دنیا مطلب دی او یار-سمن آباد کے حنیف صاحب کی درد بھری داستان۔۔۔

باپ بڑا نہ بھیا ، سب سے بڑا روپیہ : بیرون ملک کے ڈالر پاؤنڈ کمانے کی ہمت نہ رہی تو خون بھی سفید ہو گئے ۔۔۔۔ 30 سال دبئی اور 10 سال انگلینڈ میں ملازمت کرکے کروڑوں روپے کمانے والا لاہور کا ایک بزرگ سب کچھ بیوی بچوں کو لٹا کر اولڈ ہوم میں رہنے پر مجبور ۔۔۔۔۔۔سمن آباد کے حنیف صاحب 1975 میں دبئی چلے گئے ، یہ وہاں ایک سرکاری محکمے میں آپریٹر کے طور پر کام کرتے تھے ، 30 سال اسی کمپنی میں رہے اور سپروائز بن کر ریٹائرڈ ہوئے تو انگلینڈ چلے گئے ، 10 سال وہاں ملازمت کی ، اس دوران گھر کا چکر بھی ہر سال دو سال بعد لگا لیتے ، ان سے غلطی یہ ہوئی کہ جو کمایا بیوی کے اکاؤنٹ میں بھیج دیا ، بیوی نے کچے مکان سے شاندار کوٹھی بنا لی ، 2 بیٹوں اور 2 بیٹیوں کو شاندار تعلیم دلائی گئی ، انگلینڈ میں حنیف صاحب کے روم میٹ انہیں اکثر کہتے ، سب کمائی پاکستان نہ بھیجا کرو کچھ برے دنوں کے لیے اپنے پاس محفوظ رکھو مگر حنیف صاحب کا جواب ہوتا مین نے کیا کرنے ہیں پیسے جو کچھ ہے بچوں کا ہے مر جاؤں گا تو تب بھی تو بچے ہی وارث ہونگے ، قصہ مختصر 40 سال بیرون ملک کمائیاں کرکے حنیف صاحب گھر آگئے تو ہر روز گھر میں لڑائی ہونے لگی ، بیوی کہتی تمہارے بغیر ادھر کونسا کام ہے جو نہیں ہورہا تم واپس آئے کیوں ہو ، جب یہ جھگڑا ہر دوسرے چوتھے دن ہونے لگا تو حنیف صاحب عمر رفتہ کو یاد کرکے رو پڑے اور سوچا کاش اب وہ دوبارہ واپس دبئی یا انگلینڈ جا سکتے ، تو کبھی مر کر بھی واپس نہ آتے مگر اب کچھ نہیں ہو سکتا تھا اب انکی واپسی ناممکن تھی چنانچہ ایک روز حنیف صاحب نے فیصلہ کیا اور لاہور میں ہی ایک اولڈ ہوم میں شفٹ ہو گئے ، چند روز بعد ہی اے آر وائی ٹی وی چینل کے لیے انکا انٹرویو ہوا ، یہ انٹرویو نشر ہوا تو انگلینڈ والے ان کے روم میٹ دوستوں نے کسی نہ کسی طرح پتہ کرکے اولڈ ہوم فون کیا اور کہا : حنیف صاحب: کیا ہو گیا ، آپ کہاں پہنچ گئے ، آپ کے گھر والے خیریت سے ہیں ؟ اب حنیف صاحب انہیں کیا بتاتے کہ انکی کمائی سے بیٹے موجیں کررہے ہیں نئے نئے ماڈل کی گاڑیوں میں پھرتے ہیں اور انکے لیے اس گھر میں کوئی جگہ نہیں جو ان کے خون پسینے کی کمائی سے بنا ہے ۔۔۔ ان دوستوں نے یہ بھی پیشکش کی کہ آپ گوجرانوالہ ہمارے گھر چلے جائیں ، وہاں ٹھاٹ سے رہیں ، نوکر چاکر آپ کی دن رات خدمت کریں گے ۔۔۔۔۔۔ مگر حنیف صاحب نے یہیں اولڈ ہوم میں رہنا مناسب سمجھا ، یہاں عزت بھی ہے ، پیار بھی ، اور خیال بھی رکھا جاتا ہے ۔۔۔۔ یہ اولڈ ہوم انکے گھر سے بہتر ہے جہاں انکی لالچی بیوی اور ڈالروں سے پالے ہوئے بیٹے اور بیٹیاں رہتے ہیں ۔۔۔۔۔ حنیف صاحب کے بقول کاش میں اپنی کمائی کا آدھا حصہ اپنے پاس رکھتا تو آج یہی گھر والے جو ڈیڑھ سال ہو گیا ایک بار مجھے یہاں اولڈ ہوم میں دیکھنے تک نہیں آئے ، سب کے سب میری اجازت کے بغیر کوئی قدم بھی نہ اٹھاتے ۔۔۔ سچ کہتے ہیں دنیا مطلب دی او یاد دنیا مطلب دی ۔۔۔۔

Leave a Comment