اپنی بیی اور بیوی کی سلامتی داؤ پر لگا کر ایک دوسری عورت کی بچی کو خطرناک گینگ سے بچانے والے اے۔ ایس آئی محمد بخش۔۔۔

یہ ہیں سندھ پولیس کے اے ایس آئی محمد بخش جنہوں نے اپنی بیوی اور بیٹی کی سلامتی کو داؤ پر لگا کر ایک دوسری عورت کی بیٹی کو خطرناک گینگ سے بچایا۔۔۔
محمد بخش کا وہ کارنامہ ہے جس نے انسانیت اور بہادری کی ارلی مثال قائم کی ہے۔

محمد بخش بتاتے ہیں کہ 31 تاریخ کو تھانے پر ایک عورت آئی، نام تبسم بیگم۔ رو رہی تھی، کہہ رہی تھی بھائی میری مدد کرو، میری بچی چھین لی گئی ہے، میرے ساتھ بہت ظلم ہوا ہے۔ اس کے پاس نہ کوئی ثبوت تھا، نہ کوئی پتہ، نہ کوئی نمبر۔ صرف ایک بند نمبر تھا جو اس نے لکھ کر دیا۔

تھانے میں کسی کو سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ اس عورت کی مدد کیسے کی جائے۔ پھر محمد بخش نے اس کو بولا، آپ فکر نہ کرو، میں آپ کی مدد کروں گا۔ اس عورت کے پاس رہنے کی جگہ بھی نہیں تھی، مسجد میں بھی اس کو سونے نہیں دے رہے تھے۔ محمد بخش نے اس کو اپنے گھر بھیج دیا۔ وہ دس دن اس کے گھر میں رہی، اس کی بیٹیوں کے ساتھ رہی، روتی رہتی تھی، بس ایک ہی بات کہتی تھی، میری بچی لا دو۔

یہیں سے محمد بخش کا اصل کارنامہ شروع ہوتا ہے۔ اس نے شور نہیں مچایا، جلد بازی نہیں کی۔ اس نے اس بند نمبر کے کھلنے کا انتظار کیا اور جب نمبر کھلا تو خیر اللہ کا نام نکلا، پھر اس کے بھائی کا نمبر نکالا۔ محمد بخش نے خود کو ایریا مینیجر بنا کر بات کی کہ آپ کے پچاس ہزار آئے ہیں، آ کر لے جاؤ۔ وہ لالچ میں آ گیا، بولا پچیس تم رکھ لو، پچیس میں رکھ لوں۔ محمد بخش نے بولا مجھے پیسے نہیں چاہیے، تم خود آ جاؤ، تمہارے شناختی کارڈ کی ضرورت ہے۔ وہ دو دن ٹالتا رہا، پھر بھی نہیں آیا۔

پھر خیر اللہ کا نمبر کھلا تو اس عورت سے بات کروائی۔ خیر اللہ نے دوسرے بندے رفیق کا نمبر دے دیا۔ رفیق نے فون پر بچی سے بات کروائی۔ بچی خوف سے رو رہی تھی۔ رفیق نے شرط رکھی، عورت لاؤ تو بچی دوں گا، ورنہ بچی کو بھی مار دوں گا، تمہیں بھی مار دوں گا۔ محمد بخش نے اس کو بولا، دو تین دن صبر کرو، عورت مل گئی ہے، کراچی میں ہے۔

اب مسئلہ یہ تھا کہ لیڈیز پولیس نہیں مل رہی تھی۔ محمد بخش نے اپنے گھر والوں کو اس مشن میں شامل کیا۔ اپنی بیوی سے بولا، تمہیں یہ کارنامہ کرنا ہے۔ بیوی نے بولا، آپ بولتے ہیں تو میں کر دوں گی۔ بیوی نے اس مجرم سے عورت بن کر بات کی، اس کو جال میں پھنسایا۔ بولی میں غریب ہوں، نوکری کے لیے تڑپ رہی ہوں، عمر بائیس سال ہے۔ وہ پھسل گیا۔ پھر محمد بخش نے اپنی بیٹی سے بات کروائی۔ بیٹی نے بولا ہم کشمور پہنچ گئے ہیں، ہوٹل میں بیٹھے ہیں، ہمیں پتہ نہیں کہاں آنا ہے۔ اس نے بولا سٹی پارک میں آ جاؤ۔

محمد بخش نے اپنی بیٹی کو داؤ پر لگا دیا۔ اس نے نماز پڑھ کر اپنے ساتھیوں کو سٹی پارک میں سفید کپڑوں میں واک کرنے کے لیے کھڑا کر دیا، خود گیٹ پر بیٹھ گیا، بیٹے کو بھی وہیں بٹھا دیا۔ اس کی بیٹی نے بولا، بابا تم جذباتی ہو، کہیں تم شوٹ نہ کر دو، ہم غریب ہیں مر جائیں گے۔ محمد بخش نے پسٹل نہیں اٹھایا۔ بیٹی نے بولا، بابا مجھ پر بھروسہ کرو، میں اس کے گلے میں پڑ جاؤں گی، اس کو چھوڑوں گی نہیں۔

جیسے ہی وہ مجرم سٹی پارک میں آیا، چکر لگا کر دیکھ گیا کہ پولیس تو نہیں ہے۔ پھر بیٹی کے پاس آیا، بولا نوکری کرو گی، نقاب ہٹاؤ۔ بیٹی نے نقاب ہٹایا تو وہ دیکھتا رہ گیا۔ جیسے ہی وہ ہلنے لگا، بیٹی نے اس کو پکڑ لیا، محمد بخش اور اس کے ساتھی پہنچ گئے، اس کو تھانے لے آئے۔

تھانے میں اس نے پہلے مکرنے کی کوشش کی، بولا بچی میرے پاس نہیں ہے، خیر اللہ کے پاس ہے۔ پھر پولیس نے اس سے بات کی، وہ پھسل گیا، بولا لڑکی میرے گھر میں ہے۔ پولیس اس کے گھر گئی تو گھر خالی تھا۔ کمرے چیک کیے تو کچھ نہیں ملا۔ ایک جگہ گندا سا کپڑا پڑا تھا، اس میں بچی لپٹی ہوئی تھی، خوف سے ہل بھی نہیں رہی تھی۔ ماں نے دیکھتے ہی بولا، یہی میری بیٹی ہے۔ محمد بخش خود اس بچی کو ہسپتال لے گیا، لاڑکانہ تک ساتھ گیا، علاج کروایا۔

لوگوں نے راستے میں اس کا استقبال کیا، بولے آپ نے بہت اچھا کام کیا ہے، اپنی بیٹی کو داؤ پر لگا کر ایک وحشی درندے کو پکڑا ہے۔ محمد بخش نے بولا، ہم سندھ کے لوگ ہیں، مہمان نواز ہیں، وہ دس دن ہمارے گھر میں رہی ہے، ہمارا سارا خاندان مر جائے تو میں اس کو نہیں چھوڑوں گا۔

بعد میں ڈی آئی جی صاحب نے فون کیا، ایس پی صاحب نے فون کیا، سندھ گورنمنٹ نے دس لاکھ روپے انعام دیا، پاکستان گولڈ میڈل بھی دیا، اس کی بچی کو بھی ایوارڈ دیا، اور کہا اس کی بچیوں کی اعلی تعلیم کا خرچہ ہم دیں گے۔ محمد بخش آج بھی یہی کہتا ہے، سندھ پولیس اچھی ہے، لوگ ہمیں غلط نگاہ سے دیکھتے ہیں، ہم تو عوام کے نوکر ہیں، ہم تو آپ کی خدمت کرتے ہیں۔۔۔

Leave a Comment