وہ وقت کہ جب پاکستان فلم انڈسٹری کی سفید ہرنی ریما خان کو بھارتی فلم کرش میں اہم رول کی آفر ہوئی تھی۔۔۔

ریما خان پاکستانی سینما کا وہ تابناک اور چمکتا ہوا ستارہ ہیں جن کے حسن و جمال اور جادوئی اداکاری کا موازنہ اکثر بالی ووڈ کی خوبصورت ترین اداکارہ ایشوریا رائے سے کیا جاتا رہا ہے۔ انہوں نے نہ صرف سلور اسکرین پر اپنی فنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا، بلکہ ہدایت کاری اور ٹی وی میزبانی کے میدان میں بھی بے مثال کامیابی حاصل کی۔ ریما خان نے اپنے فلمی سفر کی ابتدا محض ایک چائلڈ آرٹسٹ کے طور پر سن 1985 میں ریلیز ہونے والی فلم “قسمت” سے کی تھی۔ اس کے بعد سال 1990 میں ہدایت کار جاوید فاضل کی فلم “بلندی” سے انہوں نے بطور مرکزی ہیروئن سلور اسکرین پر قدم رکھا۔ اس فلم میں ان کے مدِ مقابل شان شاہد نے بھی ڈیبیو کیا، اور یہ نئی جوڑی آگے چل کر پاکستان فلم انڈسٹری کی تاریخ کی کامیاب ترین جوڑیوں میں شمار ہوئی۔ نوے کی دہائی میں ریما لالی ووڈ کی نمبر ون ہیروئن بن کر ابھریں اور اپنے شاندار کیریئر کے دوران 200 سے زائد فلموں میں لازوال اداکاری کے جوہر دکھائے۔ ان کی مشہور ترین فلموں میں “هاتھی میرے ساتھی” (1993)، “نکاح” (1998)، “مجھے چاند چاہیے” (2000)، “فائر” (2002)، “شرارت” (2003)، اور “کوئی تجھ سا کہاں” (2005) شامل ہیں۔ انہوں نے خود کو صرف اداکاری تک محدود نہیں رکھا، بلکہ فلم سازی کے مشکل اور تخلیقی میدان میں بھی طبع آزمائی کی۔ سن 2005 میں انہوں نے سپر ہٹ فلم “کوئی تجھ سا کہاں” کی نہ صرف کہانی لکھی بلکہ اسے خود ڈائریکٹ اور پروڈیوس بھی کیا۔ اس کے بعد 2011 میں ان کی دوسری فلم “لو میں گم” بطور ڈائریکٹر اور پروڈیوسر سینما گھروں کی زینت بنی۔ شادی کے بعد امریکہ منتقل ہونے کے باوجود وہ میڈیا انڈسٹری اور اپنے چاہنے والوں سے جڑی رہیں۔ انہوں نے ٹیلی ویژن کے کئی بڑے اور مقبول شوز کی میزبانی کے فرائض سر انجام دیے۔ ان کے معروف شوز میں کوئز شو “کروڑوں میں کھیل”، مختلف چینلز پر نشر ہونے والی مقبول رمضان ٹرانسمیشنز، اور سال 2023 میں مزاح اور تفریح سے بھرپور ٹاک شو “مذاق رات” کی شاندار میزبانی شامل ہے۔ ریما کا تعلق ایک معزز قزلباش خاندان سے ہے۔ ان کے والد ایک ریٹائرڈ گزٹڈ آفیسر تھے جنہوں نے بعد میں وکالت کا پیشہ اختیار کیا، جبکہ ان کی والدہ ایک ہاؤس وائف ہیں؛ ان کے بہن بھائیوں میں تین بہنیں اور ایک بھائی شامل ہیں۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم کانونٹ اسکول ملتان سے حاصل کی، میٹرک کے بعد لاہور سے ہائر ایجوکیشن مکمل کی، اور سال 2011 میں معروف سرجن ڈاکٹر طارق شہاب کے ساتھ رشتہ ازدواج میں منسلک ہو کر مستقل طور پر امریکہ شفٹ ہو گئیں۔ سن 2006 کے ‘زی سینے ایوارڈز’ (Zee Cine Awards) میں ریما نے پاکستانی ثقافت اور روایات کا پاس رکھتے ہوئے ‘بیک لیس گھاگرا’ پہننے سے صاف انکار کر دیا تھا۔ اس کے علاوہ ایک پرانے انٹرویو میں انہوں نے انکشاف کیا تھا کہ 2004 میں بھارتی ہدایت کار راکیش روشن نے انہیں اپنی بلاک بسٹر فلم “کرش” (Krrish) میں ایک اہم کردار کی پیشکش کی تھی، جسے انہوں نے قبول نہیں کیا تھا۔ وہ سارک (SAARC) کانفرنس میں پاکستان کی نمائندگی بھی کر چکی ہیں، جہاں انہوں نے بھارتی اداکارہ منیشا کوئرالا اور پونم ڈھیلون کے ساتھ دونوں ممالک کے درمیان ثقافتی تعاون کو فروغ دینے پر تفصیلی گفتگو کی۔ آج اگرچہ ریما خان باقاعدہ فلموں سے دور ہیں، لیکن وہ ٹی وی اسکرینز، فلاحی کاموں اور سوشل ورک میں بدستور انتہائی فعال اور متحرک ہیں۔

ڈسکلیمر:
یہ معلومات آن لائن ذرائع سے حاصل کی گئی ہیں اور صرف اور صرف تفریحی و معلوماتی مقاصد کے لیے پیش کی جا رہی ہیں۔ اس پوسٹ کا مقصد کسی فرد، ادارے، نظریے یا واقعے کے بارے میں حتمی رائے قائم کرنا یا کسی مخصوص نقطۂ نظر کی تائید کرنا نہیں۔ قارئین و سامعین سے گزارش ہے کہ وہ اس مواد کو اپنی صوابدید اور فہم کے مطابق دیکھیں

Leave a Comment