنبھل کے… بات لمبی نہ کرنا، کوئی سیاسی یا الٹا سیدھا فقرا نہ نکل جائے، سامنے مارشل لا ایڈمنسٹریٹر بیٹھے ہیں!”
لیکن امان اللہ تو امان اللہ تھے! وہ بلا کے خود اعتماد اور فی البدیہہ جملے کسنے کے استاد تھے۔ انہوں نے ڈرنے کے بجائے اسے اپنے لیے ایک چیلنج سمجھا۔
انہوں نے جیسے ہی اپنا مائیک سنبھالا اور اپنی مخصوص لاہوری و فیصل آبادی انداز کی جگتوں کا پٹاخہ پھوڑا، تو پورا ہال گونج اٹھا۔ امان اللہ نے آمدمرفت اور عام روزمرہ کے لوگوں کے ایسے ایسے دلچسپ اور باریک نقشے کھینچے کہ وہ جرنیل جو ہر وقت ہاتھ باندھے اور سنجیدہ چہرے بنائے بیٹھے تھے، وہ بھی اپنی نشستوں پر لوٹ پوٹ ہونے لگے!
جب امان اللہ نے آرمی ڈسپلن، جرنیلوں کی سختی اور عام عوام کے رویوں پر ہلکی پھلکی معصومانہ چوٹیں کیں، تو آرگنائزرز کے پسینے چھوٹ گئے کہ اب کوئی حکم آئے گا! لیکن منظر بالکل برعکس تھا۔
سامنے بیٹھے جنرل ضیاء الحق امان اللہ کی زبردست ٹائمنگ اور کمالِ فن سے اتنے متاثر ہوئے کہ نہ صرف کھل کھلا کر ہنس پڑے بلکہ ان کی ہنسی تھمنے کا نام نہیں لے رہی تھی۔ وہ بار بار تالیاں بجاتے اور داد دیتے رہے۔
پرفارمنس ختم ہوئی تو پورا ہال تالیوں کے شور سے گونج اٹھا۔ جنرل ضیاء الحق نے خود امان اللہ کو اپنے پاس بلایا، ان کی پیٹھ تھپتھپائی اور ان کی ہنسانے کی بے ساختہ صلاحیت کی دل کھول کر تعریف کی۔ امان اللہ بتاتے ہیں کہ “اس دن مجھے احساس ہوا کہ اگر آپ کے فن میں سچائی اور صفائی ہو، تو دنیا کا سخت ترین ڈکٹیٹر بھی آپ کے خلوص اور ہنر کے آگے ہنسنے پر مجبور ہو جاتا ہے!”
یہ واقعہ نہ صرف امان اللہ خان کی قابلیت کا ثبوت ہے، بلکہ پاکستانی اسٹیج کی تاریخ کا وہ چٹپٹا باب ہے جہاں ایک عام فنکار نے اپنی ایک جگت سے مارشل لا کا سارا خوف ہوا میں اڑا دیا تھا!