
دلدار کی باتیں
اخلاق احمد تارڑ سیکرٹری ایکسائز پنجاب تھے , اُنہوں نے دلدار پرویز بھٹی کے بہنوئی کو معطل کر دیا,دلدار بھٹی اُن سے ملنے گئے, ساتھ مجھے بھی لے گئے , اُنہوں نے اُن سے کہا ۔۔
سر آپ نے جس ایکسائز انسپکٹر کو معطل کیا وہ میرا بہنوئی ھے , ازراہِ کرم اُسے بحال کر دیں ۔۔
سیکرٹری ایکسائز غصے سے بولے ۔۔
دلدار، تینوں پتہ اے اوہ بہت رشوت لیندا اے ۔۔
دلدار بھٹی بولا ۔۔
سر جی اوہ ساہڈے کولوں پین (بہن) لے گیا اے تُسی رشوت لین دی گل کر رئے او ۔۔
یہ سُنتے ھی سیکرٹری ایکسائز نے ایک زور دار قہقہہ لگایا اور فرمایا ۔۔
جا بھٹی میں تیرے ایس جُملے دے صدقے اوہنوں بحال کیتا ۔۔
( توفیق بٹ)
میں ایک دن شملہ ہئیر ڈریسر کی دوکان ( جو کہ نیو بٹ سویٹس گڑھی شاہو لاھور کے سامنے سڑک کی دوسری جانب واقع ہے ) میں بیٹھا کٹنگ کیلیے اپنی باری کا انتظار کر رہا تھا اسی اثناء میں مرحوم جمیل بسمل صاحب وہاں تشریف لاۓ اور بیٹھ کر خوش گپیوں میں مصروف ہوگۓ ۔ باتوں باتوں میں دلدار پرویز بھٹی صاحب کا ذکر شروع ہو گیا جیسے ہی دلدار صاحب کا نام لیا گیا ویسے ہی جمیل بسمل صاحب نے رونا شروع کر دیا اور پھر وہ تقریباً دس منٹ تک زار و قطار روتے رہے ۔پھر جب دل کا غبار کچھ کم ہُوا تو ہمارے بار بار کہنے پر انھوں نے جو واقعہ بیان کیا وہ حاضرِ خدمت ہے
بسمل صاحب کہتے ہیں کہ میری بیٹی کی شادی تھی میں نے اپنی حیثیت سے بڑھ کر اپنی بچی کیلیے جہیز تیار کیا اور ہم لوگ جہیز کی تیاری میں ایسے جُتے کہ ہوش ہی نہ رہا کہ کب پیسے ختم ہو گۓ ( کم رہ گۓ ) اب ہمیں پریشانی ہوئی کہ ابھی کھانے ، کیٹرنگ اور لائٹ ڈیکوریشن کا خرچہ وغیرہ کیسے پورا ہو گا ( یاد رہے یہ 80 کی دہائی کی شروعات تھی تب زیادہ تر شادیوں کا انتظام کھلی گراؤنڈز وغیرہ میں کیا جاتا تھا )
ایک دن میں نے اپنی بیوی سے کہا کہ کسی رشتہ دار سے پیسے مانگ لیتے ہیں لیکن اس میں ایک قباحت تھی کہ رشتہ دار بعد میں طرح طرح کی باتیں بناتے اس لیے اس بات کو رَد کر دیا گیا
پھر یار دوستوں کا ذکر چھڑا تو سب سے پہلے میرے ذہن میں دلدار بھٹی کا نام آیا تو شام کو ہم میاں بیوی دلدار بھٹی کے گھر چلے گۓ۔ بھٹی نے بڑی خاطر مدارت کی ، اسکے بعد اُس نے پوچھا جمیل بھائی کیسے آنا ہُوا تو ہم دونوں میاں بیوی ایک دوسرے کی شکل دیکھنے کے علاوہ کچھ بھی نہ بول سکے
اور خاموشی سے ایک دوسرے کو تکتے رہے اسی اثناء میں بھٹی نے پوچھا کہ ہماری بِٹیا رانی کا کیا حال ہے تو میں ہمت کر کے صرف اتنا ہی بول پایا کہ اس کی شادی کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔ اتنا سُن کر بھٹی کچھ لمحے مجھے اور میری بیگم کے چہرے کو دیکھتا رہا اور پھر بولا “جمیل بھائی ،دِھیاں سب دیاں سانجھیاں ہوندیاں نیں۔ پریشان نہیں ہونا اگر کسی چیز کی ضروت ہو تو مجھے بتا دینا”
لیکن اتنا سُننے کے بعد بھی میں بھٹی کے سامنے اپنے آنے کا مُدعا بیان نہ کر سکا اور ہم دونوں میاں بیوی گھر واپس آ گۓ۔ ہم دونوں ہی خاموش تھے اور سوچ رہے تھے کہ اب ہمارا کیا بَنے گا ڈیڑھ لاکھ روپے کا بندوبست کیسے ہوگا ( اُن دنوں ڈیڑھ لاکھ بڑی رقم ہوتی تھی)
جیسے تیسے کر کے رات کٹی صُبح ابھی ہم ناشتے کی تیاری کر رہے تھے کہ کسی نے ڈور بیل بجائی۔ میں اُٹھ کر گیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ بھٹی مُنہ لٹکاۓ میرے سامنے کھڑا ہے۔ میں اُسے دیکھ کر سٹپٹاگیا کہ یااللہ کیا ماجرا ہے ، یہ ہر وقت ہنسنے مسکرانے والا بندہ اتنا افسردہ کیوں ہے۔
میں نے پوچھا، بھٹی خیریت ہے اتنی صُبح کیسے آنا ہُوا تَو وہ اسی طرح مُنہ لٹکاۓ ہُوۓ بولا، جمیل بھائی مجھے ناشتہ کرنا ہے آپ لوگوں کے ساتھ، تو میں اُس کھینچ کر اندر لے آیا یہ کہتے ہُوۓ کہ تیرا اپنا گھر ہے چل آجا مِل کر ناشتہ کرتے ہیں۔
جب ناشتہ آ گیا تو بھٹی نے ہم دونوں کی طرف دیکھا اور رونا شروع کر دیا ہم دونوں گھبرا گۓ۔ یااللہ خیر ، کچھ بتاؤ تو سہی کہ آخر ماجرا کیا ہے
تو بھٹی بولا ،جمیل بھائی آپ مجھے غیر سمجھتے ہیں؟
میں نے کہا نہیں تو ، پر تم کیوں ایسا سوچ رہے ہو تو بھٹی نے کہا کیا تمھاری بیٹی میری بیٹی نہیں کل آپ لوگوں نے مجھے کچھ نہیں بتایا لیکن آپ لوگوں کی خاموشی مجھے سب کچھ بتا گئی ، میں اپنی بیٹی کیلیے ایک چھوٹا سا نذرانہ لایا ہوں یہ آپ لوگوں کو قبول کرنا پڑے گا اور اس کے ساتھ ہی اس نے اپنے ہاتھ میں پکڑے ہُوۓ تھیلے میں سے کاغذ کے چند لفافے نکالے جو کہ ظاہری طور پر نوٹوں سے بھرے ہُوۓ تھے
میں صرف اتنا ہی بول سکا کہ بھٹی اللہ تمھیں اس کا اجر دے گا اور جیسے جیسے میرے پاس پیسے آئیں گے میں تمھیں لوٹا دوں گا تو بھٹی نے کہا جمیل بھائی یہ میں نے آپ کو نہیں دئیے بلکہ اپنی بِٹیا رانی کیلیے دئیے ہیں ان کو واپس کرنے کا سوچنا بھی مَت ۔ ناشتے کے بعد بھٹی واپس چلا گیا تو ہم نے وہ پیسے گِنے تو وہ پورے دو لاکھ روپے تھے۔
ہم دونوں میاں بیوی کافی دیر تک روتے اور اپنے پروردگا کا شُکر ادا کرتے رہے۔آج اپنے اُس محسن کا نام سُن کر میری آنکھوں سے آنسو اپنے آپ ہی جاری ہو گئے۔
(ناصر بٹ)