وہ وقت کہ جب 57 سالہ سلطان راہی 23 سالہ صائمہ کیساتھ بطور ہیرو کاسٹ ہوئے۔۔۔

صائمہ نور کی کہانی پاکستانی فلمی دنیا کے اس دور کی کہانی ہے جب سلطان راہی کے نام پر فلمیں فروخت ہوتی تھیں، سینما گھروں میں پنجابی فلموں کا راج تھا، اور کسی نئی اداکارہ کے لیے فلمی صنعت میں اپنی جگہ بنانا آسان نہیں تھا۔ اس دنیا میں پہلے سے انجمن، نیلی، نادرہ اور دیگر مقبول اداکارائیں موجود تھیں۔ ہر اداکارہ کے لیے ضروری تھا کہ وہ صرف خوب صورت چہرہ بن کر پردے پر نہ آئے، بلکہ اپنی اداکاری، انداز اور شخصیت سے ناظرین کے ذہنوں میں جگہ بنائے۔
صائمہ نے اسی ماحول میں اپنے سفر کا آغاز کیا۔ ان کے کیریئر کی سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ ایک ہی وقت میں سلطان راہی جیسے غیرمعمولی مقبول ہیرو کے ساتھ پنجابی فلموں میں کام کر رہی تھیں، لیکن ان کی اصل شناخت بننے میں کئی برس لگے۔ پھر ایک ایسا وقت آیا جب وہ پاکستانی سینما کی سب سے زیادہ مقبول ہیروئنز میں شمار ہونے لگیں۔ ان کے اس سفر میں ابتدائی ناکامیاں، سلطان راہی کے ساتھ فلمیں، ایک بڑے ستارے کی اچانک موت، اور پھر گھونگھٹ اور چوڑیاں جیسی فلموں کے ذریعے نئی بلندیوں تک پہنچنے کی داستان شامل ہے۔

صائمہ نور کے فلمی سفر کا آغاز سن 1987ء کی فلم گریبان سے منسوب کیا جاتا ہے، جبکہ ان کی ابتدائی نمایاں فلموں میں خطرناک کا نام بھی آتا ہے، جو 1990ء میں ریلیز ہوئی۔ بعض فلمی حوالوں میں ان کے ابتدائی سفر کے سالوں کے بارے میں فرق ملتا ہے، لیکن اس بات پر اتفاق دکھائی دیتا ہے کہ وہ ابتدا ہی سے پنجابی سینما کی طرف راغب ہوئیں اور جلد ہی سلطان راہی کے ساتھ کام کرنے لگیں۔

یہ وہ زمانہ تھا جب سلطان راہی محض ایک اداکار نہیں، بلکہ پنجابی فلموں کی کامیابی کی ایک بڑی علامت تھے۔ ان کے مخصوص اندازِ گفتگو، بھاری آواز، جذبات سے بھرپور مکالموں اور ایکشن سے بھرپور کرداروں نے انہیں عوامی مقبولیت کی ایسی سطح پر پہنچا دیا تھا جہاں ان کے ساتھ کام کرنا کسی بھی نئی اداکارہ کے لیے ایک اہم موقع تھا۔
لیکن اس موقع کے ساتھ ایک چیلنج بھی تھا۔ سلطان راہی کی شخصیت اور اسکرین پر ان کی موجودگی اس قدر نمایاں ہوتی تھی کہ ان کے مقابل اداکارہ کے لیے اپنی الگ شناخت قائم کرنا آسان نہیں تھا۔ صائمہ کو ایسی فلموں میں اپنے کردار نبھانے تھے جن میں ایکشن، انتقام، خاندانی دشمنی، محبت اور جذباتی کشمکش سب کچھ شامل ہوتا تھا۔ ان فلموں میں ہیرو کے کردار کو اکثر غیرمعمولی اہمیت دی جاتی تھی، لیکن ہیروئن کو بھی کہانی کے جذباتی پہلو کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کرنا پڑتا تھا۔
صائمہ کے ابتدائی فلمی سفر میں 1992ء ایک اہم سال ثابت ہوا۔ اسی برس ان کی فلم دل لگی ریلیز ہوئی، جس میں سلطان راہی، جاوید شیخ، شاہدہ منی، عطاء اللہ خان عیسیٰ خیلوی اور عارف لوہار بھی شامل تھے۔ فلم کی خاص بات یہ تھی کہ اس میں پنجابی سینما کے روایتی ایکشن کے ساتھ موسیقی کی دنیا کے دو معروف ناموں کو بھی اداکاری کے میدان میں متعارف کرایا گیا۔ عطاء اللہ خان عیسیٰ خیلوی اور عارف لوہار کی موجودگی نے اسے ایک الگ رنگ دیا۔

دل لگی کو صائمہ کے کیریئر کے ابتدائی اہم مراحل میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس فلم میں سلطان راہی کے ساتھ ان کی جوڑی اس دور کے پنجابی سینما کے اس عمومی رجحان کی عکاس تھی جس میں معروف ہیرو کے ساتھ نئی یا ابھرتی ہوئی اداکاراؤں کو مرکزی کرداروں میں جگہ دی جاتی تھی۔ یہ صرف ایک فلم کی کاسٹنگ نہیں تھی، بلکہ ایک ایسے فلمی نظام کا حصہ تھی جہاں بڑے ستارے کی موجودگی نئی اداکارہ کے لیے وسیع تر ناظرین تک پہنچنے کا ذریعہ بن سکتی تھی۔
اسی سال شیر علی بھی ریلیز ہوئی، جس میں صائمہ، نیلی اور سلطان راہی شامل تھے۔ اس فلم کے ہدایت کار مسعود بٹ تھے۔ اس کاسٹ میں نیلی جیسی معروف اداکارہ کی موجودگی بھی قابلِ ذکر تھی، کیونکہ صائمہ ابھی اپنے کیریئر کے ابتدائی مراحل میں تھیں اور انہیں تجربہ کار اداکاراؤں کے ساتھ کام کرنے کا موقع مل رہا تھا۔

1992ء کے بعد صائمہ کا نام پنجابی فلموں کے کریڈٹس میں مسلسل نظر آنے لگا۔ محبت کے سوداگر، خون کا قرض، آخری شہزادہ، ڈاکو، چور، سپاہی اور یادگار جیسی فلمیں ان کے ابتدائی فلمی دور کا حصہ بنیں۔ ان عنوانات سے اس زمانے کی پنجابی فلموں کے موضوعات کا اندازہ بھی ہوتا ہے: محبت، انتقام، جرائم، خاندانی تنازعات اور بہادری کے قصے۔ صائمہ ان کہانیوں کے اندر اپنی جگہ بنا رہی تھیں، اور سلطان راہی کے ساتھ ان کی بار بار کاسٹنگ ان کے کیریئر کا ایک نمایاں پہلو بنتی جا رہی تھی۔

1994ء اور 1995ء تک ان کی فلمی سرگرمیاں مزید بڑھ چکی تھیں۔ غنڈہ راج، شیر پنجاب دا، بوٹ شکن، سرنگا، انٹرنیشنل لٹیرے، زمین آسمان اور جنگل کا قانون جیسی فلموں میں ان کا نام سامنے آتا ہے۔ ان میں سے غنڈہ راج میں سلطان راہی اور صائمہ کے ساتھ عمر شریف، نرگس اور دیگر فنکار بھی شامل تھے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ صائمہ کا سفر صرف ایک ہیرو کے ساتھ چند فلموں تک محدود نہیں تھا، بلکہ وہ اس وقت کے بڑے پنجابی فلمی نظام میں باقاعدہ جگہ بنا چکی تھیں۔

یہاں سلطان راہی کے ساتھ ان کی جوڑی کی اہمیت کو سمجھنا ضروری ہے۔ سلطان راہی کی فلموں میں ہیرو کی شخصیت اکثر کہانی کا مرکزی ستون ہوتی تھی، مگر ایک کامیاب پنجابی فلم کے لیے صرف ایکشن کافی نہیں تھا۔ اسے محبت، رشتوں، قربانی، ظلم کے خلاف کھڑے ہونے اور جذباتی وابستگی کی بھی ضرورت ہوتی تھی۔ ہیروئن کا کردار ان پہلوؤں کو انسانی رنگ دیتا تھا۔ صائمہ نے اسی فلمی ماحول میں کام کرتے ہوئے اپنے لیے جگہ بنائی، اور ان کی مسلسل کاسٹنگ اس بات کی علامت تھی کہ فلم ساز انہیں اس بازار اور اس صنف کے لیے موزوں سمجھتے تھے۔
تاہم، اس سفر میں سب سے بڑا موڑ 9 جنوری 1996ء کو آیا، جب سلطان راہی کو قتل کر دیا گیا۔ ان کی اچانک موت نے پاکستانی فلمی صنعت کو شدید صدمہ پہنچایا۔ وہ کئی دہائیوں سے پنجابی سینما کے سب سے نمایاں ستاروں میں شمار ہوتے تھے، اور ان کی وفات سے ایک ایسے دور کا خاتمہ ہوا جس میں ان کی شخصیت اور مقبولیت نے فلمی کاروبار پر گہرا اثر ڈالا تھا۔

صائمہ کے لیے یہ تبدیلی اس لیے بھی اہم تھی کہ ان کے ابتدائی کیریئر کا ایک بڑا حصہ سلطان راہی کے ساتھ فلموں پر مشتمل تھا۔ لیکن کسی فنکار کا اصل امتحان صرف اس وقت نہیں ہوتا جب اسے ایک مقبول ستارے کے ساتھ کام کرنے کا موقع مل رہا ہو؛ اصل امتحان اس وقت ہوتا ہے جب وہ سہارا موجود نہ رہے اور اسے اپنی شناخت خود آگے لے کر چلنا پڑے۔
سلطان راہی کی وفات کے بعد صائمہ نے اپنا فلمی سفر جاری رکھا۔ ان کے سامنے نئے ہیرو، نئے ہدایت کار اور بدلتے ہوئے فلمی رجحانات تھے۔ اسی دور میں ہدایت کار سید نور کے ساتھ ان کا پیشہ ورانہ تعلق اہم ہوا۔ سید نور نے انہیں اردو فلموں میں بھی نمایاں مواقع دیے، اور 1997ء کی فلم گھونگھٹ ان کے کیریئر میں ایک اہم موڑ ثابت ہوئی۔ صائمہ کے فلمی سفر کے بارے میں دستیاب حوالوں میں اس فلم کو ان کی نئی شناخت اور مقبولیت کے لیے خاص اہمیت دی جاتی ہے۔

پھر 1998ء میں چوڑیاں ریلیز ہوئی، جس نے صائمہ کی زندگی اور پاکستانی سینما دونوں پر گہرا اثر ڈالا۔ سید نور کی ہدایت کاری میں بننے والی اس پنجابی فلم میں صائمہ کے ساتھ معمر رانا اور نرگس بھی شامل تھے۔ فلم نے غیرمعمولی تجارتی کامیابی حاصل کی اور اس کی کمائی اس وقت کے پاکستانی سینما کے بڑے ریکارڈز میں شمار ہوئی۔ ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق، فلم نے تقریباً 20 کروڑ روپے کمائے، حالانکہ اسے محدود تعداد میں سینما گھروں میں ریلیز کیا گیا تھا۔

چوڑیاں کی کامیابی کی ایک دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ اس فلم میں صائمہ کے مقابل سلطان راہی نہیں، بلکہ معمر رانا تھے۔ یوں ایک اداکارہ جس نے اپنے ابتدائی فلمی دور میں سلطان راہی کے ساتھ کام کرتے ہوئے اپنی پہچان بنائی تھی، اب ایک نئی فلمی جوڑی کے ساتھ اس مقام تک پہنچ گئی جہاں اس کا نام خود فلم کی تجارتی کشش کا حصہ بن چکا تھا۔ صائمہ اور معمر رانا کی جوڑی نے اس فلم کے ذریعے غیرمعمولی مقبولیت حاصل کی، اور اس کامیابی نے صائمہ کو پاکستانی سینما کی صفِ اول کی اداکاراؤں میں مضبوط مقام دیا۔

یہاں اس کہانی کا اصل حسن سامنے آتا ہے۔ صائمہ نور کے سفر کو صرف سلطان راہی کے ساتھ کام کرنے والی ایک اداکارہ کی کہانی سمجھنا درست نہیں ہوگا۔ ان کے ابتدائی برسوں میں سلطان راہی کے ساتھ کام کرنا ایک اہم موقع ضرور تھا، لیکن ان کی طویل فلمی زندگی کا اگلا حصہ اس بات کی مثال ہے کہ ایک اداکارہ کس طرح اپنے کیریئر کو بدلتے ہوئے حالات کے مطابق آگے بڑھا سکتی ہے۔ انہوں نے پنجابی ایکشن فلموں سے آغاز کیا، مختلف ہیروز کے ساتھ کام کیا، اردو فلموں میں جگہ بنائی اور پھر چوڑیاں اور بعد ازاں مجاجن جیسی فلموں کے ذریعے اپنی مقبولیت کو مزید مستحکم کیا۔

صائمہ کی کہانی میں ایک اور پہلو بھی قابلِ توجہ ہے۔ پاکستانی سینما میں اکثر اداکاراؤں کی کامیابی کو کسی ایک ہیرو، کسی ایک ہدایت کار یا کسی ایک سپرہٹ فلم کے ساتھ جوڑ دیا جاتا ہے۔ لیکن صائمہ کے کیریئر کی مدت اور تنوع بتاتے ہیں کہ ان کی پہچان کسی ایک دور تک محدود نہیں رہی۔ سلطان راہی کے ساتھ ان کے ابتدائی تجربات، سید نور کی فلموں میں ان کی نمایاں موجودگی اور بعد میں معمر رانا اور شان جیسے اداکاروں کے ساتھ ان کی جوڑیاں، سب اس سفر کے الگ الگ مراحل ہیں۔
جب ہم ان کے ابتدائی دور کو پلٹ کر دیکھتے ہیں تو سلطان راہی کے ساتھ ان کی فلمیں ایک خاص تاریخی اہمیت اختیار کر لیتی ہیں۔ وہ ایک ایسے زمانے کی یاد دلاتی ہیں جب پنجابی سینما اپنے روایتی انداز میں مقبولیت کے عروج پر تھا، سلطان راہی اس دنیا کے مرکزی ستارے تھے اور صائمہ ایک نئی اداکارہ کے طور پر اس نظام میں اپنی جگہ بنا رہی تھیں۔ پھر وقت بدلا، سلطان راہی دنیا سے رخصت ہوگئے، فلمی صنعت کے حالات تبدیل ہوئے اور صائمہ نے اپنے سفر کو نئے انداز میں آگے بڑھایا۔
شاید صائمہ نور کی کہانی کا سب سے اہم سبق یہی ہے کہ کسی بڑے ستارے کے ساتھ سفر شروع کرنا ایک موقع ہو سکتا ہے، مگر اپنی الگ شناخت قائم کرنا ایک طویل جدوجہد ہے۔ سلطان راہی کے ساتھ ان کی ابتدائی فلمیں اس سفر کا آغاز تھیں؛ چوڑیاں کی کامیابی اس بات کی علامت بن گئی کہ وہ اب صرف کسی معروف ہیرو کے ساتھ نظر آنے والی اداکارہ نہیں رہیں، بلکہ خود ایک ایسی شخصیت بن چکی تھیں جس کے نام پر فلم کی کامیابی کی امید وابستہ کی جا سکتی تھی۔
اور یہی وہ مقام ہے جہاں صائمہ نور کی کہانی محض فلمی تاریخ کا ایک باب نہیں رہتی، بلکہ پاکستانی سینما میں ایک اداکارہ کی مستقل مزاجی، بدلتے ہوئے حالات سے مطابقت اور اپنی پہچان بنانے کی جدوجہد کی داستان بن جاتی ہے۔
ڈسکلیمر:
یہ معلومات مختلف آن لائن ذرائع سے حاصل کی گئی ہیں اور صرف اور صرف تفریحی و معلوماتی مقاصد کے لیے پیش کی جا رہی ہیں۔ اس پوسٹ کا مقصد کسی فرد، ادارے، نظریے یا واقعے کے بارے میں حتمی رائے قائم کرنا یا کسی مخصوص نقطۂ نظر کی تائید کرنا نہیں۔ قارئین و سامعین سے گزارش ہے کہ وہ اس مواد کو اپنی صوابدید اور فہم کے مطابق دیکھیں

Leave a Comment