کئی ناموں اور چہروں والی چالباز لڑکی۔۔۔

آپ کا ملایا ہوا نمبر فی الحال دوسری لائن پر مصروف ہے : کئی ناموں اور چہروں والی لڑکی کے ساتھ ایک محنت کش کی شادی اور بربادی کی حیران کن سچی کہانی :فیاض لاہور کے علاقہ نواب ٹاؤن میں ایک ریسٹورنٹ پر کام کرتا تھا جب اسکی ملاقات شمائلہ سے ہوئی جو غالبا وہاں کھانا کھانے آئی تھی دوسری ملاقات میں شمائلہ نے فیاض کو اپنے دام میں پھنسا لیا تو پتہ چلا اسکا نام زلیخا ہے ۔۔ملاقاتیں شروع ہو گئیں ۔ اس لڑکی نے وہ جادو چلایا کہ کچھ ہی ہفتوں بعد فیاض شمائلہ یا زلیخا سے شادی کا متمنی ہوا ۔ شمائلہ اصل میں پہلے دو شوہر بھگتا چکی تھی ، ہر شوہر کے ساتھ 2 سال رہی اور اب فیاض کی باری تھی ، فیاض نے گاؤں میں اپنے گھر والوں سے رابطہ کیا اور انہیں لاہور پہنچنے کی درخواست کی تاکہ وہ اسکی شادی میں شریک ہوں ۔ لڑکی کے بارے جان کر فیاض کی والدہ نے اسے نصیحت کی کہ یہ لڑکی مصیبت ہے تمہارے لیے کبھی اچھی بیوی ثابت نہیں ہوگی تم جلدی نہ کرو ہم اس سے لاکھ درجہ بہتر لڑکی ڈھونڈ کر تمہاری شادی کریں گے ، لیکن فیاض پر زلیخا کے جلوے سوار تھے جو اسکی عقل اور سوچ سمجھ پر حاوی تھے ۔ چند ہفتوں بعد شادی ہو گئی ۔ ایک شادی ہال میں چھوٹی سی تقریب ہوئی دلہن کی طرف سے صرف زلیخا خود تھی اور کوئی ایک رشتہ دار نہ تھا جب کہ فیاض درجن بھر رشتہ داروں کے ساتھ وہاں موجود تھا ۔ نکاح سے پہلے بھی ماں نے اسے منع کیا ۔ مگر فیاض کا جواب تھا میں اس سے پیار کرتا ہوں اور مجھے اس پر یقین ہے ۔ فیاض دلہن کو اپنے مکان پر لے آیا ۔ رات کو جب کمرے میں گیا تو زلیخا کا موڈ خراب تھا وہ کمرے میں ٹہلتی رہی فیاض اسکے انتظار میں بیڈ پر لیٹا لیٹا سو گیا ، فجر کے وقت زلیخا نے اسے جگایا اور کہا ہماری سہاگ رات ہے کچھ توجہ میری طرف بھی کرو ۔۔۔ دو دن گزرے فیاض واپس کام پر جانے لگا مگر یہ جب فون کرتا ایک ہی جواب ملتا آپ کا ملایا ہوا نمبر دوسری لائن پر مصروف ہے ، رات کو گھر جاکر فیاض نے زلیخا کے فون پر ریکارڈنگ آن کردی ، وہ رات گزری اگلے روز جب یہ ڈیوٹی سے واپس گھر آیا اور زلیخا کا موبائل چیک کیا تو اسکی اپنے سابق شوہر کے ساتھ کئی کالز کی ریکارڈنگز موجود تھیں ، یہ ریکارڈنگز سن کر فیاض نے سر پکڑ لیا ، میاں بیوی والی تمام باتیں اور تفصیلات مزے لے کر زلیخا نے سابق شوہر کے ساتھ شیئر کی تھیں ۔۔۔ فیاض نے بیوی سے بازپرس کی اور اسے اپنی ہی ریکارڈنگ سنائی تو وہ رونے لگی اور اپنی غلطی کی معافی مانگنے لگی ۔ فیاض خاموش ہو گیا اس نے بیوی کو معاف کردیا ، اگلے روز یہ ڈیوٹی پر گیا تو زلیخا نے تھانہ نواب ٹاؤن میں اسکے خلاف مارپیٹ کی درخواست دے دی ، فیاض کو ہوٹل سے گرفتار کیا گیا ، 2 دن حوالات میں گزار کر اپنے ہوٹل مالک کی مدد سے اس نے جان چھڑائی اس دوران زلیخا نہ جانے کہاں رہی کچھ علم نہیں ۔۔۔ فیاض کو یقین ہو گیا اسکی ماں نے ٹھیک کہا تھا اسکی محبت کا چمن اجڑ چکا تھا ، مگر دو دن بعد زلیخا پھر واپس آئی رو رو کر فیاض سے معافی مانگی ، شاید محبت میں کچھ اثر باقی تھا فیاض نے اسے پھر سینے سے لگا کر اعتبار کر لیا ،،، چند دن گزرے ( یہی چند اور سابقہ چند دن ہی فیاض کو اس محبت میں کل وصول تھے ) زلیخا 3 تولے زیور لے کر رفو چکر ہوئی اور کچھ دنوں بعد فیاض کو خلع کا نوٹس مل گیا جو وصول کرکے اس نے اللہ کا شکر ادا کیا ۔۔۔۔ آنیوالے کچھ ماہ میں زلیخا نے فیاض سے کئی قسم کے مطالبات کیے ، جعلی اسٹاموں کی بنیاد پر اسے خوب بلیک ۔میل کیا اور فیاض تھانے کچہری کے دھکے کھاتا رہا ، اب وہ محبت سے توبہ تائب اپنے کام پر توجہ دیتا ہے اور شادی کے لیے اپنی ماں اور بہن بھائیوں کی طرف دیکھ رہا ہے ۔۔قوی امکان ہے کہ زلیخا اب اپنے اگلے مشن پر کام شروع کر چکی ہو گی ۔۔۔

Leave a Comment