معروف یو ٹیوبر، کامیڈین رانا اعجاز اپنے غربت کے زمانے کو یاد کرتے ہوئے رو پڑے۔۔۔

معروف یوٹیوبر اور کامیڈین رانا اعجاز اپنے والد کو یاد کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ میرے ابو پھلوں کی ریڑھی لگاتے تھے۔ جب بھی میرے پاس پیسے کم ہوتے یا ختم ہو جاتے تو میں ابو کے پاس چلا جاتا۔ وہ اپنی جیب سے پچاس، سو یا دس روپے نکال کر مجھے دے دیتے تھے۔

آج اللہ کے کرم سے میرے پاس بہت کچھ ہے، لیکن جب کبھی پیسے ختم ہوتے ہیں تو ابو بہت یاد آتے ہیں۔ دل میں بس یہی خیال آتا ہے کہ کاش آج بھی کوئی ہوتا جس سے میں کہتا، ابو! تھوڑے سے پیسے دے دیں۔

رانا اعجاز بتاتے ہیں کہ میرے ابو کا انتقال 2008 میں ہوا تھا۔ وہ روزانہ پھلوں کی ریڑھی لگاتے اور ان کا مقصد صرف 150 روپے کمانا ہوتا تھا تاکہ گھر میں کھانے کا انتظام ہو سکے۔

ان کے گھٹنوں میں شدید درد رہتا تھا، لیکن وہ چھٹی نہیں کر سکتے تھے، کیونکہ گھر چلانے کے لیے ان 150 روپوں کی بھی بہت اہمیت تھی۔ وہ ساری زندگی درد کی گولیاں کھا کر کام پر جاتے رہے، مگر افسوس کہ وہ میری شہرت اور کامیابی نہیں دیکھ سکے۔

رانا اعجاز کہتے ہیں کہ جب میں نے پہلی بار اپنی گاڑی خریدی تو مجھے بہت خوش ہونا چاہیے تھا، لیکن میں گاڑی میں بیٹھ کر تقریباً آدھا گھنٹہ روتا رہا۔

اس کی وجہ یہ تھی کہ گاڑی کی اگلی سیٹ خالی تھی۔ وہ سیٹ میرے ابو کی تھی۔ دل چاہتا تھا کہ آج ابو میرے ساتھ بیٹھے ہوتے اور خوش ہو کر کہتے:

“واہ پتر! بڑی سوہنی گڈی لئی اے!”

وہ لمحہ میری زندگی کی سب سے بڑی خوشیوں میں سے ایک تھا، لیکن اس خوشی کو اپنے ابو کے ساتھ بانٹنے کی خواہش ہمیشہ کے لیے ادھوری رہ گئی۔

رانا اعجاز بتاتے ہیں کہ میں نے اپنے گھر کے باہر ایک تختی بڑے فخر اور محبت سے لگوائی، جس پر لکھوایا:

“میرے ابو جی دا گھر”

یہ کہانی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ والدین کی موجودگی دنیا کی سب سے بڑی نعمت ہے۔ جب وہ ہمارے ساتھ ہوتے ہیں تو شاید ہمیں ان کی قربانیوں کا پورا احساس نہیں ہوتا، لیکن جب وہ چلے جاتے ہیں تو بڑی سے بڑی کامیابی بھی ان کی کمی پوری نہیں کر سکتی۔

اپنے والدین کی قدر ان کی زندگی میں کریں، کیونکہ وقت گزرنے کے بعد صرف یادیں رہ جاتی ہیں۔۔۔

Leave a Comment