
پاکستانی فلم انڈسٹری کے عظیم اداکار سلطان راہی کی زندگی اور ان کی المناک موت آج بھی لاکھوں مداحوں کے دلوں میں ایک دردناک یاد کے طور پر محفوظ ہے۔
سلطان راہی 24 جون 1938ء کو پیدا ہوئے۔ انہوں نے اپنی منفرد آواز، جاندار اداکاری اور دبنگ کرداروں کے ذریعے پنجابی فلم انڈسٹری میں ایک الگ پہچان بنائی۔ ان کی شہرۂ آفاق فلم مولا جٹ (1979ء) نے پاکستانی سینما کی تاریخ میں ایک نمایاں مقام حاصل کیا۔
سلطان راہی نے اپنے طویل فنی سفر کے دوران سینکڑوں فلموں میں اداکاری کے جوہر دکھائے اور عوام میں بے پناہ مقبولیت حاصل کی۔ ان کا مخصوص انداز، مکالموں کی ادائیگی اور یادگار کردار آج بھی فلمی شائقین کے ذہنوں میں زندہ ہیں۔
9 جنوری 1996ء کو گوجرانوالہ کے قریب ڈکیتی کی ایک واردات کے دوران انہیں قتل کر دیا گیا۔ ان کی اچانک موت نے پاکستانی فلم انڈسٹری اور ان کے مداحوں کو سوگوار کر دیا۔
سلطان راہی کے قتل اور جنازہ کے درمیان چار دن کا وقفہ تھا۔ پانچویں دن جنازہ پڑھا گیا تھا۔ لاہور کی سڑکوں پر کیا مناظر تھے؟:
لارنس گارڈن کی مشرقی سڑک مشرقی گیٹ جسکے بالکل سامنے سلطان راہی کی رہائش گاہ ہے اس سڑک پر عوام کا جم غفیر پانچ دن تک مسلسل بے قابو ہجوم کی شکل میں رہا۔ یہ سڑک دونوں جانب بند رہی جس پر سلطان راہی کے دیوانے دھاڑیں مار مار کر سارا سارا دن روتے رہتے تھے۔ اس دن اندرون ملک لاہور آنے والی تمام پروازیں فل تھیں۔ لاہور کے تمام ہوٹلز کی بکنگ فل تھی۔ پورے لاہور میں سوگ کا عالم تھا۔ عوام کی اتنی بڑی تعداد کے پیش نظر کسی حادثاتی صورتحال سے بچنے کے لئے نماز جنازہ وقت سے دو گھنٹے پہلے پڑھا دیا گیا ۔ دربار شاہ شمس قاری کے احاطے میں سلطان راہی کی تدفین کی جا رہی تھی تو اس دربار کی چار دیواری پر لوگ ہی لوگ تھے اور چاروں اطراف کی دیواریں گر گئی تھیں۔ کیمرہ ۔۔۔ جو کہ سلطان راہی کا عاشق تھا لحد تک انکا پیچھا کرتا رہا۔
یاد رہے کہ سلطان راہی کی نماز جنازہ میں سوا دو لاکھ کے قریب لوگوں نے شرکت کی تھی۔ یہ لاہور کی تاریخ کا دوسرا بڑا جنازہ تھا۔ لاہور کی تاریخ میں پہلا بڑا جنازہ غازی علم دین شہید کا اور دوسرا بڑا جنازہ سلطان راہی کا ہے ، یہ ریکارڈ آن ریکارڈ ہے۔
پوسٹ مارٹم کے بعد سلطان راہی کے جسد خاکی کو انکے بیٹے طارق سلطان نے وصول کیا تھا جسکی رسید تحریر کے ساتھ لف ہے۔
ان کا جنازہ ایک عظیم فنکار کو آخری الوداع کہنے کا دردناک منظر تھا۔ سلطان راہی اگرچہ آج ہمارے درمیان موجود نہیں، لیکن ان کی فلمیں، کردار اور یادگار مکالمے آج بھی ان کے فن کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔
کچھ فنکار دنیا سے چلے جاتے ہیں، مگر اپنے فن کے ذریعے ہمیشہ لوگوں کے دلوں میں زندہ رہتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ سلطان راہی مرحوم کی مغفرت فرمائے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ آمین۔