سلطان راہی کو غسل دیتے مصطفیٰ قریشی نے کیا منظر دیکھا؟

سنیما کے پردے پر جب مولا جٹ اور نوری نت ایک دوسرے کے سامنے آتے تو سینما ہال ہتھوڑوں کی تھپک اور نعروں سے گونج اٹھتے تھے، مگر حقیقی زندگی میں نوری نت کا کردار نبھانے والے مصطفیٰ قریشی اور مولا جٹ بننے والے سلطان راہی کے درمیان جو گہری دوستی، محبت اور احترام کا رشتہ تھا، وہ لفظوں کا محتاج نہیں۔ مصطفیٰ قریشی نے جب اپنے جگر گوشہ دوست سلطان راہی کے آخری ایام اور ان کی بھیانک موت کے بعد کے مناظر کا تذکرہ کیا، تو ان کا ایک ایک لفظ درد، ندامت اور بھیگے ہوئے احساسات میں ڈوبا ہوا تھا۔

مصطفیٰ قریشی بتاتے ہیں کہ سلطان راہی کی وفات سے کچھ ہی دن پہلے، وہ دونوں ایک ڈرامے یا سیٹ کے سلسلے میں اکٹھے تھے۔ دونوں دوستوں نے ایک دوسرے کے گلے لگ کر ہمیشہ کی طرح پیار کا تبادلہ کیا، مگر کسی کو معلوم نہیں تھا کہ یہ ان کی آخری ملاقات ہے۔ سلطان راہی اس وقت بھی اپنی روایتی مسکراہٹ اور عاجزی کے ساتھ اپنے ساتھیوں میں محبتیں بانٹ رہے تھے۔ ان کے آخری دنوں کی بے لوثی اور لوگوں کی مدد کرنے کا جذبہ اپنی انتہا پر تھا، مگر اچانک 9 جنوری کی اس سیاہ رات نے سب کچھ تباہ کر کے رکھ دیا۔

جب سلطان راہی کے قتل کی روح فرسا خبر لاہور پہنچی، تو مصطفیٰ قریشی کے قدموں تلے سے زمین نکل گئی۔ وہ اپنے اس دوست کے آخری دیدار اور غسل کے لمحے کو یاد کرتے ہوئے انتہائی جذباتی ہو جاتے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ جب وہ ہسپتال اور پھر غسل کے مقام پر پہنچے، تو سامنے اپنے اس عظیم دوست کا بے جان جسدِ خاکی پڑا ہوا دیکھا جس نے دہائیوں تک پوری قوم کو اپنے فن سے گرمائے رکھا تھا۔

سلطان راہی کو غسل دینے کے دردناک مناظر کو یاد کرتے ہوئے مصطفیٰ قریشی کی آواز بھررا جاتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جس چہرے پر ہمیشہ حیا، عاجزی اور ببر شیر جیسا جلال ہوتا تھا، آج وہ چہرے پر گولی کے نشان اور خون کے آخری قطرے لیے خاموش پڑا تھا۔ اپنے ہاتھوں سے اپنے یار، اپنے بھائی جیسے ساتھی کے جسدِ خاکی پر پانی ڈالنا اور اسے غسل دینا ایک ایسا دردناک لمحہ تھا جس نے مصطفیٰ قریشی کی روح تک کو زخمی کر دیا۔ وہ کہتے ہیں کہ غسل دیتے وقت ان کے اپنے آنسو سلطان راہی کے چہرے پر گر رہے تھے، اور انہیں ایسا لگ رہا تھا جیسے ان کی اپنی ذات کا ایک بہت بڑا حصہ ہمیشہ کے لیے دفن ہو رہا ہو۔

سلطان راہی کی میت کو کافور اور غسل کا پانی لگاتے ہوئے مصطفیٰ قریشی کا دل خون کے آنسو رو رہا تھا کہ جو شخص پوری انڈسٹری کا بوجھ اٹھائے ہوئے تھا، ہزاروں گھروں کے چولہے چلاتا تھا، آج وہ سفید کفن میں لپٹا، ہمیشہ کے لیے خاموش ہو چکا ہے۔ وہ لمحہ نہ صرف ان کی اپنی ذات کے لیے بلکہ پوری پاکستانی فلم انڈسٹری کے لیے ایک ایسا صدمہ تھا جس کا خلا آج تک پُر نہیں ہو سکا۔

مصطفیٰ قریشی کے بقول، سلطان راہی کے چلے جانے کے بعد بھی ان کا چہرہ اور غسل کا وہ کرب ناک منظر کبھی ان کی آنکھوں سے اوجھل نہیں ہوا۔ وہ ایک ایسا ہیرو تھا جس نے جی کر بھی لوگوں میں محبتیں بانٹیں اور جاتے جاتے اپنے پیاروں کے دلوں میں ایک ایسا غم چھوڑ گیا جو کبھی پرانا نہیں ہو سکتا۔

Leave a Comment