
جھارا اگر ہیروئن کی لت میں نہ پڑتے تو اتنے جلدی اس دُنیا سے رخصت نہ ہوتے اور دیسی کُشتی بھی برقرار رہتی: جھارا پہلوان کے اُستاد اور چچا نعیم گاما پہلوان کے جھارا پہلوان بارے انکشافات ۔۔۔۔اُس سے پاکستان تو کیا غیر ممالک کے پہلوان بھی گھبراتے تھے،تب لاہور میں اللہ والے اور مجذوب پھرا کرتے تھے، ایک بھاری بھرکم مجذوب نے جھارا پہلوان کو چیلنج کیا اور کہا مجھ سے کشتی کرو تو کیا جیت جاؤ گے ،جھارا نے ہاتھ جوڑ سر جھکا کر کہا ، ہاں انشاء اللہ ضرور ۔۔۔اس پر ان مجذوب نے کہا جسکو اللہ کی ذات پر اتنا بھروسہ ہو وہ کبھی کسی سے نہیں ہار سکتا، پھر نورا کشتی کا رواج بڑھا ،لوگ دنگل کرواتے اور جھارے کے مقابل پہلوان لا کر مقابلہ برابر کروا لیتے ،لوگ جھارا کو نورا کشتی کا طعنہ دینے لگ گئے تو وہ نشے کی طرف چل پڑا اور خود کو تباہ کر لیا ، حالانکہ دور دراز سے لوگ محض جھارا کا درشن کرنے آتے تھے ۔۔۔۔
ایک زمانہ وہ بھی تھا جب’جھارا کو اکھاڑے تک پہنچنے اور واپسی کے لیے راوی کو تیر کر عبور کرنے کا حکم تھا۔ اسے رات دو بجے اٹھا دیا جاتا۔ نماز کے بعد تین ہزار بیٹھکیں لگاتا۔ پھر فرخ یےآباد سے شاہی قلعہ لاہور تک دوڑ لگاتا۔ نصف گھنٹے میں اکھاڑا گوڈ کر اسے تیار کرتا اور دو ہزار ڈنڑ پیلتا۔ اس سے فارغ ہونے کے بعد دو تنومند پہلوان اس کی پیٹھ پر سوار ہو جاتے اور وہ بھاگتا ہوا راوی پل کو چُھو کر واپس آتا۔‘
ڈسکلیمر:
یہ معلومات آن لائن ذرائع سے حاصل کی گئی ہیں اور صرف اور صرف معلوماتی مقاصد کے لیے پیش کی جا رہی ہیں۔ اس پوسٹ کا مقصد کسی فرد، ادارے، نظریے یا واقعے کے بارے میں حتمی رائے قائم کرنا یا کسی مخصوص نقطۂ نظر کی تائید کرنا نہیں۔ قارئین و سامعین سے گزارش ہے کہ وہ اس مواد کو اپنی صوابدید اور فہم کے مطابق دیکھیں