
“مہاراشٹرا کے ایک گاؤں میں شام 7 بجتے ہی ایک سائیرن بجایا جاتا ہے۔ جس کے بعد سارے گاؤں والے ایک حیران کن کام کرتے ہیں۔
سائیرن بجتے ہی وہ ٹی وی آف کر دیتے ہیں، موبائل فونز آف کر دیتے ہیں اور انہیں گھروں میں رکھ دیتے ہیں۔ اور کئی دہائیوں پہلی والی عادت—یعنی شام ہوتے ہی گھروں سے باہر نکل آتے ہیں۔
اس کا فائدہ بالکل ایسے ہی ہوتا ہے کہ یہ گاؤں والے اپنے آس پاس کی خیر خبر رکھتے ہیں اور انہیں اب طبیعت کا پتہ کرنے کے لیے فون نہیں کرنا پڑتا، بلکہ وہ روزانہ شام کو ملتے ہیں اور ایک دوسرے کا حال احوال پوچھتے ہیں۔
اس گاؤں کے سرپنچ اور بڑوں نے جب دیکھا کہ ہم اور ہماری نئی جنریشن (نسل) ایک دوسرے سے دور ہو رہے ہیں، تو پھر انہوں نے اس کی وجہ موبائل فون کا حد سے زیادہ استعمال دیکھی۔ اور اس کے بعد انہوں نے اس کا خوب حل بھی نکال لیا۔
(ویسے) پاکستان کے دیہات میں بھی ایسا ممکن تو ہو سکتا ہے، مگر ایسا دیکھنے میں…”