نوے سال تک گھوڑا پٹڑی پردوڑتا رہا پاکستان کی تاریخ کی انوکھی ٹرین۔۔۔

پاکستان کی تاریخ کی انوکھی ٹرین! 90 سال تک گھوڑا پٹڑی پر دوڑتا رہا، آج تاریخی ورثہ زبوں حالی کا شکار!

کیا آپ جانتے ہیں کہ پاکستان میں ایک ایسی ٹرین بھی چلتی تھی جس کا انجن نہ بجلی سے چلتا تھا، نہ ڈیزل سے اور نہ ہی بھاپ سے؟ بلکہ اسے ایک گھوڑا کھینچتا تھا!

یہ منفرد گھوڑا ٹرین ضلع فیصل آباد کے تاریخی گاؤں گنگاپور میں چلتی تھی، جسے معروف انجینئر سر گنگا رام نے آباد کیا تھا۔
**1898ء میں اس منصوبے پر کام شروع ہوا سر گنگا رام نے اپنی زمینوں تک آبپاشی کی مشینری پہنچانے کے لیے یہ منفرد ریلوے ٹریک تعمیر کروایا، جبکہ 1903ء میں اس پر باقاعدہ سروس شروع ہوگئی۔
تین کلومیٹر طویل ٹریک، صرف دو فٹ چوڑائی!

یہ ٹریک گنگاپور کو بچیانہ ریلوے اسٹیشن سے ملاتا تھا۔ لکڑی کی ایک مخصوص ٹرالی لوہے کی پٹڑی پر چلتی اور اسے ایک گھوڑا کھینچتا تھا۔ بعد میں یہ ٹرین مقامی لوگوں کے لیے بھی آمدورفت کا ذریعہ بن گئی۔
ایک ٹرالی میں 15 مسافروں کی گنجائش تھی۔

لیکن اس ٹرین کا سب سے حیران کن انتظام اس وقت سامنے آتا جب مخالف سمتوں سے دو ٹرالیاں ایک ہی پٹڑی پر آجاتی تھیں۔ درمیان میں مخصوص مقام پر دونوں ٹرالیاں رکتی تھیں، مسافروں اور گھوڑوں کا تبادلہ کیا جاتا تھا اور پھر دونوں ٹرالیاں اپنی اپنی منزل کی طرف روانہ ہو جاتی تھیں۔
90 سالہ سفر کا اختتام!

یہ منفرد ٹرین 1903ء سے 1993ء تک تقریباً 90 سال چلتی رہی۔ پہلی مرتبہ سروس بند ہونے کے بعد 2009ء سے 2010ء کے دوران اس کی بحالی کی کوشش کی گئی۔ تقریباً 56 لاکھ روپے خرچ کرکے اسے دوبارہ چلایا گیا اور 9 مارچ 2010ء کو اس کا افتتاح ہوا۔

مگر یہ بحالی زیادہ دیر برقرار نہ رہ سکی۔ ٹریک کی خرابیوں اور دیگر مسائل کے باعث 2014ء میں یہ سروس دوبارہ بند ہوگئی۔

آج سر گنگا رام کی یہ منفرد تخلیق ہماری تاریخی یادوں کا حصہ ہے، مگر اس کی بحالی اور حفاظت ایک بڑا سوال ہے۔

سوچیے! دنیا جدید ٹرینوں کی طرف بڑھ رہی ہے، لیکن ہمارے پاس ایک ایسی تاریخی ٹرین تھی جسے صرف ایک گھوڑا کھینچتا تھا اور جو تقریباً ایک صدی تک لوگوں کی سفری ضرورت پوری کرتی رہی۔

کیا گنگاپور کی اس تاریخی گھوڑا ٹرین کو دوبارہ چلایا جانا چاہیے؟ اپنی رائے کمنٹ میں ضرور دیں

Leave a Comment