ایسی اولاد سے بہتر ہے انسان لا ولد رہے، ۔۔۔

عید کے دن اولڈ ایج ہوم میں دل دہلا دینے والا واقعہ

خاتون بتاتی ہیں کہ عید الاضحیٰ کے دن اولڈ ایج ہوم میں مقیم ایک بہت ہی پیاری انٹی کا انتقال ہو گیا۔ صبح ساڑھے چھ بجے جب دروازہ کھول کر دیکھا گیا تو ان کی سانسیں رک چکی تھیں اور وہ اس دنیا سے رخصت ہو چکی تھیں۔

جب ان کے بیٹوں اور گھر والوں کو فون پر والدہ کے انتقال کی اطلاع دی گئی تو انہوں نے انتہائی سرد مہری کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا:

“ابھی تو ہم عید کی قربانی اور تقریبات میں مصروف ہیں، جب شام کو فارغ ہوں گے تب آئیں گے تاکہ عید کا مزہ خراب نہ ہو!”

گھر والوں کے نہ آنے پر انٹی کی م ی ت کو رات بھر اے سی والے کمرے میں رکھا گیا۔ بار بار فون کرنے کے باوجود وہ عید کی مصروفیت کا عذر پیش کرتے رہے اور کہا کہ انہیں ابھی تدفین کے لیے مت اٹھائیں تاکہ وہ ڈسٹرب نہ ہوں۔

جب بالآخر گھر والے آئے اور انہوں نے اپنی ماں کے بے جان جسم کو دیکھا تو سب کی آنکھیں نم ہو گئیں اور وہ ندامت سے بھر گئے۔ وہاں موجود تمام لوگوں کی آنکھیں اشک بار ہو گئیں اور سب نے اپنی ماؤں کو یاد کیا۔

خاتون روتے ہوئے کہتی ہیں کہ یہ ماں وہ ہستی ہیں جو اولاد کی خوشیوں اور زندگی کے لیے دعائیں کرتی ہیں۔ انہوں نے سب سے اپیل کی کہ اپنی ماؤں کی قدر کریں، ان کے جیتے جی ان سے ملیں اور آخری وقت میں انہیں تنہا نہ چھوڑیں کیونکہ ماں جیسی نعمت دنیا میں دوبارہ نہیں ملتی۔

Leave a Comment