اسٹیج ڈانسر دیدار اور انکے دیوانےعاشق کی کہانی۔۔۔

لالچ، دیوانہ شائق اور 70 لاکھ کی گاڑی!
بات اُس دور کی ہے جب اسٹیج ڈراموں کی دنیا میں دیدار اور نرگس کا طوطی بولتا تھا، اور ہر ہال میں تالیاں اور سیٹیاں تھمنے کا نام نہیں لیتی تھیں۔ ڈراما ختم ہوتا تو تھیٹر کے باہر پرستاروں کے رش کا یہ عالم ہوتا کہ گاڑیاں نکلنا مشکل ہو جاتا۔

اُسی زمانے میں ایک رات کا واقعہ ہے۔ ڈرامے کے آخری ایکٹ کے بعد دیدار ڈریسنگ روم سے نکل کر اپنی گاڑی کی طرف بڑھیں، تو سامنے ایک عجیب ہی منظر تھا۔ ایک شخص، جس کے چہرے سے دولت کی گرمی اور آنکھوں میں شدید دیوانگی صاف جھلک رہی تھی، ہاتھوں میں ایک چمکتی ہوئی مہنگی گاڑی کی چابیاں لیے ان کا راستہ روکے کھڑا تھا۔

وہ شخص کوئی عام پرستار نہیں تھا، بلکہ ایک زبردست سیٹھ تھا۔ اس نے دیدار کو دیکھتے ہی سامنے ایک نئی نویکلی، 70 لاکھ روپے کی لگژری گاڑی کی چابی رکھی اور بولا:
“دیدار جی! یہ چابی، یہ گاڑی اور یہ سب کچھ آپ کے لیے ہے۔ بس ایک بار مسکرا کر کہہ دیجیے کہ آپ نے میرا یہ تحفہ قبول کر لیا!”

وہاں موجود لوگ ششدر رہ گئے۔ 70 لاکھ روپے اُس دور میں ایک چھوٹی موٹی سلطنت خریدنے کے برابر تھے! ساتھی فنکار اور ڈرامے کے انتظامیہ والے دور کھڑے کنکھیوں سے دیکھ رہے تھے اور دل ہی دل میں سوچ رہے تھے کہ ‘آج تو لاٹری نکل آئی!’

لیکن ڈراما اسٹیج کے اوپر ہی ختم نہیں ہوا تھا، اصل چٹپٹا موڑ تو اب آنے والا تھا۔

دیدار نے ایک لمحے کے لیے اس چمکتی گاڑی کو دیکھا، پھر اُس دیوانے سیٹھ کے چہرے پر نظر ڈالی۔ ان کے چہرے پر نہ کوئی حیرت تھی اور نہ لالچ کا ذرا سا اثر۔ وہ ہنسیں، اپنا پرس سنبھالا، اور اتنی سادگی و بے نیازی سے بولی:
“ارے سیٹھ صاحب! گاڑی کا میں کیا کروں گی؟ اسٹیج پر جب لوگ ہماری ایک جھلک اور ایک تھرک پر تالیاں بجاتے ہیں، وہ خوشی اس گاڑی سے کہیں بڑی ہے۔ تحفے کا شکریہ، مگر یہ چابی اپنے پاس ہی رکھیے!”

یہ سن کر وہاں موجود لوگ تو دنگ رہ ہی گئے، لیکن وہ سیٹھ صاحب ہکے بکے دیدار کی گاڑی کا دھواں دیکھتے رہ گئے۔ اسٹیج کی چمک دھمک کے پیچھے ایسی بے باکی اور لالچ کو ٹھکرانے کا یہ واقعہ آج بھی تھیٹر کی دنیا میں ایک مزیدار اور یادگار داستان کے طور پر سنایا جاتا ہے!

Disclaimer: This post is based on media reports and is for informational purposes only. Details may change as more information becomes available.

Leave a Comment