
آج بھی ہالی ووڈ کے مشہور ولنز کی بات کی جائے تو ٹاپ پر فلم دی ڈارک نائٹ کے ولن جوکر کا ذکر آتا ہے جس کی ریلز آپ کو انسٹاگرام، فیسبک پر جابجا مل جاتی ہیں۔ کہتے ہیں وہ فلم اس ولن کی وجہ سے چلی جس میں ہیرو سے زیادہ ولن کی پرفارمنس اخیر لیول کی تھی، جس کو آسکر ایوارڈ سے نوازا گیا البتہ وہ ایوارڈ لینے کے لیے وہ ایکٹر ہیتھ لیجر اس دنیا میں موجود نہیں تھا۔ پاکستان کی لالی ووڈ انڈسٹری میں بھی ایک ایسے فنکار اور ولن ہوئے ہیں جن کو ہیرو سے زیادہ شہرت ملی۔ وہ تھے مصطفیٰ قریشی۔
کہتے ہیں پاکستان کے شہر حیدر آباد سے دو فنکار ایسے ہوئے ہیں جنہوں نے پوری انڈسٹری کی کایا پلٹ دی۔ ایک تھے اداکار محمد علی اور دوسرے مصطفیٰ قریشی۔ البتہ مصطفیٰ قریشی اکثر اپنا تعلق سیہون شریف سے بتاتے ہیں جہاں ان کے نانا کا گھر تھا اور انہوں نے ایک مسجد اور ایک مدرسہ تعمیر کروایا تھا۔
مصطفیٰ قریشی نے اپنی فنی سفر کا آغاز حیدر آباد ریڈیو سے کیا، جہاں انکی بارعب آواز بہت پسند کی گئی۔ اور اس پر انہیں فلموں کی آفر ہوئیں۔ ابتداء میں وہ سندھی فلموں میں بطور سائیڈ سپورٹنگ رولز کاسٹ ہوئے۔ اور ان کی محمد علی کے ساتھ دوستی ہوگئی۔ فلم آگ کا دریا کی شوٹنگ کے لیے محمد علی لاہور آئے۔ یہ شوٹنگ دیکھنے کے لیے مصطفیٰ قریشی بھی لاہور آئے جہاں ڈائٹریکڑ رضا میر کی نظر ان پر پڑیں اور انہیں ایک رول آفر کیا۔ لیکن یہ رول کسی ہیرو کا نہیں بلکہ ایک ولن کا رول تھا۔ جس کو سنتے ہی ہیرو بننے کی خواہش والے قریشی صاحب نے ریجیکٹ کردیا ہاں بعد میں بہت منت سماجت کے بعد انہوں نے یہ رول کیا۔ یہ فلم تھی لاکھوں میں ایک۔ شمیم آراء، اعجاز درانی کاسٹ تھے۔ چلو آچھا ہوا ہم بھول گئے گانے کے بول آج بھی ایک ضرب المثل کی مانند ہیں۔
پھر کہانی میں انٹری ہوتی ہے ناصر ادیب کی۔ جن کے مطابق انہوں نے مصطفیٰ قریشی کے ولن والے کردار کو Untouchable بنا دیا، اور برائی کو اس قدر بڑا دکھایا کہ لوگ ڈریں اور پھر جب جو کوئی بھی اس untouchable برائی کو مات دیتا وہ اصل ہیرو کہلاتا تھا۔ ناصر ادیب اپنی اس لاجک کے پیچھے ایک مذہبی تاویل پیش کرتے ہیں جس سے شائد ہر کوئی متفق نہ ہو۔ البتہ ناصر ادیب کہتے ہیں کہ فلم طوفان، لائنسنس، اور خاص کر مولا جٹ، شیر خان جیسی فلموں کے بعد مصطفیٰ قریشی کا رعب اور شہرت اس قدر زیادہ تھی کہ ایک محفل میں یہ دونوں جوڑی دار اکٹھے موجود تھے لیکن دیکھا گیا کہ لوگ زیادہ مصطفیٰ قریشی کی جانب بڑھ رہے اور وہی ڈائیلاگ سن رہے جن کے وہ دیوانے تھے۔ ان ڈائیلاگز میں سے سب سے اوپر ‘نواں آیا ایں سوہنیا’ تھا۔
فلمی کرداروں کی چھاپ حقیقی زندگیوں میں بھی پڑتی ہے۔ بتایا جاتا کہ ان کے بعض ولن کے کردار اس قدر اثر رکھتے تھے کہ لوگ ان کا نام لینے سے ڈر جاتے تھے، اگر کوئی ان کا گھر کا پتہ پوچھتا تو لوگ بتاتے نہیں تھے۔ فلموں میں ایک تکون Triangle بن چکی تھی۔ سلطان راہی، مصطفیٰ قریشی اور ایک ہیروئن(جو زیادہ تر انجمن ہوتی تھیں)۔ اس تکون نے صحیح معنوں میں راج کیا تھا۔ فلم کے ہٹ ہونے کے لیے یہ نام ہی کافی تھی
ڈسکلیمر:
یہ معلومات آن لائن ذرائع سے حاصل کی گئی ہیں اور صرف اور صرف معلوماتی مقاصد کے لیے پیش کی جا رہی ہیں۔ اس پوسٹ کا مقصد کسی فرد، ادارے، نظریے یا واقعے کے بارے میں حتمی رائے قائم کرنا یا کسی مخصوص نقطۂ نظر کی تائید کرنا نہیں۔ قارئین و سامعین سے گزارش ہے کہ وہ اس مواد کو اپنی صوابدید اور فہم کے مطابق دیکھیں