
کیا سلطان راہی کو اپنی م۔و۔ت کا پتہ چل چکا تھا؟ کیا وہ جانتے تھے کہ ان کے ساتھ کچھ ہونے والا ہے؟ یقیناً یہ راز صرف وہی بتا سکتے جو تقریباً ہر وقت ان کے ہم سایہ رہا کرتے تھے۔ مصطفیٰ قریشی بلاشبہ ایک لیجنڈ فنکار ہیں، پرائیڈ آف پرفارمنس ہیں۔ ان کی وجہ شہرت میں سے ایک ان کی آن سکرین جوڑی تھی جو 27 سالوں پر محیط رہی اور اس جوڑی نے باکس آفس پر راج کیا۔ سلطان راہی اور مصطفیٰ قریشی کی جوڑی۔
یہ دونوں فنکار سکرین پر تو زیادہ ترین ہیرو اور ولن کے رولز میں ہی نظر آتے تھے لیکن حقیقی زندگی میں جگری یار تھے۔ جب 27 سال کا ساتھ ہو تو تعلق بھی حقیقی ہو جاتا ہے۔ دل کا ہر دکھ درد شئیر کرتے تھے۔ مصطفیٰ قریشی، راہی کے آخری دنوں کی باتیں کرتے ہوئے کہتے ہیں راہی آخری دنوں میں بہت جلد باز fast ہوگیا تھا، وہ ہر بات کر کہتا جلدی کرو جلدی۔ ڈنکا جا ریا اے۔ جلدی کرو۔ یہ الفاظ اس کے منہ سے نکل جاتے تھے۔ جیسے کوئی عادت ہو۔ حالانکہ اس سے پہلے وہ کبھی ایسا نہیں کرتا تھا۔ میں اکثر اس سے پوچھتا تھا کہ تجھے کیا ہو گیا ہے لیکن وہ کہی ان سنی کردیتا تھا۔ آخری بھی شونٹگ کا واقعہ تھا کہ سین یہ تھا کہ سلطان راہی آذان دے رہے ہیں اور مخالفین ان پر گولیاں چلا رہے ہیں اور وہ مصطفیٰ ان گولیاں کو اپنے سینے پر روک رہے ہیں، اس سین میں سلطان راہی نے اپنی آواز میں آذان دی۔ اس سین کے دوران بھی راہی پھر وہی باتیں جلدی کرو جلدی کرو۔ ڈنکا جا ریا اے کرنے لگا۔ میں اسے روک کر اپنے پاس بٹھایا اور پوچھا یار مینوں دس کیہ مسئلہ اے
کوئی پریشانی ہے تے دس۔ شئیر کر تاکہ میں تیری مدد کرسکاں یا کوئی مشورہ دے سکاں
سلطان راہی کچھ بولنے لگے کہ یار دراصل گل اے وے۔۔ کہ اتنے بھی ہی سیٹ پر چونکہ مجمع تھا تو آٹوگراف لینے والے مداح آگئے۔ وہ گئے تو پھر راہی بولنے لگا تو ڈائریکٹر نے آواز لگا دی کہ شوٹ ریڈی ہے آجائیں۔ تو مصطفیٰ قریشی کہتے ہیں کہ میں راہی سے کہا کہ پیک اپ کے بعد یا تو میرے گھر آجائیں یا میرے ترے گھر چکر لگاتا ہوں پھر بات کرتے ہیں۔
بس راہی کچھ نہ بولے اور سر ہاں میں ہلایا۔ اسی رات وہ اسلام آباد چلے گئے اور وہاں سے واپسی پر انہیں نشانہ بنا دیا گیا۔ مصطفیٰ قریشی کے بقول شائد سلطان راہی جانتے تھے کہ ان کے ساتھ کچھ ہونے والا ہے