دلہن ایک رات کی؛ جو مکلاوے والے دن اپنا دولہا کھا گئی۔۔۔

“دلہن ایک رات کی” جو مکلاوے والے دن اپنا دولہا کھا گئی : نکاح کے بعد مگر رخصتی سے پہلے ایک لڑکی نے عاشق بنا لیا ، اس شرمناک کہانی کا پھر کیا انجام ہوا تھا ؟ 3 سال قبل مغلپورہ لاہور میں پیش آئے واقعہ کی روداد۔۔۔ تصویر میں موجود ملزم شاہ میر ایک دکان پر کام کرتا تھا ، اسی دکان کے سامنے ایک گھر کی نوجوان لڑکی رمشا اسکے ساتھ اشارے بازی کرتی ، جسکا مطلب صاف واضح تھا ، گرین سگنل ملنے کے کچھ روز بعد شاہ میر نے لڑکی کو اپنا نمبر دے دیا اور یوں بات چیت شروع ہو گئی ، لڑکی اکثر و بیشتر شاہ میر کو اپنے گھر ملاقات کے لیے بلاتی جب کوئی نہ ہوتا ۔ پتہ چلا کہ لڑکی کا نکاح ہو چکا تھا اور کچھ ماہ بعد رخصتی تھی ۔ لڑکی چاہتی تھی کہ کسی طرح اسکے ہونیوالے شوہر سے اسکی جان چھوٹ جائے اور وہ شاہ میر کی دلہن بن جائے کیونکہ ہونیوالا شوہر ثقلین رمشا کو پسند نہیں تھا ، ابتدائی طور پر شاہ میر نے اپنے والدین کو رمشا کے رشتے کے لیے اسکے گھر بھی بھیجا مگر چونکہ اس کا تو نکاح ہو چکا تھا اس لیے رمشا کے والدین نے صاف انکار کردیا ، رمشا نے بھی ضد کی لیکن والدین رشتہ اور نکاح تڑوا کر اپنی ناک نہیں کٹو۔انا چاہتے تھے ، چنانچہ خاموش چھا گئی لیکن رمشا اور شاہ میر کے رابطے اور جسمانی ملاقاتیں پہلے سے زیادہ ہوگئیں ۔ انہی ملاقاتوں میں رمشا نے شاہ میر کو کہا کہ ثقلین کو کسی طریقے سے ق۔ت۔ل کردو ۔ شاہ میر بھی اسی سوچ میں تھا لیکن موقع نہ ملا یا شاید ہمت نہ ہوئی ۔ کرتے کراتے رمشا کی شادی کے دن آگئے ، بے خوف لڑکی شادی کی تقریبات میں بھی شاہ میر کے ساتھ رابطے میں رہی ، پہلے شاہ میر کا ارادہ تھا کہ وہ ثقلین کو بارات والے دن ق۔ت۔ل کرے گا اس نے ایک دوست سے پستو۔ل بھی مانگ رکھا تھا لیکن موقع نہیں مل رہا تھا رمشا بیاہ کر ثقلین کے ساتھ چلی گئی ، ولیمہ بھی ہو گیا آخر مکلاوے والے دن شاہ میر کو موقع مل گیا اور جب ثقلین اور اسکا والد اور بھائی ودیگر رشتہ دار دلہن کو ایک رکشہ پر مغلپورہ سے واپس مرید کے لے جارہے تھے ، شاہ میر نے اپنے ایک دوست کے ساتھ بائیک پر انکا پیچھا کیا اور چوبچہ پھاٹک کے پاس رکشہ میں سوار ثقلین کو اندھا دھند گو۔لیاں مار دیں ۔ ثقلین موقع پر چل بسا تھا ۔ شاہ میر فرار ہو کر اپنے گھر آگیا مگر دوسرے روز پولیس نے اسے گھر سے ہی گرفتار کر لیا ۔۔۔ تفتیش کے دوران شاہ میر نے اپنے جرم کا اعتراف کر لیا اور ساری کہانی بتا دی تو ایک رات کی دلہن رمشا کو بھی حراست میں لے لیا گیا جس نے ابتدائی بیان یہ دیا کہ اسکی دوستی آشنائی ضرور تھی لیکن اس نے شاہ میر کو ثقلین کو ق۔ت۔ل کرنے کا نہیں کہا ۔ لیکن شاہ میر کا بیان یہی رہا کہ اس نے ثقلین کو رمشا کے مشورے اور کہنے پر ہی مارا ہے ، بعد ازاں پولیس نے اس کیس میں چالان عدالت جمع کروایا تھا جہاں سے ملزم ملزمہ اور ساتھی ملزم تینوں کو جیل بھجوا دیا گیا تھا ۔۔۔۔۔

Leave a Comment